حضرت میاں غلام اللہ المعروف ثانی صاحب شرقپوریؒ

صاحبزادہ میاں ولید احمد جواد نقشبندی مجددی شرقپوری
نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
عارف حقانی شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد صاحب شرقپوری کے برادر اصغر حضرت میاں غلام اللہ صاحب شرقپور شریف ضلع شیخوپورہ میں 1891ء کو پیدا ہوئے۔  حضرت میاں شیر محمد صاحب شرقپوری  کی ولادت باسعادت کے کچھ عرصہ بعد آپ کی والدہ ماجدہ رحلت فرما گئیں تو آپ کے والد بزرگوار حضرت میاں عزیز الدین صاحب نے دوسری شادی کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری بیوی سے حضرت میاں غلام اللہ صاحب عطا فرمائے۔  حضرت میاں غلام اللہ صاحب ابھی بچے ہی تھے کہ والد ماجد کا سایہ عاطفت سر سے اٹھ گیا اور آپ کے بڑے بھائی حضرت میاڈ  شیر محمد صاحب نے آپ کی کفالت و تربیت کی۔ حضرت میاں غلام اللہ صاحب شرقپوری  نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد طبیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور حکمت کی تعلیم و تربیت میں مہارت حاصل کی۔ حکمت کا پیشہ اختیار کیا اور مخلوق خدا کی خدمت کرتے رہے لیکن زیادہ دیر تک اس کام میں طبیعت نہ لگ سکی تو آپ نے حکمت کو خیر باد کہہ کر میونسپل کمیٹی شرقپور شریف میں بطور سیکرٹری ملازمت  اختیار کی۔ حضور ثانی صاحب کو روحانی  وادی میں لانے والے حضرت شیر ربانی تھے۔ ایک روز جمعۃ المبارک کے دن حضرت میاں شیر محمد صاحب نے اپنے بھائی حضرت میاں غلام اللہ صاحب پر توجہ کی نظر ڈالی۔ آپ فرش پر لوٹنے لگے آپ نے اپنے بھائی کو سینے سے لگایا بس سینے سے لگانا ہی تھا آپ کی کایا پلٹ گئی اور آپ ہر لحاظ سے کامل ہوگئے۔ حضرت میاں شیر محمد صاحب نے آخری ایام میں اپنے برادر حقیقی حضرت میاں غلام اللہ صاحب کو طلب کر کے ارشاد فرمایا کہ جمعہ پڑھانا، مسجد کا انتظام کرنا اور کوئی آ جائے تو اس کا اہتمام لازم رکھنا۔ حضرت صاحبزادہ محمد عمر بیربلوی فرماتے ہیں کہ ’’وصال کے وقت میں موجود نہ تھا، بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت میاں شیر محمد صاحب نے اپنے بھائی کو بلا کر فرمایا!  میاں صاحب  جمعہ پڑھایا کرنا،  مسجد کو آباد رکھنا اور کوئی آ جائے تو کچھ اس کو بتلا دینا لیکن جب میں چہلم پر حاضر ہوا تو حضرت میاں غلام اللہ صاحب  ’’غلام اللہ‘‘ نہ تھے بلکہ حضرت قبلہ غلام اللہ تھے۔‘‘
آپ نے بڑا خطاب کیا اور مخلصین حیران رہ گئے آپ راہ سلوک میں ایسے طاق ہو گئے کہ آئندہ آنے والی نسلیں حضرت میاں شیر محمد صاحب شرقپوری کی اس مجسم کرامت سے تا ابد اپنے دامن کو بھرتی رہیں گی اور اس چشمہ عرفان سے لوگ اپنی پیاس بجھاتے رہیں گے۔  حضرت میاں غلام اللہ صاحب  نے اپنے پیرومرشد اور برادر اکبر حضرت میاں شیر محمد صاحب کی شاندار دینی اور روحانی روایت کو مساجد کی تعمیر سے نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ انہوں نے شرقپور شریف میں ایک ایسے علمی، روحانی اور دینی ادارے کی بھی بنیاد رکھی جس کی ضرورت یہاں کے مسلمانوں کو بہت پہلے سے تھی۔  1944ء میں مین بازار شرقپور شریف میں ’’ریاض المسلمین‘‘ (جامعہ حضرت میاں صاحب)  کی بنیاد رکھی  شرقپور شریف میں ’’حزب  الرسول‘‘  ایک مشہور تنظیم تھی حضرت ثانی صاحب  اس کے سرپرست اعلیٰ تھے۔ شروع میں جامعہ حضرت میاں صاحب مسجد میں رہا لیکن جب طلباء کی تعداد بڑھ گئی تو زمین خرید کر اس کی شاندار عمارت تعمیر کی گئی یہ عمارت تاحال موجود ہے اس میں آج بھی حفاظ اور علماء کرام خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔
