بیوٹی سیلون ۔۔۔۔ عید سپیشل آفر

عنبرین فاطمہ ۔۔۔۔۔
”عید الفطر“ کی تیاریاں ہر طرف جوش و خروش سے جاری ہیں جہاں بازاروں میں خریداری کےلئے خواتین کا رش ہے وہاں میل اور فی میل بیوٹی سیلونز میں ابھی سے جشن کا سماں ہے۔ رمضان کا چوتھا عشرا شروع ہوتے ہی لاہور کا تقریباً ہر دوسرا بیوٹی سیلون عید سپیشل آفر پیش کر رہا ہے۔ اس قسم کی آفرز سے فائدہ اٹھانے کےلئے خواتین کی بڑی تعداد بیوٹی سیلونز کا رخ کر رہی ہے۔عید ہو یا خوشی کے دیگر تہواراس میں سب سے زیادہ تیاریاں خواتین ہی کرتی نظر آتی ہیںجہاںمیچنگ جوتے کپڑے اور جیولری اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہاںاگر میک اپ اور ہئر اسٹائل اچھانہ ہوتو تیاری کے تمام رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ عید کے روز رشتہ داروں دوستوں سے ملنے ملانے اور ایک دوسرے سے زیادہ اچھے لگنے کی لگن میں خواتین کہیں بالوں کو ڈائی اور ان کی کٹنگ کروا رہی ہیں،تو کہیں آئی بروز فیشل میڈی / پیڈی کیور کروایا جا رہا ہے۔ اس مرتبہ چونکہ عید پر گرمی اور برسات کا موسم ہے لہذا اس کو مد نظر رکھ کر میک کرنا ہو گا۔ موسم کی مناسبت سے عید کا میک اپ گھر بیٹھے خواتین کس طرح سے کر سکتی ہیں اس حوالے سے ہم نے میک اپ آرٹسٹ”اسماءٹی“ سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ”عید“ ایک ایسا تہوار ہے جس میں خواتین کا تمام تر دن کیچن میں ہی گز ر جاتا ہے صبح اٹھتے ہی ان کی مصروفیت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ سارا دن گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا ہے جس کے باعث خواتین کو تیار ہونے کا موقع نہیں مل پاتا ہے شام کو ان کے کا م میں قدرے کمی آجاتی ہے جس کے بعد ان کو تیار ہونے اور باہر کہیں جانے کا موقع میسر آتا ہے ۔ عیدکے روز صبح کی نماز کی ادائیگی کے بعد خواتین کو چند منٹ خود پرکچھ اس طرح سے صرف کرنے چاہیے کہ ہلکے پھلکے کپڑے پہن کر ان کے ساتھ دن کے وقت بے شک جیولری کا استعمال نہ کریں لیکن میک اپ ضرور کریں چونکہ تمام دن مہمان داری میں گزر جانا ہوتا ہے اس قسم کی مصروفیت کے پیش نظر چہرے کا میک اپ سافٹ ہونا چاہیے اس میں گہرے رنگ کی لپ اسٹک کا استعمال نہ کریں ہلکے شیڈز لگائیں اور اگر آپ کے پاس وقت ہو تواپنے بالوں کو ایسا سٹائل دیں جس سے بال آپ کے چہرے پر نہ گریں اور آپ کو کام کرنے میں دشواری کا سامنا نہ ہو بکھرے ہوئے بال کام کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں ۔عید کے روز دن کے وقت خواتین کو سافٹ اور ہلکا میک اپ کرنا چاہیے اور شام کو چونکہ انہوں نے باہر نکلنا ہوتا ہے اس وقت میک اپ زرا گہرا کریں کیونکہ شام کی روشنی میں گہرا میک زیادہ کھلا ہوا نظر آتا ہے۔ بہت سی ایسی خواتین ہیں جن کو فاﺅنڈیشن کے استعمال میں مسائل کا سامنا رہتا ہے کیونکہ ان کو ٹھیک طرح سے معلوم نہیں ہوتا ہے کہ فاﺅنڈیشن کا کونسا شیڈ ان کی جلد پر سوٹ کرے گا۔اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کسی اچھی اور ماہر بیوٹیشن کے پاس جائیں اور ان سے اپنی جلد کی مناسبت سے فاﺅنڈیشن لکھوالیں اور بازار سے جا کر وہی فاﺅنڈیشن خرید لیں۔جلد پر فاﺅنڈیشن لگانا بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اگر یہ بہتر اور اچھے انداز میں جلد پر لگایا جائے تو میک اپ خود بخود اچھا لگتا ہے ۔اگر جلد پر فاﺅنڈیشن اچھے طریقے سے نہ لگایا گیا ہو تو ایسے میں میک جتنا بھی اچھا کیا ہو اچھا نہیں لگے گااس لئے اس چیز کا خاص خیال رکھیں ۔