ٹیپو سلطان شہید.... برطانوی سامراج کے لیے سدِسکندری

تحریر: جی آر اعوان
    شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ یہ الفاظ حریت فکر، آزادی وطن اور دین اسلام کی فوقیت و فضیلت قائم رکھنے والے سلطان ٹیپو کے ہیں۔ جو آزادی کا پرچم بلند رکھنے کے لیے برطانوی سامرا ج کے مذموم عزائم کی راہ میں سدِسکندری بن گئے۔
    ٹیپو سلطان 20نومبر 1750ءکو بھارت کے موجودہ شہر بنگلورسے 21 میل دور شمالی بنگلور کے نواحی گاﺅں یوسف آباد میں پیدا ہوئے۔ ٹیپو سلطان کی والدہ کا نام فاطمہ فخرالنساءتھا جو کاڈیا کے قلعے کے گورنر میرمحی الدین کی بیٹی تھیں اور سلطان ٹیپو کے والد حیدر علی کی دوسری بیوی تھیں۔
    سلطان ٹیپو کا تعلق عربی النسل قریشی خاندان سے تھا یہ خاندان مکہ سے جنوبی ہند کے علاقے ”گلبرگ“ پہنچا ۔ٹیپو سلطان کا نام بزرگ مستان شاہ ٹیپو کے نام پر رکھا گیا۔ ٹیپو کے نام کا ایک حصہ فتح علی، اس کے والد اور دادا سے منسوب ہے۔ اس لیے انہیں فتح علی سلطان ٹیپو کہا جاتا ہے۔
    سلطان ٹیپو کی پیدائش پر اس کے والد حیدر علی نے چالیس روز تک جشن منایا، امراءکی دعوتیں کیں، غرباءمیں رقوم تقسیم کیں اور ماتحت فوجیوں اور افسروں کو انعامات دیئے، اس حوالے سے یہ بات بہت مشہور تھی کہ سلطان ٹیپو کی ولادت پر جشن منانا اور بزرگ کے نام پر نام رکھنا ایک نہایت اچھا شگون تھا ،جو نہ صرف مسلم برادری بلکہ وسطی ایشیا کے ہر فرد کے لیے سعد و مبارک ثابت ہوا۔
    سلطان ٹیپو کے والد حیدر علی سلطنت ِ میسور کے فوجی افسر تھے ،1761ءمیں حیدر علی سلطنت میسور کے فرماں روا بن گئے حیدر علی کو سرور کائنات کے قبیلے قریش کے ساتھ اپنی نسبت پر بڑا نازتھا۔
    حیدر علی پڑھے لکھے نہیں تھے تاہم ان کا ایک مقولہ تھا مجھ جیسے جاہل سے اللہ نے وہ کارنامے انجام دلوائے ہیں جو ہزاروں پڑھے لکھے افراد بھی نہیں دے سکتے اور یہ قدرت کا انعام ہے ۔ حیدر علی کے والد فتح محمد نواب آف کرناٹک کی فوج میں 50 رکنی دستے کے کمانڈر تھے۔
        سلطان ٹیپو کے والد نے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لیے اعلیٰ درجے کے استاد مقرر کیے بہت کم عرصے میں ذہین و فطین سلطان ٹیپو کو ہندی ، اردو، عربی، فارسی، کناڈا جیسی زبانوں پر عبور حاصل ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں انہوں نے قرآن مجید، حدیث شریف اور اسلامی فقہ کی تعلیم مکمل کر لی سلطان ٹیپو نے شہ سواری، نشانے بازی اور دیگر جنگی امور میں بھی مہارت حاصل کر لی۔
    الیگزینڈر بیٹ سن نے اپنی کتاب ”وار ود ٹیپو سلطان“ میں لکھا ہے سلطان ٹیپو کا قد 5 فٹ 8انچ تھااس کی گردن کوتاہ جبکہ کندھے کسرتی تھے، ہاتھ پاﺅں کی نسبت بازو اور رانیں چھوٹی تھیں، کہنیاں محرابی جبکہ ناک الف جیسی تھی تاہم آنکھیں بڑی بڑی اور روشن تھیں رنگ بہت گورا تھا۔
    حیدر علی نے سلطان ٹیپو کی تعلیم و تربیت کے ساتھ اسے فنون حرب میں بھی اتارُو اور یکہ تاز بنایا     سلطان ٹیپوابھی ٹیپو 15 برس کے تھے جب 1766ءمیں انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ انگریزوں کے خلاف میسور کی پہلی لڑائی لڑی۔
