دینی مدارس میں "لیپ ٹاپس "کی تقسیم تاریخ ساز قدم ہے

حافظ امتیاز تارڑ
"لیپ ٹاپس" کی عطائیگی سے مستقبل کے علماء قومی سطح پر روادارانہ فلاحی معاشرے کی تشکیل اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے صحیح تشخص کو اجاگر کرنے کا فریضہ زیادہ موثر انداز میں ادا کر سکیں گے۔ دینی مدارس کے طلبہ کے کندھوں پر پنجاب گورنمنٹ اور Shahbaz Sharif Initiative کے لوگو والا "لیپ ٹاپ بیگ " ان کے اعتماد میں اضافے کا باعث ہے۔
سوال:دینی مدارس میں لیپ ٹاپس کی تقسیم کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
بلاشبہ جدید عصری تناظر اور بین الاقوامی پس منظر میں موجودہ حکومت اس بات کی متمنی ہے کہ ملک میں مروّج دو متوازی نظام ہائے تعلیم (سکول ،کالجز اور دینی مدارس) کے مابین موجودہ فاصلے امکانی حد تک کم کر کے انہیں ہم آہنگ کیا جائے ۔ دینی مدارس کو عصری تقاضوں سے روشناس کرانے کی کاوشیں محض نظری اور فکری حد تک گذشتہ کئی عشروں پر محیط ہیں ،تاہم ان میں عملی اقدامات کا فقدان رہا، جس کے سبب نہ تو حکومت اور مدارس کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہو سکا اور نہ ہی یہ کاوشیں ثمربار ہوسکیں ۔ خادم اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے خطۂ پنجاب میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لیے جہاں سکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے ہونہار اور ذہین طلباء کی محنت اور صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر، نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو "لیپ ٹاپس" سے نوازا، وہیں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دینی مدارس کے درسِ نظامی کے ذہین ، قابل اور لائق طلباء وطالبات کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے "درجہ عالیہ "یعنی بی اے کی سطح پر نمایاں اور امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو بھی" لیپ ٹاپس" سے سرفراز کیا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دینی مدارس کے طلباء اپنی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کی بناء پر کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کے شانہ بشانہ آکھڑے ہوئے ۔  
سوال۔مدرسہ ایجوکیشن سسٹم کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
یہ امر بھی اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دینی مدارس اور اس کا ایجوکیشن سسٹم اپنے اندر بڑی گہرائی اور پختگی رکھتا ہے ۔ نصابِ تعلیم کے حوالے سے یقینا یہ بات معتبر ہے کہ اسے عصر حاضر سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، جس کے لیے دینی مدارس کے اپنے اپنے وفاق اور پھر ان کے اندر ان کی اپنی نصاب کمیٹیاں اور" بورڈ آف سٹڈیز" ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں، دینی مدارس میں بھی یہ سوچ اور فکر پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ موجود ہے ۔لیپ ٹاپس کی یہ عطائیگی امیداور روشنی کی وہ کرن ہے جس سے مستقبل کے علماء قومی سطح پر روادارانہ فلاحی معاشرے کی تشکیل اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے صحیح تشخص کو اجاگر کرنے کا فریضہ زیادہ موثر انداز میں ادا کر سکیں گے۔  
سوال:کیا "لیپ ٹاپس"حکومت اور مدارس کے درمیان باہمی اعتماد سازی کا ذریعہ ہے ؟
دینی مدارس کو جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ مند کرنا اور ان مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو جدید رحجانات سے روشناس کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس سے مدارس کے ذمہ داران بخوبی آگاہ ہیں ۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق راولپنڈی ، گجرات ، لاہور ، فیصل آباد اور ملتان کو مرکز بنا کر4000 لیپ ٹاپس کی تقسیم کا یہ عمل مکمل کیا گیاہے ، جو کہ یقینا لائق تحسین اور قابل صد مبارک باد ہے۔