آج کل بازار میں کئی طرح کی میک اپ پراڈکٹس دستیاب ہیں اس لئے سوچ سمجھ کر اچھی بیوٹیشن کے مشورے سے اس کی خریداری کریں کیونکہ جلدی معاملات میں کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔بازار میں اس وقت میک اپ کرنے کے حوالے سے بہت سی بیوٹیشن کی سی ڈیز اور کتابیں دستیاب ہیں خواتین گھر بیٹھے میک اپ میں ماہر بننے کے لئے اس طرح کی چیزوں کی خریداری پر کافی سارا پیسہ خرچ کر دیتی ہیں یہ ایک غلط رجحان ہے اس کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ میک اپ ایک ایسا آرٹ ہے جو باقاعدہ سیکھنے سے آتا ہے اس طرح کے تجربات سے آپ ماہر نہیں بن سکتی ہیں اس لئے آپ اگر خود اپنا میک اپ کرنے کی خواہش مند ہیں یاآپ کے اتنے وسائل نہیں ہیں کہ آپ عید یا شادی بیاہ جیسی دیگر تقریبات کے لئے بیوٹی پارلر کا رخ کریں تو ایسے میںآپ کو چاہیے کہ آپ اپنی مصروفیت سے کچھ وقت نکال کر اس کام کو سیکھنے کے لئے کسی بھی اچھے بیوٹی سیلون میں جائیں تاکہ آپ خوشی کے تہواروں پر نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا بھی میک اپ کر سکیں۔مصروفیت کے پیش نذر اس روز خصوصاً دن کے وقت زرق برق کپڑے پہننا درست نہیں ہے آپ کو چاہیے کہ اس روز دن کے وقت پہننے کےلئے ایسا سوٹ بنوائیں جس میں آپ کام آسانی سے کر سکیں۔خواتین اور لڑکیوں کے میک اپ میں کافی فرق ہوتا ہے اس چیز کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ آج کل ویسے بھی سافٹ میک کا رجحان فروغ پا رہا ہے بیوٹی سیلو ن میں آنے والی تمام خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا میک اپ سافٹ ہو اور سافٹ میک اپ ویسے بھی نیچرل لگتا ہے اور اس میں شخصیت پر کشش نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میک اپ کا اصول یہ ہے کہ اگر آپ اپنی آنکھوں کا میک اپ نمایاں کرنا چاہتی ہیں تو ہونٹوں پر ہلکی لپ اسٹک کااستعمال کریں اور اگر ہونٹوں پر گہری لپ اسٹک لگانا چاہتی ہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ انکھوں پر ہلکا میک اپ لگائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہشت گردی اور مہنگائی کے باوجود لوگ عید کی تیاریوں کو لیکر پرجوش
وطن عزیز گزشتہ چند برسوں سے شدید دہشت گردی اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔ لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ عیدمنانے اور اس حوالے سے کی جانے والی تیاریوں کو لیکر خاصے پر جوش دکھائی دیتے ہیں۔اس وقت صوبائی دارالحکومت کے تقریباً تمام چھوٹے اور بڑے بازاروں میں لوگوں کا ہجوم دکھائی دے رہا ہے۔ہم لاہور کی ایک مصروف مارکیٹ میں گئے اور وہاں خریداری کےلئے آئی فیملیز سے بات کی تو سب کا یہی کہنا تھا کہ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو مسائل سے نہیں گھبراتیں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ آج دہشت گردی کے سائے سر پر منڈلا رہے ہیں کہیں بھی جانے سے ڈر لگتا ہے۔اس کے باوجود کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں مذہبی تہوار عید کو منانے کےلئے تیاریاں نہیں کی جا رہیں۔ہمیں مشکل حالات کا سامنا کرنا چاہیے ۔ان فیملیز میں زیادہ تر کا یہی کہنا تھا کہ مہنگائی نے تو ہر طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جو چیز پہلے سو روپے میں دستیاب تھی اب وہ دو سو روپے کی مل رہی ہے بچوں کے کپڑوں اور جوتوں کی قمیتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ عید جیسے پر مسرت تہوار کو منانا ہی نہ جائے۔