    1767ءمیں کرناٹک پر قبضے کے دوران انہوں نے زمینی فوج کی کمان کی، 1775-79ءکی پہلی اینگلو مہارتھا وار میں شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کیا،انگریزوں کو حیدر آباد دکن سے نکالنے کے لیے حیدر علی نے جو فوج بھیجی اس کی کمان بھی     سلطان ٹیپو نے کی۔ ٹیپو سلطان نے اپنی فہم فراست سے نواب آف حیدر آباد کو اپنی مدد کے لیے قائل کیا جنہوں نے سلطان ٹیپو کو نصیب الدولہ فتح علی خان بہادر کا لقب عطا کیا۔
    1782ءمیں اپنے والد حیدر علی کی وفات کے بعد سلطان ٹیپو نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی اور ایک قلیل مدت میں مختلف الجہات اصلاحات سے سلطنت کو صحیح معنوں میں تعمیری، زرعی، صنعت، فوجی، تہذیبی، تمدنی اور دیگر شعبوں میں خود کفیل بنا دیا، نئے قوانین و ضوابط کے تحت فوج منظم کی۔
    سلطان ٹیپو نے اسلحہ سازی اور جہاز سازی کے کارخانے لگائے، بندگاہیں بنوائیں، بحریہ کو فروغ دیا بحری اڈے قائم کیے، راکٹ پہلی بار ٹیپو کے دور میں ہی چلائے گئے فوج کو اسلحہ سے لیس کیا جو دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
    سلطان ٹیپو کو وقت اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کاادراک تھا۔ فرانس کے نپولین بونا پارٹ، عرب حکمرانوں، مسقط، افغانستان، ایران، ترکی، اور خلیفة المسلمین سے اتحاد بین المسلمین کے لیے رابطے کیے۔ فرانسیسیوں کی مدد سے فوج کو جدید خطوط سے آراستہ کیا۔
        سلطان ٹیپو کو ایک ایسے وقت میں حکومت ملی جب انگریز نواب سراج الدولہ کو سازشوں اور مذموم ہتھکنڈوں سے شکست دینے کے بعد پورے ہندوستان پر قبضہ میں مصروف تھے۔ اسلام اور مسلمان حکومتوں کو ختم کرنے پر کمر بستہ تھے، سلطان ٹیپو انتہائی ذی فہم اور دور اندیش حکمران تھے انہوں نے محسوس کر لیا کہ اگر غاصب اور قابض انگریز کو بروقت لگام نہ ڈالی تو وہ ملک اور مسلمانوں کو برباد کر دے گا۔
        سلطان ٹیپو نے اپنے 16سالہ مختصر دور حکومت میں طویل جنگ و جدل اور دیگر فوجی انتظام و انصرام کی تکمیل کے باوجود علم و ادب، تہذیب و ثقافت، صنعت وحرفت، زراعت، ملکی مصنوعات کو حیرت انگیز طور پر فروغ دیا۔ چاول، ناریل، ریشم، صندل، کافی، کپڑے اور ہاتھی دانت سے متعلق صنعتوں کو لازوال ترقی دی، آج بھی ہندوستان کی معیشت کی بنیاد سلطان ٹیپو کی اصلاحات و ایجادات کے باعث پائیدار اور مستحکم ہے۔
        سلطان ٹیپو کو اسلام کی محبت نے وطن کی آزادی سے غافل کیا نہ وطن کی آزادی کے شوق میں انہوں نے اسلام کی خدمت میں کوتاہی کی، ہندو مسلم نااتفاقی مٹانے اور غیر ملکی استعمار پرستوں کے خلاف مسلمانوں اور ہندﺅں کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے سلطان ٹیپو کی کوشش تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی ہوئی ہیں۔
