لاہور چڑیا گھر” اکلوتے زرافے سے بھی محروم “

سدرہ کوثری
زرافہ اپنے قد و قامت کے باعث ہمیشہ سے ہی منفرد جانور رہا ہے اور پُرسکون مزاج کی وجہ سے بچے اسے بہت پسند بھی کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سمجھئے کہ لاہور چڑیا گھر میں زرافہ کی جگہ ہمیشہ خالی سی ہی رہی، جب اسے پُر کرنے کی کوشش کی گئی تو کسی نہ کسی ناگہانی کے باعث اس کی موت ہو گئی ۔
لاہورچڑیا گھر کے ڈائریکٹر شفقت علی سے دریافت کیا کہ اب تک یہاں زرافے کے قیام میں زیادہ اضافہ کیوں نہیں دیکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ تین زرافے 2007 میں منگوائے گئے جس میں دو مادہ اور ایک نر تھا۔ نر کی عمر پانچ چھ سال کے قریب تھی جبکہ مادہ زرافوں کی عمر دو سے تین سال تھی۔ زرافے کی جسامت کے باعث چھوٹی عمر کے جانور لانے میں آسانی رہتی ہے اس سے پہلے دو مرتبہ زرافے پاکستان میں آئے۔پہلی بار 1988میں زرافہ مرا اور اس کی مو ت کی وجہ پولی تھین بیگ کھانے سے ہوئی۔ 1992 میں لاہور چڑیا گھر کیلئے منگوائے گئے جانور کراچی سے لاہور زمینی راستے سے آئے تھے لیکن وہ زندہ یہاں تک نہ پہنچ سکے۔2007میں تین زرافے ہوائی راستے سے لاہور آئے اور پچھلے تجربات کی بنیاد پر مستقبل میں فیصلوں کو تبدیل کیا تاکہ چڑیا گھر میں زیادہ سے زیادہ اور نایاب جانور رکھیں کیونکہ وہ چڑیا گھر کی شان اور خوبصورتی ہیں۔
زیبرا اور زرافے ایک ہی علاقے کے ہیں ،انہیں ایک ہی پنجرے میں رکھا گیاتاکہ وہ ماحول میں ایڈجسٹ ہو سکیں۔ 2008میں ان تین زرافوں میں سے ایک مادہ مر گئی۔ اس زرافے کی موت کی وجہ نر زیبرا کا لات مارنا تھا۔ جانور محبت اور کھیل میں بھی ایک دوسرے سے شرارت کرتے ہیں یہ کھیل جان لیوا ثابت ہوا اس کے بعد دو زرافوں کو علیحدہ کر دیا گیا ۔دوسری مادہ زرافہ کی موت بھی حادثاتی تھی،2014 میں وہ پنجرے میں گھوم رہی تھی اور ایک دم لڑکھڑانے کے گرل سے ٹکرا گئی۔ زرافے کی گردن نہایت نازک ہوتی ہے ، اس کے آٹھ گھنٹوں کے بعد ہی وہ مادہ مر گئی،پھر نر زرافہ اکیلا رہ گیا تھا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں پولی تھین بیگ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جانور مرتے ہیں، یہ بیگ باغِ جناح سے یہاں آتے ہیں،ہم صفائی کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ چیل کوے وہاں پڑے بیگ اٹھا کر ادھر لے آتے ہیں اور جانوروں کے پنجروں میں گرا دیتے ہیں۔ان پر لگی چکنائی کھانے کے کچھ جانور عادی ہو جاتے ہیں اور اس کی صفائی کیلئے سویپر کے علاوہ کوئی نہیں جا سکتا۔موجودہ زرافے کی عمر لگ بھگ چودہ سال ہوگی وہ بالکل صحت مند تھا۔ اس کی موت کی وجہ حرکت قلب بند ہونا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے دیکھا گیا کہ وہ نارمل تھا۔ ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر بابر سلیم نے بتایا کہ زرافے کی خوراک بھی اسے وقت پر دی جاتی تھی اور جس قسم کے ماحول میں وہ رہتا ہے اس سے قریب تر ماحول اسے دیا جاتا ۔ خوش قسمتی سے افریقہ اور پاکستان کے موسم ملتے جلتے ہیں یہ بھی نہیں کہ پاکستان میں زرافے کا رہنا ممکن نہیں۔ اس جانور کو قدرتی ماحول دینے کیلئے مخصوص درخت لگائے گئے تاکہ وہ بآسانی شاخوں کو کھا سکے۔یہ جانور افریقہ سے آتے ہیں ، ان کی آمدو رفت اور خریدنے پر عالمی قوانین کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ایک بین الاقوامی کنونشن سی آئی ٹی ای ایس کے تحت جانور پاکستان بھی آتے ہیں۔ہر دفعہ زرافے اور دیگر جانوروں کی قیمت مختلف ہوتی ہے،اس وقت اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک زرافے کے بچے کی قیمت ستر لاکھ سے زائد ہوگی لیکن اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ بعض اوقات جس قیمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے وہ غلط بھی ہوتی ہے اور جب کوئی کنٹریکٹر جانور لاتا ہے تو وہ اس میں رسک فیکٹر کو لازماً مدِنظر رکھتا ہے۔
شفقت علی کہتے ہیں کہ کوشش ہے اس سال ہی نئے جانور چڑیا گھر لائے جائیں، کیونکہ چڑیا گھر کی آمدنی کا واحد ذریعہ ٹکٹ ہے، اخراجات ٹکٹ سے آئے پیسوں سے ہی پورے ہوتے ہیں۔ زیادہ جانور ہوں گے آمدنی بھی زیادہ ہوگی