بچے بھی عید کی تیاریوں میں مصروف
بڑے تو بڑے بچے کی بھی عید تیاریوں میں خوب مصروف ہیں۔مارکیٹوں میں بچوں کے کپڑوں اور جوتوں میں ڈسکاﺅنٹ آفرز لوگوں کےلئے کشش کا باعث بن رہی ہیں۔ہم نے ایک مارکیٹ میں سروے کیا تووہاںوالدین کے ساتھ بچوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئی۔ خریداری کے موقع پر بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔ہم نے چند ایک چھوٹے بچوںسے بات کی۔ طلحہ احمد جو کہ چھٹی کلاس کا طالب علم ہے اس نے کہا کہ مجھے عید کا بے چینی سے انتظار ہوتا ہے کیونکہ اس روز ہمیں پہننے کےلئے نئے کپڑے اور جوتے ملتے ہیںا س کے علاوہ بڑوں سے ملنے والی عید ی کا بھی انتظار ہوتا ہے۔علی عماد جو کہ تیسری جماعت کا طالب علم ہے اس نے کہا کہ والدین کے ساتھ بازار آنا اور جوتوں کپڑوں کی خریداری کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ علیزہ نور جو کہ پانچویں کی طالبہ ہیں اس نے خوبصورت رنگ کے کلپس بالوں میں لگا رکھے تھے ہم نے اس سے پوچھا کہ آپ مارکیٹ میں کس چیز کی خریداری کرنے آئیں تو اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کے دوپٹے میں منہ کرکے کہنے لگی مجھے چوڑیاں،جوتے ،فراک ،لپ اسٹک ،کلپس،انگوٹھی اور ہئر بینڈ خریدنا ہے۔اسی طرح مارکیٹ میں ہر دوکان پر بڑوں کے ساتھ بچے جا بجا دکھائی دئیے۔جوتے کپڑوں کے ساتھ بچے کھلونوں کی خریداری کےلئے بھی والدین سے ضدکرتے نظر آئے۔
”درزیوں“ کے پاس سانس لینے کی بھی فرصت نہیں
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں درزی کپڑے سینے کے آڈرز لینا بند کر دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے شروع ہوتے ہی ان کے پاس بکنگ شروع ہوجاتی ہے۔اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے رمضان المبارک شروع ہوتے ہی درزیوں کے پاس بکنگ کے آڈرز آنا شروع ہوگئے اب جب کہ عید میں چند ہی روز باقی رہ گئے ہیں اب درزیوں نے گاہکوں سے معذرت کرنا شروع کر دی ہے کیونکہ ہر گاہک کو اس کا کام بروقت چاہیے۔اب جن کے کپڑے ابھی تک نہیں سل سکے وہ لوگ پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ہر درزی کی دوکان سے روزانہ کئی گاہک مایوس لوٹ رہے ہیں۔بجلی کی قیمتوں میں روز بروز ہوتے اضافے نے کپڑوں کی سلائی بھی دگنی کر دی ہے جو سادہ سوٹ پہلے دو سو روپے میں سل جاتا تھا آج پانچ سو روپے میں سلائی ہو رہا ہے ۔اگر معمولی سی ڈیزائنگ کروا لی جائے تو آٹھ سو ہزار تو کہیں نہیں گئے۔اس کے باوجود درزیوں کے پاس اتنا رش ہے کہ وہ اب نئے آنے والے گاہکوں سے معذرت کر رہے ہیں۔
مختلف ڈشز بنانے کےلئے خواتین نے ابھی سے تیاری شروع کر دی
ہر گھر میں جہاں عید کے روز پہننے کے لئے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری کی جا رہی ہے وہاں عید کے روز میٹھا بنانے کےلئے خواتین ابھی سے تیاریاں کر رہی ہیں باقاعدہ مینو تیار کر رہی ہیں کہ صبح میٹھے میں کیا بنایا جائے گا ، لنچ اور ڈنر میں کیا بنایا جائے گا مہمانوں کی خاطر تواضع کن کھانوں سے کی جائے گی۔اس سلسلے میں خواتین انٹر نیٹ سے مختلف ریسپیز نوٹ کر رہی ہیں تو کہیں کھانے بنانے کےلئے چینلز پر کوکنگ کے پروگرام دیکھے جا رہے ہیںتاکہ اس روز اچھے سے اچھے کھانے بنائے جا سکیں۔ہر خاتون کی کوشش ہوتی ہے کہ اس طرح کے موقعوں پر اچھی مہمان نوازی کرکے مہمانوں کا دل جیتا جائے۔لہذا ہر گھر میں خواتین کی کھانوں کے حوالے سے تیاریاں اور منصوبہ بندیاں زوروشور پر ہیں۔