    ہر محکمے میں ہندوﺅں اور مسلمانوں کو مساوی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی جاتی تھی، فارسی کے ساتھ کنڑی دفتر بھی قائم کیا گیا تھا، مسلمان اور ہندو وزراءکی تعداد برابر تھی،     سلطان ٹیپو ہندوستان کے پہلے مجاہد تھے جنہوں نے اہل ہند اور اہل مشرق کو انگریزوں کے خلاف بیدار اور متحد کیا۔
    حق پرستی اور رواداری سلطان ٹیپو کی نمایاں خصوصیت تھی۔ ان کے بڑے بیٹے نے ایک غریب کسان کے کھیت سے بلااجازت سبزی توڑ لی، اس عظیم بادشاہ نے بیٹے کو سزا دے کر عدل و انصاف کا بول بالا کیا ”قلعہ ڈنڈیکل“ پر حملے کے وقت حکم دیا ،حملہ قلعے کی پچھلی جانب سے نہ کیا جائے کیونکہ اس طرف راجہ کا مندر ہے مسلم اور ہندوﺅں میں بلا رو رعایت انصاف کرنا     سلطان ٹیپو کا خاصا تھا۔ ظالم کے علاوہ کسی کو بھی ناحق تکلیف دینا انہیں سخت ناپسند تھا۔
    ”ترخیا پلی مندر“ کے ساتھ ایک بہت بڑی جاگیر وقف کرنا، سلطان کی مذہبی رواداری کی روشن دلیل ہے اس جیسی دیگر مثالیں تیبخور، میسور، ارکاٹ اور دیگر علاقوں میں بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ سلطان ٹیپو نے دکن کو تہذیب و ثقافت کا گہوار بنا دیا، مسلمانوں اور ہندوﺅں کی بڑی تعداد سلطان ٹیپو کو آج بھی یاد کرتی ہے۔
    دکن میں خواتین عموماً نیم برہنہ رہتی تھی، جنوب ہند میں شوہروں کے تعدد کی وبا عام تھی سلطان نے عورتوں کو لباس پہننے کا سلیقہ عطا کیا، کھانا کھانے کے آداب سے روشناس کرایا سلطان ٹیپو نے دنیا کو باور کرایا کہ ایک مسلمان پکا مسلمان ہو کر ہی بہترین محب وطن ہو سکتا ہے۔
    فرانسیسی انجینئرز کی خدمات سے بند بنوائے، ریاست میں زرعی تری کو استحکام بخشا۔     سلطان ٹیپو نے زمانے کو بتایا اسلام اور حب الوطنی ایک ہی سینے میں سمائیں تو بہتر نتائج نکلتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی ضد نہیں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔
    اچھوتوں میں اشاعت اسلام سے ان کا مقام معاشرے میں بلند کیا، برہمنوں کے جبر و استبداد سے اچھوتوں کو ہمیشہ کے لیے نجات دلائی، ٹیپو مجاہد تھا جو سیاست میں وطن پرور تھا اقتصاد میں کسان دوست تھا اور اوصاف میں     سلطان ٹیپو تھا۔
        سلطان ٹیپو نے تخت و تاج اور میدان جنگ والد سے ورثے میں پایا، لیکن اسے آزادی وطن پر قربان کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا ،سلطان ٹیپو نے ہندوﺅں اور ان کے مذہبی پیشواﺅں کی عزت و احترام عطا کیا، ان کی ضروریات کا خیال رکھا، مسلمان علماءہندو مذہبی شخصیات کو برابری کی سطح پر رکھا تاکہ کسی کو کسی پر فوقیت کا احساس نہ ہو۔ میدان کار زار کی پہم مصروفیات نے ٹیپو کو اپنے تخت پر بیٹھنے کا زیادہ موقع نہیں دیا وہ اوائل عمری سے ہی دلیر، شجاع، جنگجو اور دور اندیش تھے سچے مسلمان ہونے کے باعث عمر بھر شریعت، طریقت اور سنت نبوی پر قائم رہے، علماءفضلا، مشاہیر، ادبائ، شعراءاور دانشوروں کی قدرومنزلت ٹیپو کو پسند تھی۔ نماز کے پابند ٹیپو کو مساجد کی نگہداشت سے رغبت تھی۔