حضرت ثانی صاحب نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے عقیدت مندوں کو مسلم لیگ میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ  اس سے ہر قسم کا تعاون کرنے کی تلقین کی۔ بہت سے سیاسی لیڈروں کی سخت مخالفت کے باوجود شرقپور شریف میں مسلم لیگ کا پہلا جلسہ حضرت ثانی صاحب کی صدارت میں ہوا اور اس کے جملہ اخراجات بھی حضرت ثانی صاحب نے اپنی گرہ سے ادا کئے۔ آپ کی دعاؤں اور کاوشوں سے پاکستان 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر اُبھرا۔
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ  ان کو
لئے بیٹھے ہیں ید بیضا اپنی آستینوں میں
حضرت ثانی قبلہ عالم شیر ربانی حضرت میاں صاحب کے مصلیٰ کے وارث تھے حضرت میاں صاحب کی زندگی کو دیکھیں تو ایک ہشت پہلو ہیرا نظر آئے گی جس نے آپ کو جس رنگ سے دیکھا اسی قدر باکمال دیکھا اور جس نے دیکھا جدا جدا دیکھا۔ کسی نے سخی کے روپ میں دیکھا، کسی نے عابد کے روپ میں دیکھا، کسی نے مجاہد کے روپ میں،  کسی نے ورع و تقویٰ کے اعتبار سے دیکھا اور پھر دوست دشمن سب نے دیکھا۔  جنہوں نے دیکھا اس قدر دیکھا کہ جتنا سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا اور ان کا گرویدہ ہو گیا۔ جب یہ مصلیٰ حضرت ثانی صاحب کو مرحمت ہوا تو آپ بفضلہِ تعالیٰ  طائفہ سلوک و عرفان پر چھا گئے۔
کسی شخص نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب سے سوال کیا کہ حضرت شمس تبریز تو صبح اٹھ کر پہاڑوں پر نظر ڈالتے تھے تاکہ کوئی آدمی جلال کی تاب نہ لا کر ہلاک نہ ہو جائے لیکن آپ تو ایسا نہیں کرتے آپ فرمانے لگے کہ کامل شیخ اگر سات سمندر بھی پی جائے تو کسی کو خبر نہیں ہوتی یہ حال حضرت قبلہ عالم سید زماں حضرت  ثانی لاثانی کا تھا کہ دل عرفان الٰہی سے بھرپور اور کسی کو خبر نہیں۔  اعلیٰ حضرت میاں صاحب بارش کی طرح ہر بلاد و پست پر برسے اور سورج کی طرح ہر قص و ناقص پر چمکے۔  اپنا قلم دان اپنے برادر حقیقی کے سپرد کر کے  تو انہیں عرفان سے بھرپور کر دیا یہاں تک کہ تقریباً  تیس برس تک آپ سجادہ نشینی  کے فرائض سرانجام دیتے رہے زندگی سنت  نبوی کی شدید پابندی میں گزاری اور سلسلہ  نقشبندیہ کے فیوض و برکات پھیلاتے رہے۔
نگاہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی رخت سفر میر کارواں کیلئے
کتنے مہربان تھے آپ اور کتنا میٹھا لہجہ تھا آپ کا ہر ایک کیلئے محبت اور بھلائی یہی آپ کا طریقہ تھا۔ آپ کا فیض عام تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ آپ رحمۃ اللعالمین کے ماننے والے تھے اور رحمت کا حصہ آپ کو بھی ملا تھا۔  تو بھلا لوگ کس طرح آپ سے محروم چلے جاتے۔ آپ اس چاند کی مانند تھے جو دوسروں کے لئے جاگتا ہے جب کہ دوسرے سوئے رہتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ کوئی ان کے لئے کس قدر جاگتا رہا ہے۔ نہایت ملائم الطبع تھے اس مادیت میں ملوث دنیا میں جو ظاہری چوکاچوند سے فریفتہ  کر کے گمراہ کر دیتی ہیں آپ نے کمال سادگی سے وقت گزارا آپ محبت، الفت اور رافت کا پیکر تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ عظمت اور محبت آپ میں یکجا ہو کر رہ گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے لاکھوں افراد کو سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کیا اور ان کی روحانی تربیت کی۔
جہاں رام ہوتا ہے میٹھی زبان سے
نہیں لگتی اس میں کچھ محنت زیادہ
