مناسک حج، عمرہ

مولانا محمد امجد خان
اللہ تعالیٰ نے ہر عبادت کے لئے کچھ اصول و ضوابط مقرر فرمائے ہیں جن کے بغیر وہ عبادت قابل قبول نہیں ہے جیسے نماز کے لئے وضو لازم ہے اسی طرح حج کے لئے بھی شریعت نے کچھ قواعد و ضوابط مقرر کئے ہیں۔ وگرنہ حج بھی قابل قبول نہیں ہے ۔انہی قواعد و ضوابط کو مناسک حج کہا جاتا ہے۔ لہٰذا تمام حج پر جانے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مستند علماء دین سے حج کا مکمل طریقہ سیکھ کر جائیں اور اس سلسلہ میں ذرا بھی غفلت نہ برتیں۔مناسک حج کا آغاز کرنے سے پہلے عمرہ کے مناسک کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے ۔حج کے ایام  کا آغاز 8 ذوالحجہ سے پہلے ہوتا ہے،اگر کوئی شخص  پہلے پہنچ جائے تو اسکو چاہئے کہ وہ عمرہ بھی کرلے کیونکہ وہاں جانے کی سعادت قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ہر کوئی وہاں پہنچ سکتا نہیں وہی خوش نصیب وہاں پہنچے گا جس پر رب العالمین کا فضل ہوگا اور جس نے صدائے ابراہیم  ؑپر لبیک کہا ہوگا۔
مناسک عمرہ حسب ذیل ہیں۔
(1) احرام سے پہلے:غیر ضروری بالوں کی صفائی، ناخن کاٹنا، غسل یا وضو کا کرنا، احرام باندھنے کی نیت کرنا لازم ہے۔
(2) احرام کا لباس:مردوں کے لئے دو سفید اَن  سلی چادریں پائوں میں ہوائی چپل۔جبکہ عورتوں کے لئے ان کا اپنا لباس مکمل، سر مکمل ڈھکا ہوا ہونا چاہئے۔
(3) احرام کا طریقہ:مرد ایک چادر تہہ بند کی طرح باندھ لیں اور دوسری چادر اوپر اوڑھ لیں۔
(4) احرام باندھنے کا وقت:اپنے گھر سے نکلتے وقت،ہوائی اڈے کے مقام پر،میقات سے پہلے جہاز میں باندھا جا سکتا ہے۔ احرام باندھنے کے بعد دو رکعت نفل ادا کریں گے۔ پھر عمرہ کی نیت کریں۔ دل میں نیت کرنا کافی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ زبان سے نیت کی جائے۔
(5) نیت کے الفاظ: اَللّٰھُمَِّ لَبَّیْکَْ لِلٔعُمرَۃِ۔ اے اللہ کریم! میں عمرہ کے لئے حاضر ہوں۔ پھر سا تھ یہ تلبیہ پڑھیں گے:لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمتہ لاک و الملک لا شریک لکoیہ نیت بھی کی جاسکتی ہے۔اے اللہ میں نے عمرہ کی نیت کی ہے اسکو میرے لئے آسان فرما اور قبول فرما۔ (فتح القدیر)
(6) حرم شریف میں حاضری کا طریقہ اور آداب:جب حرم شریف پہنچ جائیں تو وہاں آداب کا بہت خیال رکھیں ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا فرمان ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حجاج کرام جس قدر ادب کا خیال رکھیں گے پروردگار کریم اسی قدر ان کی حاضری کو شرف قبولیت سے نوازے گا۔
:(7)بیت اللہ شریف پر نگاہ اول زندگی کا ماحاصل ہے۔ اس موقع پر جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔
(8)طواف:حجر اسود کے سامنے سے طواف کا آغاز کریں اور   بیت اللہ شریف کے گرد سات چکر لگائیں  ۔ہر چکر کا آغاز استلام سے ہوتا ہے حجرا سود کا بوسہ لینا یا اسکی طرف اشارہ کرکے آگے بڑھنا استلام کہلاتا ہے۔
