کالے قوانین …… اجتماعی قبریں اور لاپتہ افراد

غلام نبی بھٹ
5 فرور ی کو پاکستان بھر میں یوم یکجہتی کشمیر نہایت جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے، اس روز پاکستان اور کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر اور کشمیری مجاہدین سے یکجہتی کے لئے مکمل ہڑتال ہوتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے عوام جدوجہد آزادی کشمیر میں مصروف کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ 1990ء سے آج 5 فروری 2014ء تک یہ دن ہمیں ان ہزاروں شہداء کی بھی یاد دلاتا ہے جنہیں بھارتی غاصب افواج نے شہید کرنے کے بعد گمنام اجتماعی قبروں میں دفنادیا مگر ان کی صدائے بازگشت آج بھی تحریک آزادی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ آزاد ذرائع کے مطابق ایسی 6 ہزار 7 سو اجتماعی قبریں مقبوضہ کشمیر کے طول و ارض میں دریافت ہوئی ہیں جن میں سے 2 ہزار 5 سو کی کشمیری اور بھارتی انسانی حقوق کی تنظیموں نے تصدیق کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کے یورپی اداروں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ان قبروں میں دفنائے گئے ان ہزاروں نعشوں کی شناخت کرائے اور ان کی باقیات ان کے ورثا کے سپرد کرے اور اس اجتماعی قتل عام میں ملوث بھارتی فوجیوں کے خلاف مقدمے چلائے جائیں۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگی اور   ظلم وجبر کایہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔  دور دراز علاقوں میں آئے روز ایسی قبروں کی دریافت سے کشمیریوں کے زخم بار بار  ہرے ہو جاتے ہیں۔ یہ گمنام اجتماعی قبریں ان شہداء کے مزاروں کے علاوہ ہیں جو کشمیر کے تمام بڑے چھوٹے شہروں میں واقع ہیں۔
آج کے دن ہزاروں مرد و خواتین، بچے اور بچیاں بھی اپنے 5 ہزار 9 سو سے زیادہ لاپتہ پیاروں کی تصویریں لئے ان کی و اپسی یا کوئی اطلاع ملنے کی آس لئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور بھارت کے زیر انتظام کام کرنے والی تنظیموں اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں مگر انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل رہی جو یا تو شہید کر دئیے گئے ہیں یا بھارت کی دور دراز جیلوں میں پڑے ہیں۔ ان زیر حراست افراد کے اہلخانہ ہر جگہ تصویریں اٹھائے ان کی برآمدگی کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں مگر سرینگر سے لے کر دہلی تک بھارتی انصاف کے ایوانوں پر  خاموشی طاری ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اتنی بڑی ناانصافی کے خلاف اگر کوئی بھارتی تنظیم، سماجی یا سیاسی ر ہنما آواز بھی بلند کرے تو اس کے خلاف انتہا پسند محاذ گرم ہو جاتا ہے۔
عالمی برادری ان تمام باتوں کو جانتے ہوئے بھی خاموش ہے اور بھارت کی نام نہاد جمہوریت سے نہیں پوچھا جا رہا کہ وہ کس بنیاد پر سوا کروڑ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اس بے دردی سے پامال کر رہا ہے۔ پوری ریاست کشمیر کو 7 لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجیوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ افسپا اور ٹاڈا یعنی پبلک سیفٹی ایکٹ + آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ + ڈسٹریڈ ایریاز ایکٹ سمیت متعدد کالے قوانین کے تحت وہاں فوجیوں کو، سکیورٹی اداروں کو، پولیس کو اور خفیہ اداروں کو بے انتہا غیر قانونی، غیر انسانی اختیار دئیے گئے ہیں۔ وہ جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں جس کشمیری کو اٹھا سکتے ہیں، پکڑ سکتے ہیں، مار سکتے ہیں، کریک ڈاؤن کر سکتے ہیں، لوٹ مار کر سکتے ہیں، بستیاں، کھیت، فیکٹریاں اجاڑ سکتے ہی۔ انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔ اسی وحشت اور بربریت کی وجہ سے آج 82 ہزار مربع میل پر پھیلی یہ جنت نظیر وادی قبرستان بنی ہوئی ہے۔ 5 فروری کو ہم سب پاکستانی اور کشمیری عالمی برادری کو اس کا بھولا ہوا وعدہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ کشمیر میں اپنی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کا وعدہ پورا کرے اور بھارتی حکومت پر زور ڈالے کہ وہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین ختم کرے، وہاں انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