تصوف اسلام سے علیحدہ کوئی چیز نہیں ہے یہ اسلام کی خالص ترین تعبیر ہے ابتدا ہی سے مسلمانوں میں ایک ایسا گروہ موجود رہا ہے جس نے تمام مقاصد دنیوی سے قطع نظر اپنا نصب العین یاد خدا اور محض ذکر الٰہی  کو رکھا اور یہ گروہ صدق و صفا، سلوک و احسان کے مختلف طریقوں پر عامل رہا ان حضرات کے نزدیک تصوف کا مفہوم محض اس قدر تھا کہ اتباع قرآن و سنت میں انتہائی سعی کی جائے۔ اسوۃ  رسول  اور صحابہ کو دلیل راہ بنایا جائے اوامرونواہی  کی تعمیر کی جائے۔ طاعات و عبادت کو مقصود حیات سمجھا جائے قلب کو تعلق ماسواء سے دور رکھا جائے، نفس کو خشیت الٰہی سے مغلوب کیا جائے اور صفائی معاملات اور تزکیہ باطن میں جدوجہد کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے۔
حضرت ثانی صاحب کی زندگی مبارک میں یہی اسلامی رنگ غالب نظر آتا ہے ان کی زندگی تعلیم محمدیؐ سے لبریز ہے ان کی تبلیغ کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے ان کی زندگی عشق و محبت کا ایک تسلسل نظر آتی ہے۔ حضرت ثانی صاحب کو دیکھیں تو آپ اس بات کے کس قدر عامل نظر آتے ہیں کہ آپ نے اسی شے کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ اس کے رسول مقبولؐ اور ان کے صاحب  طریقت نے ان کے لئے پسند کی۔  ارشاد ربانی ہے کہ؎
’’بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو تمہیں بشارت ہو جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ہم تمہارے دوست ہیں دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں‘‘
 ایک دفعہ حضرت میاں شیر محمد صاحب کے عرس مبارک پر ایک خادم نے آ کر حضور ثانی صاحب سے کہا کہ حضور آٹا، دال، گھی وغیرہ ختم ہوگیا ہے حضرت ثانی صاحب نے ٹین کے شیڈ کے پاس کھڑے ہو کر دربار شریف حضرت میاں شیر محمد صاحب کی طرف توجہ فرمائی اور بیٹھک میں تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیل گاڑی آئی جس پر آٹے اور دال کے تھیلے اور گھی کے ٹین تھے۔ بیل سفید رنگ کے تھے اور آدمیوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے آپ کو بتایا گیا۔ آپ نے کہا سامان اتروالو اور ان سے کچھ نہیں کہنا۔ جب سامان اتار لیا گیا تو وہ آدمی بیل گاڑی لے کر حضرت میاں صاحب کی بھینسوں والی حویلی کی طرف چل پڑے۔  ایک خادم کے دل میں خیال آیا کہ یہ آدمی اتنا لنگر کا سامان لے کر آئے ہیں اور ہم نے انہیں کھانا تک نہیں پوچھا وہ ان کے پیچھے بھاگا جب ان کے قریب ہی پہنچا تھا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی آدمی نے اسے پیچھے سے کھینچا ہے جب اس نے پیچھے دیکھا تو پیچھے کوئی نہیں تھا اور جب آگے دیکھا تو بیل گ اڑی غائب تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ کو نہیں کیا تھا کہ ان کے سے کچھ نہ کہنا وہ فرشتے تھے وہ لنگر کا سامان لے کر آئے تھے۔
صحبت نیکاں انج کر جانی جیویں دکان عطاراں
بھانویں کُج خریدے نا ہی ہُلے آن ہزاراں
صحبت کیمیا اثر کرتی ہے۔ یہ ذکر سے بہتر ہوتی ہے یہ انداز فکر بدل ڈالتی ہے۔ حضرت  ثانی لاثانی کی مثال نے لاتعداد لوگوں کو دل کی دولت سے مالا مال کر دیا۔ آپ کی یہی کرامت تھی کہ آپ سے ملنے والے دوسروں سے ممتاز نظز آتے تھے وہ عام لوگوں جیسے نہ تھے وہ دین مصطفیٰؐ  کے جانثار اور شمع رسالتؐ کے پروانے تھے۔
یک زمانہ صحبت  باانبیاء
بہتر از لکھ سالہ طاعت بے ریا
یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ بزرگان دین سے مثبت وابستگی رکھی جائے مادی اثرات نے روحانی بالیدگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور روح کی پرواز محدود ہو چکی ہے ایک سچی تڑپ کی ضرورت ہے تاکہ انسان کی روح توانا ہو اور وہ پہلے کی طرح رب کریم کی تلاش میں مصروف ہو اور یہ دنیا جو کہ حرص و آز کی ایک کڑاہی کی شکل اختیار کر چکی ہے حقیقی معنوں میں انسان کے لئے امن و چین کی ضامن بن سکے۔
دنیا جو آج خودغرضی اور نفسانی خواہشات کی آماجگاہ ہے یہ صرف اسی صورت میں خوبصورت بن سکتی ہے کہ اس کے باشندے ان حقائق کے متلاشی ہوں جن سے روح کو غذا میسر ہوتی ہے اور ان لوگوں کی زندگیوں کو مثال راہ بنائیں جنہوں نے یادِالٰہی میں اپنے اوقات بسر کئے اور زہد کا چراغ کبھی بجھنے نہ دیا۔
اٹھ فریدا سُتیا وضو ساز نماز گزار
جو سر سائیں نہ نیویں سو سرکپ اتار
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے ہمارے رب حضورؐ کے صدقے ان اولیاء کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرما اور ہمیں ان باکمال ہستیوں کے نقش قدل پر چلا (آمین)
حضور قبلہ ثانی صاحب کا عرس مبارک اور آپ کے فرزند ارجمند پیر طریقت رہبر شریعت  فخر المشائخ صاحبزادہ حضرت پیر میاں جمیل احمد صاحب نقشبندی مجددی شرقپوری  کا بالترتیب 5,6 اکتوبر بروز ہفتہ اور اتوار شرقپور شریف میں  زیر نگرانی صاحبزادہ میاں ولید احمد شرقپوری سجادہ نشین  آستانہ عالیہ شرقپور شریف منعقد ہوگا اور بروز اتوار ختم چہلم کی دعا  دو بجے ہوگی۔
کتب کا عطیہ
2001ء میں پنجاب یونیورسٹی کو دس ہزار کتب کا عطیہ
اس ذخیرے میں مختلف علوم سے متعلق ہزاروں نایاب کتابیں ہیں
ان کتابوں کی فہرستوں کی چھ جلدیں آچکی ہیں پنجاب یونیورسٹی کو دیا جانے والا یہ سب سے بڑا ذاتی ذخیرہ ہے
ماہنامہ نورِ اسلام
اسلام کے محبت اور امن کے پیغام کو عام کرنے کے لئے آپ نے ایک ماہنامہ جاری کیا جو گزشتہ اٹھاون سال سے جاری ہے
اس پرفتن دور میں نوجوان نسل کی اصلاح کے لئے یہ رسالہ بڑا معاون ہے۔ اس رسالے کے بہت سے اہم نمبر شائع ہوئے جو عوام و خاص میں بڑا مبول ہا جن میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ  نمبر ، سیدنا صدیق اکبرؓ  نمبر،  حضرت شیر ربانیؒ  نمبر شامل ہیں۔
دارالمبلیغین حضرت میاں صاحب شرقپور شریف
1957ء میں آپ نے دارالمبلیغین کے نام سے ایک دینی ادارہ بچوں کے لئے قائم فرمایا جہاں سے بہت جید علماء کرام پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا بھر میں دین کی تبلیغ کی اور اولیاء کرام کا پیغام عام کر رہے ہیں آج بھی یہ ادارہ پوری آب و تاب سے چل رہا ہے۔
جامعہ شیر ربانیؒ برائے طالبات شرقپور شریف
1992ء میں آپ نے بچیوں کے لئے ایک دینی ادارہ قائم کیا جہاں مذہبی ماحول میں بچیوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے۔
شیر ربانیؒ  فری ڈسپسنری  شرقپور شریف
2002ء میں آپ نے شیر ربانی فری ڈسپنسری قائم فرمائی جہاں مریضوں کو فری ادویات دی جاتی ہیں ۔ فری ایمبولینس فری سفری شفاخانے کا سلسلہ بھی موجود ہے لاکھوں مریض اس سے فیض یاب ہو چکے ہیں
بانی تحریک یوم مجدد الف ثانیؒ
آپ نے دو قومی نظریہ کے بانی حضرت مجدد الف ثانیؒ  کی شخصیت کو اس پرفتن دور میں متعارف کروایا اس سلسلہ میں آپ نے پورے پاکستان اور دنیا بھر میں جلسے کئے اس لئے آپ کے اس کام نے تحریک کی صورت اختیار کر لی جو آج بھی جاری ہے۔
مختلف زبانوں میں دینی کتب دنیا بھر میں تقسیم کیں
آپ نے مختلف زبانوں انگریزی، عربی،  اردو وغیرہ میں دینی کتب شائع کروا کر دنیا بھر میں مفت تقسیم کروائیں  آپ اشاعت دین کو اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے اور یہ ذوق زندگی بھر جاری رہا۔