دھرتی کا مظلوم ترین گوشہ وادیٔ جنت نظیر

حافظ محمد ادریس
خطۂ کشمیر، ارضِ فلسطین کے بعد دھرتی کا مظلوم ترین گوشہ ہے۔ اس سرزمین پر بھارت  نے  جس طرح چھوٹی سی آبادی کو  اپنی درندہ صفت فوج کی اتنی بڑی تعداد  کے ذریعے کچل رکھا ہے  اس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج یہ وادی جنت نظیر  مقتل کی تصویر بنی ہوئی ہے اس کی آبادیاں ویران، کھیت کھلیان اور باغات تباہ حال، عفت مآب بیٹیوں کی عصمتیں پامال ہو رہی ہیں ۔ ایک لاکھ کے قریب لوگ جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، اس سے کہیں زیادہ زخمی اور معذور ہو چکے ہیں۔ ہزاروں مرد و خواتین لاپتہ ہیں اور ہزاروں بھارتی عقوبت خانوں میں ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔  پاکستان اس مسئلے کا اہم فریق ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ تحریکِ حریت کشمیر، پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا برملا اظہار کرتی ہے۔ مگر افسوس پاکستانی حکومتیں یکے بعد دیگرے مسلسل قوم و ملت کے اس اہم ترین مسئلے کو  پس پشت ڈالنے کی مرتکب ہورہی ہیں۔ موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف تو بھارت کی محبت میں دیوانے ہوئے جا رہے ہیں۔حالانکہ جو شخص کشمیر سے محبت رکھتا ہے وہ بھارت کو پسندیدہ ملک کیسے قرار دے سکتا ہے۔ کشمیری حریت پسند روزِِ اول سے بھارتی تسلط کے خلاف سرپا احتجاج ہیں۔ پہلے بھارتی فوجیں یکطرفہ خون کی ہولی کھیلتی تھیں۔ ربع صدی قبل کشمیریوں نے بھی ہتھیار اُٹھا لئے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی درندوں کی لاشیں انڈیا کے مختلف شہروں میں جانے لگیں تو بھارتی بنیے کو احساس ہُوا کہ کشمیر کو غلام رکھنا اب ان کے بس میں نہیں۔ کشمیری حریت پسند مختلف تنظیموں کے جھنڈے تلے مصروفِ جہاد تھے۔ پھر انہوں نے تحریک حریت کشمیر کو متحدہ پلیٹ فارم کی شکل دی اور سید علی گیلانی کی صورت میں ایک ایسی قیادت خطے کو نصیب ہوئی جو ہر لحاظ سے مثالی ہے۔ جسمانی لحاظ سے بظاہر کمزور، عمر رسیدہ، مختلف امراض سے نڈھال، علی گیلانی عقابی نگاہ اور چیتے کا جگر رکھتے ہیں۔ وہ واقعتاً  حیدرکرارؓ کی تلوار، خالدؓ کی للکار اور طارقؒ کی یلغار کا نمونہ ہیں۔ تحریک حریت کی کاوشوں سے مسئلہ کشمیر پھر زندہ ہُوا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر جہادِ کشمیر کا بیس کیمپ ہیں۔ پاکستان اس مسئلے میں مداخلت کار نہیں بلکہ عالمی اداروں کے فیصلوں نے اسے باقاعدہ فریق کا درجہ دیا ہے۔ پاکستانی حکمران معلوم نہیں کیوں بزدلی کی چادر اوڑھے اس مسئلے سے دور بھاگتے ہیں۔
5فروری یوم یکجہتی کشمیر کی عوامی اور سرکاری حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کا آغاز 1990ء میں ہُوا۔ اس وقت موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب اور بے نظیر بھٹو مرحومہ وزیراعظم پاکستان تھیں۔ جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر جناب قاضی حسین احمد صاحب نے جماعت اسلامی کی ایک نشست میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے دن منانے کا تصور پیش کیا جسے ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کے طور پر آج تک جوش جذبے سے منایا جاتا ہے۔ اس مرتبہ بھی 5 فروری کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا ہے ۔ اس روز مظفر آباد میں آزاد کشمیر قانون ساز  اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے کشمیری قائدین اور پاکستان سے اعلیٰ شخصیات خطاب کرتی ہیں، جس میں بھارتی مظالم کی مکمل تصویر پیش کرتے ہوئے پُرجوش انداز میں تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ سیاسی و اخلاقی ھمایت کا اعادہ  کیا جاتا ہے۔ سابقہ ادوار میں بینظیر بھٹو مرحومہ کی تقاریر میں سے ان کا   اس موقع پر   جامع اور مؤثر خطاب آج تک  اہمیت رکھتا  ہے۔ اس وقت سے لے کر آج کے دن تک پاکستان میں بر سرِ اقتدار آنے والی ہر حکومت اگرچہ عملاً مسئلہ کشمیر پر اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر اور گریزاں رہی ہے تاہم یہ دن ایک قومی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور اس سے انحراف کسی کے بس میں نہیں۔
5 فروری تاریخی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور اس روز پوری دنیا یہ منظر دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم بڑے شہروں سے لے کر چھوٹی چھوٹی بستیوں تک اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہوتی ہے۔ یہ یوم یکجہتی قاضی حسین احمد ؒ کا ایک صدقہ جاریہ ہے، اللہ ان کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ اس یوم کے تعین کیلئے جن لوگوں نے سوچ بچار کی اور جنہوں نے اس کیلئے دستِ تعاون بڑھایا ان سب کا یہ عمل باعثِ اجر ہے۔ جو جتنے اخلاص کے ساتھ مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے کام کرے گا، اتنا ہی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہو گا۔ آج پوری دنیا کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمِ اسلام میں ہر جانب بیداری کی لہریں موجزن ہیں۔ ہمیں جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت سے سرشار مجاہدینِ آزادی کا ساتھ دینا چاہیے۔ غلامی کی زنجیریں انشأاللہ ٹوٹ گریں گی اور جبر کا دور ختم ہو جائے گا۔ یہ دن تجدیدِ عہد اور عزمِ نو کی نوید ہے۔ آئو اپنے اللہ سے عہد باندھیں کہ ہم کشمیر کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ جہاد کرنے والوں کا ساتھی ہے اور ہم قائد المجاہدینؐ کے اُمتی ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر زندہ باد، یوم یکجہتی کشمیر پائندہ باد، بھارتی درندگی مُردہ باد۔ لعنت بر امریکہ، بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ۔