بہادری اور ہمت

 زارا حیدر .....گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج برائے خواتین ،چونہ منڈی ،لاہور
کسی گاﺅں میں ایک بہادر لڑکی رانو اور اُسکا چھوٹا بھائی احمدرہتے تھے۔دونوں بہت بہادر اور اچھے بچے تھے۔ گاﺅں والے اُن سے بہت پےار کرتے۔رانو کے گاﺅں کے پاس ایک جنگل تھااُس میں ایک بھیڑےا تھا۔گاو¿ں والے اُس بھیڑیئے سے بہت ڈرتے وہ بھیڑےا رات کو گاو¿ں میں آتا اور اُن کی بھیڑ بکریوں پر حملہ کر دیتا تھا۔گاو¿ں والے اس بھڑئیے کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ایک بار تو اُس بھیڑئیے نے گاو¿ں کے ایک آدمی پر بھی حملہ کر دیا ۔وہ آدمی بچ تو گےا مگر اُس کا خوف لوگوں کے دلوں میں تھا۔اور اُنہوں نے رات کے وقت باہر نکلنا ہی چھوڑ دےا۔
رانو بہت نے کہا کہ ہم سب لوگ مل کراس جنگلی بھیڑئیے کا مقابلہ کر کے اُسے بھگا سکتے ہیں۔لیکن گاﺅں والے بہت ڈرے ہوئے تھے اس لیے کوئی بھی آگے بڑھ کر رانو کا ساتھ دینے کو تےار نہ ہوا۔رانو نے فیصلہ کےا کہ وہ اکیلے ہی اس بھیڑئیے کا مقابلہ کرے گی۔اُس کا چھوٹا بھائی بھی رانو کی مدد کے لیے تےار ہو گےا۔دونوں بہن بھائی مل کر ایک جال تےار کرنے لگے۔
رانو اور اُس کے بھائی کی ہمت اور حوصلے کو دیکھ کر گاﺅں والوں میںبھی ہمت پیدا ہوئی اور وہ بھی رانو کا جال بنانے میں ہاتھ بٹانے لگے۔اس طرح سب گاو¿ں والوں نے مل کر جال بنا لےا،جال پر بہت سے پتے اور ٹہنیاں بچھا دیں۔ایک گڑھا کھودا اور اُس پر جال بچھا دےا۔رات کو گاﺅں والوں نے گوشت کے ٹکڑے جمع کئے اور جال پر ڈال دیئے اورہاتھوں میں لاٹھےاں لے کر چھپ گئے۔رانو بھی اپنے بھائی کے ساتھ درخت پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔جیسے ہی رات ہوئی بھیڑےا گاو¿ں کی طرف نکل آّےا۔گوشت کی خوشبو سُونگھ کر اُس نے جال کی طرف چھلانگ لگائی۔جےسے ہی اُس کے پاﺅں جال پر پڑے وہ اُس گڑھے میں جا گرا۔اتنے میں سارے گاﺅں والے لاٹھےاں لے کر اُس بھیڑئیے کو مارنے کے لئے دوڑے۔سب نے مار مار کر بھیڑئیے کاخاتمہ کردیا۔گاﺅں والوں نے سُکھ کا سانس لیااور رانو اور اُس کے بھائی کا شکرےہ ادا کےا۔جس کی بہادری کی وجہ سے گاو¿ں والوں میں بھی ہمت پیدا ہوئی ۔
تو ساتھیو! اس کہانی سے ہمیں ےہ سبق ملتا ہے کہ اکیلا انسان مشکلات سے نہیں نکل سکتا ۔تمام لوگ مل کر کوشش کریں تو مشکل دور بھاگ جاتی ہے۔