(9)  سعی کرنا:مکہ مکرمہ میں دو پہاڑیاں صفاو مروہ ہیں جہاں سیدہ ہاجرہؓ نے سات چکر لگائے تھے ان کی یہ سنت آج بھی حج و عمرہ کا اہم رکن ہے اور تاقیامت رہے گی۔سعی کا آغاز صفا پہاڑی  سے ہوگا۔ صفا پر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے اللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھیں گے۔صفاء سے مروہ تک ایک چکر اور مروہ سے صفا تک دوسرا چکر لگائیں گے اور سات چکر پورے کرنے ہوں گے۔ ساتویں چکر کا اختتام مروہ پر ہوگا۔صفا و مروہ کی سعی میں سبز نشانات کے مقام پر مرد حضرات قدرے دوڑیں گے جب کہ خواتین اپنی طرز پر ہی چلیں گی۔
صفا و مروہ کی دوڑ کے دوران تیسرا کلمہ اور دعا ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ ونی الاخرۃ حسنتہ و قنا عذاب النار کی کثرت کرنی چاہئے۔
(10) سر کے بال کاٹنے کا  طریقہ:سعی سے فارغ ہونے کے بعد مرد سر پر استرا پھروا لیں گے یا اپنے بال چھوٹے کروا لیں گے۔ خواتین کے سر کے بال انگلی کے پورے کے برابر کاٹے جائیں گے۔ یہ محرم مرد یا کوئی دوسری خاتون کاٹے گی۔ (مناسک حج)
پہلا دن: آٹھ ذی الحجہ
(1) حج کا آغاز 8ذوالحجہ سے ہوگا۔ اس دن مندرجہ ذیل کام کرنے ہوں گے۔
-1 غسل یا وضو کرکے احرام باندھنا۔
-2 احرام باندھنے کے بعد دو رکعت نفل نیت احرام حج ادا کرنا۔
-3 اللھم لبیک حجا کہہ کر نیت کرنا اور تلبیہ کا پڑھنا۔
-4 تلبیہ پڑھتے ہوئے اپنے مقام سے منیٰ کی طرف روانہ ہونا۔
-5 منیٰ میں نماز ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کا باجماعت ادا کرنا اور کثرت سے تلبیہ پڑھنا۔
(2) 9 ذی الحجہ (حج کا دن)
-1 نماز فجر منیٰ میں ادا کرنے کے بعد معلم کی ہدایت کے مطابق عرفات روانہ ہو نا ہوگا اس کے بغیر حج نہیں ہوتا۔ ایک شخص اتنا بیمار ہو جائے کہ وہ خود چل کر میدان عرفات نہ پہنچ سکے تو اسکو کوئی دوسرا شخص لازماً عرفات کے میدان میں لیکر پہنچے اگر وہ بیمار شخص نہ پہنچ سکا تو اسکا حج ادا نہیں ہوگا۔
-2میدان عرفات میں سورج کے غروب ہونے تک  رہنا ہوگا ۔ پھر مزدلفہ روانہ ہوں گے۔ مزدلفہ میں رات گزارنی ہوگی اور صبح منیٰ روانگی ہوگی۔ (3) 10 ذی الحجہ کے دن چار کام کرنے ہوں گے۔(1)رمی کرنا (2) قربانی کرنا (3) حلق(4)  طواف زیارت
چند اغلاط کی تصحیح۔
 بعض حضرات سعی کرتے وقت خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے تکبیر (اللہ اکبر)  نماز کی طرح  کہتے ہیں جو غلط ہے۔ مسنون عمل یہ ہے کہ اس طرح دونوں ہاتھ اٹھائے جائیں جیسے دعا کے لئے اٹھائے جاتے ہیں۔بعض حضرات سعی کے درمیان پورا وقت دوڑتے رہتے ہیں حالانکہ سنت عمل یہ ہے کہ دونوں سبز ستونوں کے درمیان دوڑا جائے اور باقی راستہ معمول کی رفتار سے چلا جائے۔ بعض لوگ دعا کرتے وقت جبل رحمت کی طرف رخ کرتے ہیں حالانکہ مسنون عمل بیت اللہ شریف کی طرف رخ کرکے دعا کرتا ہے۔بعض حضرات کنکریاں مارتے وقت بڑے پتھروں، جوتے یا لکڑی کا استعمال کرتے ہیں صرف چھوٹی کنکری کا مارنا اور زبان سے اللہ اکبر کہنا درست ہے۔ تمام کنکریاں ایک ہی بار مارنا درست نہیں ہے ایک ایک کنکری  تکبیر کے ساتھ ماری جائے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا سے نوازے۔ آمین