حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جنازہ روضہ اطہر پر پہنچا تو صدا آئی دوست کو دوست سے ملا دو

ہم حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جنازہ مبارک لے کر چلے۔ ہم نے اجازت کیلئے دروازہ پر دستک دی اور عرض کیا تو دروازہ خود بخود کھل گیا اور ہم نہیں جانتے کہ دروازہ ہمارے لئے کس نے کھول دیا جب کہ اس وقت حجرہ مبارک کے اندر کوئی بھی نہیں تھا۔ حضورؐ کی آواز آئی انہیں داخل کر دو اور دفن  بھی کر دو۔
حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ  ؓ فرماتی ہیں۔
جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے وفات  پائی تو بعض  صحابہ کرامؓ  کہنے لگے کہ ہم انہیں شہدا میں دفن کر دیں گے اور جنت البقیع میں لے جائیں گے۔ میں نے کہا کہ اپنے حجرہ میں اپنے حبیبؐ کے پاس دفن کروں گی۔ اس اختلاف میں تھے کہ مجھ پر نیند  کا غلبہ ہوا، میں نے آواز سنی کہ کوئی شخص کہتا ہے:
ضَمُّوالْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ۔
دوست کو دوست کے ساتھ ملا دو۔ جب میں بیدار ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس آواز کو سب نے سنا تھا یہاں تک کہ مسجد میں بھی لوگوں نے سن لیا۔
امام آجری کی روایت:
حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ
جب ان کا وصال کا وقت آیا تو انہوں نے صحابہ کرام سے کہا کہ جب میں انتقال کر جائوں اور تم میری تجہیز و تکفین سے فارغ ہو جائو تو اس کمرہ کے دروازہ کے سامنے لے جانا جس میں حضورؐ  آرام فرما ہیں، وہاں جا کر رکھ جانا اور عرض کرنا:
السلام علیک یا رسول اللہ۔
یہ ابوبکر صدیق ہیں جو کہ اجازت کے طلب گار ہیں اگر اجازت مل جائے اور بند دروازہ کھل جائے تو تم مجھے وہاں داخل کر دینا اور دفن کر دینا اور اگر تمہیں اجازت نہ مل سکے تو تم مجھے جنت البقیع کی طرف لے جانا اور وہاں مجھے دفن کر دینا چنانچہ صحابہ  کرام نے ایسا ہی کیا۔ حضورؐ کے مزار اقدس پر حاضر ہو کر عرض گذار ہوئے۔  تو تالہ خود بخود گر گیا اور دروازہ خود بخود کھل گیا اور حجرہ مبارکہ کے اندر سے آواز آئی حبیب کو  حبیب کے پاس داخل کر دو کیونکہ حبیب سے ملاقات کے لئے حبیب بہت ہی خواہش مند ہیں۔
حضرت سیدنا  یحییٰ  ؑ کے سرمبارک کا شہادت کے بعد کلام فرمانا
حضرت سیدنا یحییٰ بن زکریا  ؑ اپنے بارہ حواریوں کے درمیان میں جلوہ گر ہو کر لوگوں کو مسائل سمجھاتے رہتے تھے۔جو باتیں وہ لوگوں کو سمجھاتے تھے ان میں  سے ایک یہ بھی  بات تھی کہ آپ ماموں  اور حقیقی بھانجی سے نکاح کرنا بھی منع فرماتے تھے۔
ان لوگوں کے بادشاہ کی ایک بھانجی تھی جو کہ بادشاہ کو بہت اچھی لگتی تھی اور وہ اس سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا۔ علاوہ ازیں وہ ہر روز اس سے بدکاری بھی کیا کرتا تھا چنانچہ اس لڑکی کی ماں تک یہ بات پہنچی کہ آپ اس نکاح سے منع کرتے ہیں تو اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ جب تو بادشاہ کے پاس جائے اور تجھ سے بادشاہ پوچھے کہ تجھے کوئی حاجت ہے؟ تو تم اس سے کہنا کہ میری حاجت یہ کہ یحییٰ بن زکریا کو ذبح کرو۔
چنانچہ جب وہ لڑکی بادشاہ کے پاس آئی تو اس نے اس کی حاجت کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ  میری حاجت یہ ہے کہ یحییٰ بن زکریا کو ذبح کرو۔
بادشاہ نے کہا اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لو۔
اس لڑکی نے کہا کہ میں تم سے بس یہی مانگتی ہوں اور کچھ نہیں۔
چنانچہ جب اس نے کچھ بھی اور مانگنے سے انکار کر دیا تو بادشاہ نے ایک بڑا تھال منگوایا اور حضرت سیدنا یحییٰؑ کو بھی بلوایا اور آپ کو وہاں بڑی بے دردی کے ساتھ ذبح کر دیا۔
آپ کے مقدس خون کے قطرے زمین پر گر کر چمکتے رہے (مضطرب رہے)  یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کر دیا اور اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ  ان کو اس خون   پر قتل کرتا رہے یہاں تک کہ اس خون کو سکون آئے چنانچہ اس نے ستر ہزار لوگوں کو قتل کر دیا۔
حضرت شہر بن حوشبؓ فرماتے ہیں کہ جب بادشاہ نے حضرت سیدنا یحییٰؑ کو شہید کر دیا تو اس لڑکی نے آپ کا سر مبارک سونے کے تھال میں رکھا اور وہ سر اس نے اپنی ماں کو تحفہ کے طور پر بھیج دیا۔
پھر حضرت سیدنا یحییٰ  ؑ کا وہ سر اس تھال میں اس عورت سے کہتا ہے کہ نہ بادشاہ اس لڑکی کیلئے حلال ہے اور نہ ہی یہ لڑکی اس بادشاہ کے لئے حلال ہے۔
یہ بات حضرت سیدنا  یحییٰؑ کے سرمبارک نے تین مرتبہ کہی۔
اس لڑکی کی ماں نے جب آپ کا سرمبارک دیکھا تو کہا کہ آج میری آنکھیں ٹھنڈی ہو گئی ہیں اور ملک میں امن قائم ہو گیا ہے۔
اس لڑکی نے ریشمی پوشاک زیب تن  کی، ریشمی اوڑھنی اور ریشمی عبا پہنی پھر وہ محل کی چھت پر چڑھ گئی۔ اس لڑکی نے کتے پالے ہوئے تھے جنہیں وہ انسانوں کا گوشت کھلاتی تھی۔وہ اپنے محل پہ چل رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر تیز آندھی بھیج دی۔ اس آندھی نے اس کو اور اس کے کپڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا  اور اسے اس کے کتوں کی طرف گرا دیا جب وہ گری تو ان کتوں نے اسے مارے بغیر اس کو نوچ نوچ کر کھانا شروع کر دیا اور اس کی ماں دیکھ رہی تھی جو آخری چیز انہوں نے اس کی کھائی وہ اس کی دونوں آنکھیں تھیں۔ (اس طرح اس بدبخت کا خاتمہ  ہو گیا)
’’وہ جو مر کے پھر زندہ ہوئے‘‘
ابوالحماد مولانا محمد احمد برکاتی