ڈاکٹر عباس نیئر کے پوسٹ ڈاکٹرل مقالہ کی اشاعت

ڈاکٹر عباس نیئر کے پوسٹ ڈاکٹرل مقالہ کی اشاعت

ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کو اوری اینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں چلتے پھرتے دیکھیں تو دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایم اے پارٹ ٹو کے طالبعلم ہونگے۔ ڈاکٹر صاحب کو اللہ نظربد سے بچائے۔ بہت سمارٹ دکھائی دیتے ہیں‘ لیکن ان کے کام نے ان کی عمر میں اضافہ کر دیا ہے۔ ابوالکلام آزاد کو جب کوئی شخص عمر رسیدہ‘ باریش اور سفید بالوں والی 72 سالہ علمی ادبی شخصیت سمجھ کر ان سے عقیدتاً ملاقات کرنے کی خواہش لیکر گیا تھا تو گھر سے ایک ایسا نوجوان برآمد ہوا جس کی ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں۔ اس شخص نے کہا ’’ابوالکلام سے ملاقات ہو سکتی ہے۔‘‘ نوجوانوں نے جواب دیا خاکسار ہی کا نام ابوالکلام آزاد ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیئر صاحب کی کتابیں دیکھیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ موصوف ستر کے پیٹے میں ہونگے۔ داڑھی بھی ہوگی اور سر کے بال بھی اڑ چکے ہونگے۔
ڈاکٹر صاحب نے لسانیات‘ ساختیات‘ پس ساختیات کے حوالے سے کام کیا ہے۔ ان کی نئی کتاب ’’ثقافتی‘ شناخت اور استعماری اجارہ داری (نوآبادیاتی عہد کے اردو‘ نصابات کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ) کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب کی پوسٹ ڈاکٹرل تحقیق کا ثمر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہائیڈل برگ یونیورسٹی (جرمنی) سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیئر صاحب نے اپنے مقالے میں نوآبادیاتی عہد کے اردو نصابات کے حوالے سے بحث کی ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہندوستان کو غلام بنانے والی انگریز حکومت کا مقصد یہ تھا کہ اس سونے کی چڑیا سے تجارتی کامیابیاں حاصل کی جائیں اور اس کے ساتھ سیاسی اقتدار میں توسیع اور استحکام کی راہ ہموار کی جائے۔ تعلیم ہی ایک ایسا اوزار تھا جس کے ذریعے غلبہ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ ہندوستانیوں کی تعلیم پر خطیر رقم خرچ کرنے کو کمپنی نے بے حد اہم گردانا۔
چارلس گرانٹ نے 1790ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستانی لوگوں کی جہالت اور ان کے اجڈ پن کا تذکرہ کیا اور برطانوی حکومت کو ہندوستانیوں کو تعلیم دینے پر آمادہ کیا اور ساتھ ہی انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کے علاوہ انگریزی زبان ادب کے نصاب کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیا۔ انگریزی تعلیم سرکاری ملازمت کی بنیادی قابلیت تھی۔ استعمار کا مقصد تعلیم کے ذریعے ذہنی صلاحیتوں کی دریافت اور فطری روحانی صلاحیتوں کو جلا بخشنا نہیں تھا۔ اس کا مقصد صرف استعماری نظام کے کل پرزے پیدا کرنا تھا۔
مغرب نے پہلے برصغیر پر تسلط جمایا۔ پھر اسی ماحول سے علم پیدا کیا۔ اس کے پیچھے طاقت اور اجارے کی غرض و غایت شامل تھی۔
اجارہ طاقت ہی کا دوسرا نام ہے۔ اجارے میں اجارہ زدہ اپنے خیالات و نظریات ترک کرنے پر راضی ہو جاتا ہے۔ اجارہ زدہ کے پر تو کاٹ لئے جاتے ہیں‘ وہ خود سے اپنا آقا تسلیم کر لیں اور اپنے مزاحمتی جذبے کو ختم کر دیں۔ انگریز حکمران مقامی ہندوستانیوں کو باور کراتے تھے کہ وہ جاہل‘ وحشی‘ ناکارہ اور جانور ہیں لہٰذا تعلیم کے ذریعے انہیں مہذب انسان بنایا جائے گا۔ انگریزی عہد کی نصابی کتب میں ڈپٹی نذیر احمد کے مضمون ’’دلی کے مسلمانوں کی سوسائٹی‘‘ میں لکھا ہے ’’یہ تو ممکن ہی نہیں کہ آدمی مشن سکول میںنہ سہی‘ کہیں بھی انگریزی پڑھے اور اس کے خیالات ویسے کے ویسے ہی رہیں۔‘‘ انگریزوں نے عربی‘ فارسی اور سنسکرت کو پسماندہ اور انگریزی کو نیا اور نئے علوم کا سرچشمہ قرار دیا۔ نوآبادیاتی عہد کے نصابات کے ذریعے نئی نسل کو انگریز حکمرانوں کے علم پرور‘ انصاف پسند اور مخلص ہونے کا سبق پڑھایا جاتا تھا۔
ڈاکٹر ناصرنے کیمیائے حکمت (حصہ اول) (1897) کی حکایات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علم کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ انگریز سرکار میں عہدہ جلیلہ پایا جائے۔
اس کے علاوہ ’’……القواعد‘‘ ‘ ’’فن زراعت کی پہلی کتاب‘‘ مبادی الحساب (حصہ اول)‘ ’’زبدۃ القواعد‘‘ ’’امان الغات‘‘ ’’مکتب نامہ اردو‘‘ اور اس طرح کی بہت سی کتب کا تعارف کروایا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے پرنس ایڈر حصہ چہارم کے 55 اسباق کا تذکرہ کیا ہے۔ کتاب کے متن سے پہلے ملکہ الزبتھ اور شہنشاہ جارج پنجم کی تصویریں ہیں۔ دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’ان درجوں کے لڑکوں‘‘ میں حب وطن‘ اطاعت بادشاہ‘ امداد باہم و حر‘ ہم دردی‘ رحم دلی‘ انسانیت وغیرہ کے جذبات پیدا کرنے کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا بھیس یہ ہے کہ فاتح حکمران بچوں کو اپنی اطاعت کا درس دیتے ہیں اور حکومت عوام کی خیرخواہی اور بھلائی کا ڈھول پیٹتی نظرآتی ہے۔
ڈاکٹر ناصر عباس کی یہ کتاب ہمیں اس بات پر غور کرنے پر اکساتی ہے کہ ہمیں جو چیز شہد سمجھ کر پلائی جا رہی ہوتی ہے اس میں زہر کی ملاوٹ بھی ہوسکتی ہے۔ یہ کتاب‘ ہم مسلمانوں کو اپنے فیصلے خود کرنے‘ اپنے بُرے بھلے کی تفہیم کرنے اور اقوام عالم میں ایک باعزت قوم بننے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بہت محنتی ہیں‘ وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس کتاب کو سنگ میل نے شائع کیا ہے۔ ہمیں تو محمد شعیب  کا  شکریہ بھی ادا کرنا ہے کہ جب ڈاکٹر صاحب کی عطا کردہ کتاب گم ہو گئی تو دوسری کتاب ’’نوائے وقت‘‘ کیلئے ڈھونڈ کر دی۔