سوال : لیپ ٹاپس "سے دینی مدارس کے طلبہ میں کیا تبدیلی آئے گی ؟
اس سسٹم نے بڑے بڑے نابغہ روزگار، عبقری اور جینئس پیدا کئے اگر نام گنوانے لگوں و شاید اخبار کے یہ صفحات کم پڑ جائیں گے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سسٹم سے صحیح معنوں میں نکلے ہوئے شخص اب دنیا کے اندر بڑی طلب اور مانگ ہے ۔ بلکہ ایک "دینی سکالر"کسی ماہر ڈاکٹر یا انجینئر یا کسی بھی پروفیشنل سے کسی طرح کم اہم نہیں، یقینا یہ تخصص کا دورہے،سپیشلائزیشن کا زمانہ ہے ۔صحیح معنوں میں کسیـ"عالم دین "کا میسر آنا بڑی غنیمت ہے ۔ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ اب ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے معروف یونیورسٹی اور نامور جامعات کا رُخ کررہے ہیں۔میں جب کسی میٹنگ یا Vivoکے لیے پنجاب یونیورسٹی جاتا ہوں تو اس کی راہ داریوں پر ، ایم فل اور پی ایچ ڈی وغیرہ کرنے والے دینی مدارس کے طلبہ کے کندھوں پرپنجاب گورنمنٹ اور Shahbaz Sharif Initiative کا لوگو والا "لیپ ٹاپ بیگ " جھول رہا ہوتا ہے، تو ان کا اعتماد دیدنی ہوتا ہے ۔ آج ایک "مکتبہ شاملہ "جس میں 20ہزار سے زائد عربی اور اسلامی کتب کا عظیم ذخیرہ آپ کو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے ۔ صرف ایک "Click"کے نتیجہ میں آپ کی دسترس بنیادی مصادر اور ماخذ تک ہوجاتی رہے ۔اسی طرح درس نظامی کی جملہ درسی کتب تک رسائی اس "لیپ ٹاپ "کے ذریعہ بآسانی ممکن ہوگئی ہے۔ گویا "لیپ ٹاپ"کی دستیابی کے بعد دینی درسیات کے لوگ جدید دنیا سے منسلک ہوچکے ہیں ان کے اندر تحقیق کے نئے جذبے پروان چڑھ رہے ہیں۔ جدید عصری علوم کی طرف وہ گامزن ہیں۔
محض محراب و منبر اور مدرسہ ہی نہیں بلکہ بلاسود بینکاری ، وفاقی شرعی عدالت ، کالجز اور یونیورسٹیز کے اسلامیات کے ادارے اوران جیسے کئی اور شعبہ جات ہیں ،جہاں دینی مدارس کے فارغ التحصیل اپنی کارکردگی کا بہتر انداز میں اظہار کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان کے اندر سے وہ محرومی ختم ہورہی ہے، جس سے انتہاپسندی جیسے جذبے پروان چڑھ رہے ہیں ۔ آج تک مدرسہ کے طالب علم کو حکومت یا ریاست نے اس انداز میں بھی اپنایانہیں تھا۔
سوال : در س نظامی کے ساتھ کس حد تک عصری مضامین کا اضافہ ممکن ہوسکتا ہے؟
علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تدریس کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے نئے مدارس بھی قائم کئے گئے ۔1979میں ڈاکٹر عبدالواحد ہالے پوتا، ڈائریکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد کی سربراہی میں علماء دین اور ماہرین تعلیم پر مشتمل جو قومی کمیٹی برائے دینی مدارس تشکیل دی گئی تھی اس نے بھی اپنی سفارشات میں دینی مدارس کے معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے درس نظامی کے روایتی مضامین کے ساتھ موزوں حد تک جدید مضامین کا اضافہ تجویز کیا۔ درجہ متوسطہ (میٹرک) میں جنرل ریاضی ، جنرل سائنس ، مطالعہ پاکستان، انگریزی اور درجہ عالیہ (بی اے) میں معاشیات ، سیاسیات اور انگریزی میں سے دو مضامین کے اضافہ کی تجویز کی۔ یہ سفارش بھی کی گئی کہ تدریس کے دوران مضامین درس نظامی کو دو تہائی اور سکول مضامین کو ایک تہائی وقت دیا جائے تاکہ اس امتزاج کے دوران دینی علوم کی تدریس متاثر نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ سفارش بھی کی گئی کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں علوم عربیہ اور علوم اسلامیہ کے نصاب کو دینی مدارس کے نصاب کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