کشمیری بھارتی سامراج کے سامنے نہیں جھکیں گے

فرزانہ چوہدری
دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی قوم نے اپنی آزادی کی تحریک اس جانفشانی اور عزم و ہمت سے نہیں لڑی جس قدر ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ کشمیری لڑ رہے ہیں۔ تحریک آمریت کشمیر میں اب تک لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کئے جا چکے ہیں۔  کشمیری رہنما سیدعلی گیلانی نے  پاکستان میں کشیریوں سے پانچ فروری کو یوم یکجہتی کے حوالے سے   کہا’’66سال گزر گئے، بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کی غالب اکثریت نے عظیم اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔  پاکستان کی حکومت اور سیاسی قیادت بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی ’’حل‘‘ تلاش کرنے کے لیے بڑی بے تاب اور مضطرب ہے۔ جموں کشمیر کے بارے میں ہماراموقف  مبنی بر صداقت ہے۔ اﷲ غالب وقاہر پر ہمارا ناقابل شکست یقین، اعتماد اور بھروسہ ہے۔ ہماری مظلوم، محکوم اور مقہور قوم کا عزمِ راسخ ہے کہ ہم 6لاکھ جانوں کی قربانیں، لٹی عزتیں اور عصمتیں، 10ہزار لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ اور نابود کرنا، نامعلوم قبروں کا انکشاف، 50افراد کو عمر قید کی سزائیں، 20سال سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن بے گناہ کشمیری قیدیوں کو رہائی نصیب نہیں ہوئی، ایک ہزار کے قریب ہمارے لخت ہائے جگر مقبوضہ حصے اور بھارت کے دوسرے حصوں میں ظلم وجبر اور قیدوبند کی صعوبتوں کا شکار ہیں جس قوم کی پشست پر قربانیوں کا یہ لازوال سرمایہ ہو وہ کسی بھی حال میں بھارت کے سیاہ سامراج کے آگے کسی صورت اور کسی حال میں نہیں جھکے گی۔ انشاء اﷲ ہم ضرور بھارت کے پنجۂ استبداد سے نجات حاصل کریں گے۔ پاکستان کے عوام، حکومت، سیاسی قیادت اور سرفروش جوانوں نے جو قربانیاں دی ہیں اُن کو ہماری مظلوم قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی مظلوم قوم ان ذرائع اور وسائل سے محروم ہے۔ ہمارے پاس پاسپورٹ نہیں کہ ہم   دوسرے ممالک میں جاکر اپنی مظلومیت کا اظہار کرسکیں۔ سال کے اکثر وبیشتر حصے میں ہم گھروں میں قید ہوتے ہیں۔  جمعۃ المبارک اور عیدین کی نمازیں بھی ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے ‘‘۔ فروری یوم یکجہتی کشمیر پر حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق  نے کہا’’  پاکستان نے یہ دن یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کرکے نہ صرف برسوں سے ظلم و جبر اور نا انصافیوں کی شکار اس قوم کے زخموں پر مرہم رکھا بلکہ پوری دنیا کو یہ باور کروایا کہ اپنی جائز جدوجہد میں کشمیری قوم تنہا اور اکیلی نہیں ہے ۔  مسئلہ کشمیر جو نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ رہا ہے بلکہ اس مسئلہ کے وجہ سے ہی آج جنوبی ایشیائی خطے کے امن کے حوالے سے عالمی برادری شدید تحفظات کی شکار ہے اور یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو فراموش کرکے دونوں ممالک آپس میں دیرپا تعلقات کی کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔
سید آسیہ اندرابی دختران ملت کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے 5فروری کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر پاکستان میں منانے والے دن کے حوالے سے کہا ’’ ہم چاہتے ہیں پاکستان کے ہرگھر سے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند ہو۔  صرف ایک دن منانے سے فرق نہیں پڑے گا۔ ہم تو سال کے 365 دن جیتے اور مرتے ہیں۔ ہم دن رات بے چین رہتے ہیں کہ کشمیر کب ہندوستان سے آزادی حاصل کرے گا۔  ہندوستان کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔کشمیر ایشو ہمارا ہی  نہیں ہے یہ پاکستان کا بھی مسئلہ ہے۔ ہمارے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر کو 66 برس بیت چکے ہیں اور ہم آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں ابھی تک ثابت قدم ہیں۔انشاء اللہ یقین ہے کہ کشمیر آزاد ہو گا۔ آپ ہماری آواز سے اپنی آواز ملائیں اور ہمیں ہندوستان سے آزادکرائیں۔