    برصغیر پاک و ہند کے پہلے حکمران ہیں جنہوں نے اردو کو باقاعدہ فروغ دیا اور دنیا کا پہلا اردو اخبار ”فوجی“ نکالا سلطان ٹیپو واحد مشرقی حکمران تھے جن کے شب و روز محلوں اور ایوانوں کے بجائے لڑائی کے میدانوں اور فوجی خیموں میں گزرے، آخری چار سال تو انہوں نے خیمے میں کمبل اور اینٹ کے تکیے پر گزارے ہمیشہ سادہ غذا استعمال کرتے تھے۔

سلطان ٹیپو نے عورتوں کو توقیر بڑھانے کے لیے عورت فروشی کو ممنوع قرار دیا۔ سلطنت خداداد میں زنا کی سزا قتل مقرر تھی، میسور گریٹر کے مصنف کے مطابق سلطان ٹیپو دن بھر بغیر آرام کے سلطنت کے امور میں مصروف رہتے تھے سخت سے سخت خطرے میں بھی اطمینان کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ دنیا کی کوئی بات کسی حالت میں بھی انہیں خوف زدہ نہیں کر سکتی تھی۔
    سابق بھارتی صدر زین العابدین عبدالکلام نے 30نومبر 1991ءکو ایک لیکچر میں سلطان ٹیپو کو دنیا کے پہلے جنگی جہاز کا بانی قرار دیا۔ برطانیہ نے سرننگاپٹم میں جو دو راکٹ پکڑے تھے وہ آج بھی لندن کے شاہی فوجی عجائب گھر میں موجود ہیں۔
    مورخ ڈاکٹر دلاری قریشی کے بقول سلطان ٹیپو ایسے جنگو بادشاہ تھے جو دشمن کے خلاف متحرک ہونے میں تاخیر نہیں کرتے تھے ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر لڑنا ٹیپو کی شان تھی ،میسور آرمی کو ایک عسکری سائنس کا ادارہ بنانا ان کا کارنامہ ہے۔
    سلطان ٹیپو نے تمام چھوٹی چھوٹی جنوبی ریاستوں کو تسخیر کیا، نظاموں کو شکست دی، وہ چند ہندوستانی بادشاہوں میں سے تھے جنہوں نے برطانوی دشمن کو شکست دی۔ سلطان نے نئے سکوں، کیلنڈرز، اوزان پیمائش کو فرانسیسی تکنیک کے مطابق متعارف کرایا۔ مورخین کا کہنا ہے سلطان ٹیپو بنیادی طور پر ا یک صوفی تھے مگر ان کے والد حیدر علی نے انہیں شمشیر زن سپاہی بننے پر مجبور کیا۔
    آج مسلمانوں پر جو ثقافتی حملے ہو رہے ہیں وہ فکری سرمائے سے محرومی کے باعث ہو رہے ہیں ۔ نئی نسل مطالعے کی عادت سے محروم ہے، کلچر سسکیاں لے رہا ہے۔
    قومی ہیرو ماضی کی داستان بن کر رہ گئے ہیں مشاہیر کے کردار، اوصاف اور کارناموں، انداز فکر و عمل، اور اسلامی قواعد و ضوابط کے بارے میں نئی نسل کو آگاہ کرنے والا کوئی نہیں۔ اگر اب بھی ان کوتاہیوں کا ازالہ کیا جائے تو حب الوطنی، سرفروشی اور فہم دین کے جذبے آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں تاہم اس کے لیے کسی سلطان ٹیپو کی ضرورت ہے۔
    4مئی 1794ءسلطان ٹیپو کی شہادت کا دن ہے،انہوں نے دین کی سربلندی اور شمع آزادی کے تحفظ کے لیے شہید ہونا پسند کر لیا    سلطان ٹیپو کی قبر کی مٹی میں آج بھی بے شمار زندہ افراد کی زندگیوں سے زیادہ حرارت موجود ہے۔عموماً بادشاہوں کے مزار سیاست اور تفریح کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن ٹیپو سلطان کا ہر سال عرس ہوتا ہے۔ مسلمان، ہندو اور عیسائی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
o