شیر میسور....منفرد اور اچھوتا کھیل

سدرہ کوثری
تصاویر: عون اے راجا
تاریخ کبھی مستند نہیں ہوتی کیونکہ اس کو بیان کرنے والے اپنے اپنے ذاتی تجربات اور تعصبات سے تاریخ کا مختلف رُخ دکھاتے ہیں۔ ہر انسان اپنی اپنی تاریخ بیان کرتا ہے اور اس ہی کہ وجہ سے ہمیں ایک ہی واقعے کے کئی مختلف پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا ڈرامیٹک کلب کی جانب سے 125ویں سالگرہ پر ایسا منفرد اور اچھوتا سالانہ کھیل پیش کیا گیا جو لوگوں کو شاید کبھی نہ بھولے۔
"شیرِ میسور" جی سی ڈی سی کی ایسی کاوش ہے جسے دیکھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس ملک میں ہنر مند افراد کو اگر موقع ملے تو وہ کسی بڑے، مصنف ، ڈائریکٹر یا پروڈیوسر سے کم نہیں۔ اس کھیل کو لکھتے وقت تاریخی حقائق کو مصنف نے ملحوظ خاطر رکھا اور ٹیپوکی غیر معمولی صفات کے باوجود بھی اس سے جو غلطیاں ہوئیں، انکو بیان کرنے کے باوجودکھیل میں دکھائے گئے واقعات ٹیپو کے مقام و مرتبے کو کم نہیں کرتے۔
جی سی ڈی سی کا سالانہ کھیل "شیرِ میسور" کلب کے ایڈوائزر اور انگریزی ادب کے استاد سمیر احمد نے لکھا۔ اس کے ہدایت کار ڈاکٹر سلمان بھٹی اورسمیر احمد تھے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی ایڈوائزر ڈاکٹر عاطف یعقوب خان اور یاسر سلطان تھے۔ شیرِ میسور کی پروڈکشن ٹیم میں ایک لمبی فہرست شامل ہے جس میں ڈرامیٹک کلب کے عہدیداران اور ممبران شامل ہیں۔ پہلے سین کا آغاز برٹش عجائب گھر کے منظر سے شروع ہوتا ہے جہاں میسور کے کردار مجسموں کی صورت میں کھڑے ہیں اور تاریخ دان ووین لاک وڈ(حوریہ احمد) انگریزی میں میسور کی تاریخ کے متعلق بتا رہی ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ کھیل تھا لیکن اس کے سب سے دلچسپ اور ہردلعزیز کردار یقیناً دو چوکیدار قطب الدین خان( محمد علی بٹ) اور احمد خان ( مہران صدیق )تھے ۔ یہ دونوںکردار پورے کھیل میں سب کی توجہ کا مرکز رہے اور یقیناً انہوں نے اپنے کردار سے انصاف کیا اور کھیل میں مزاح سے بھرپور سینز کو خوب نبھایا۔ پورنیا(طلحہ اختر چہور) اور قطب الدین(محمد علی بٹ) کا کردار نبھانے والے اداکاروں نے پہلی مرتبہ سٹیج پر اداکاری کی اور سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس کے علاوہ میر صادق کا کردار ڈرامیٹک کلب کے سیکرٹری عبداللہ ولید ہاشمی نے ادا کیا اور انہوں نے اس کردار کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کہ میر صادق نے بھی ٹیپو کی سیاسی کمزوریوں کو بھانپنے کے بعد اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ کھیل کے ہیرو اور شیرِِ میسور کے کردار میں محمد عمر ڈار کو دیکھا گیا جنہوں نے اپنے ڈائیلاگ اور تاثرات کا بہترین استعمال کر کے ٹیپو سلطان کے کردار میں مزید جان ڈال دی۔ اس کھیل میں دکھایا گیا ہے کہ ٹیپو کو لوگ جس نظریے سے دیکھتے ہیں وہ اس کے برعکس بھی تھا، وہ انسان تھا اور اس سے بھی ریاستی معاملات کو سنبھالنے میں کچھ غلطیاں ہوئیں ۔ٹیپو کی منکوحہ یعنی ملکہ رقیہ بیگم (یسری انور)اور اس کی کنیزِ خاص جہاں آرائ(صوفیہ سرور) کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں بھی یہ ہی دکھایا گیا ۔ اس کی والدہ ملکہ فخرالنسائ(جبین) نے اس کو مستقبل سے بارآور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن ٹیپو پُرعزم تھا کہ وہ اس معرکے سے پیچھے نہ ہٹے گا اور انگریز رچرڈ ویزلی(علی عثمان باجوہ) کی غلامی کوکبھی قبول نہ کرے گا ۔ لیکن جب ایک ایک کر کے سارے ساتھی منتشر ہوگئے تو ٹیپو کو اندازہ ہوا کہ اس کے پاس جرا¿ت اور شجاعت کے سوا کچھ نہ بچا ہے۔اس نے آخری دم تک غلامی کو قبول نہ کیا۔ جب میر صادق اور پورنیا نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ، اس کا وفادار سالار میر غفار(علی نواز) بھی انگریزوں سے لڑتے ہوئے مارا گیا،اس کو اپنے چاروں بیٹے یرغمالی بنوانے پڑے، تب سید محب(حافظ حبیب چودھری)اس کے سپاہی( آفاق عمران) اوران دو چوکیداروں نے ٹیپو کا ساتھ نہ چھوڑا۔وہیں شیروں کا شیر یعنی بہادر (جوٹیپو کا پسندیدہ پالتو شیر اور میسور کی آزادی کی نشانی تھا)وہ آزاد کر دیے جانے کے باوجود بھی اس کی مدد کو قلعہ واپس آگیا۔
کھیل کی دیگر کاسٹ میں محمد منیر، حمزہ اشفاق، مومن یار خالد، ملیک افتخار خان، عمر جمیل، حفضہ طاہر،فزا امجد، اقراءگیلانی میسوری، جاذب اکرم، شہریار مرتضیٰ باگھڑ اور محمد عمر شہدی شریک تھے۔ شیرِ میسور کا سیٹ نہایت خوبصورتی سے مستری جان اینڈ سنز نے بنایا تھا جس کی ناظرین نے خوب داد بھی دی۔
شیرِ میسور کے مصنف سمیر احمد کہتے ہیں کہ ہمیں ایسا کچھ پیش کرنے کی ضرورت تھی جو ہمارے لوگوں کو ہماری زبانی تاریخ کا ایک پہلو بتا سکے۔پاکستان میں ایک مخصوص قسم کی تاریخ پڑھائی جاتی ہے جبکہ برطانیہ کے ناولز میں ٹیپو کو ایک جابر حکمران کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے اس ڈرامے کا سکرپٹ ایک فلم کا سکرین پلے سمجھ کر لکھا اور خواہش بھی یہ ہی تھی کہ اس موضوع پر فلم بنائی جائی لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ سمیر کہتے ہیں کہ میں نے سوچا یہ جی سی کے ڈرامیٹک کلب کیلئے 125ویں سالگرہ پر ایک تھیٹر ڈرامے کی صورت میں پیش کیا جائے تو یقیناً اس سکرپٹ کو پہچان ملے گی اور اس کی پروڈکشن بھی انہوں نے ایک فلم کے انداز میں ہی کی۔ اس کھیل کو لکھنے میں ساڑھے تین ماہ جبکہ پرفارمنس کی تیاری میں ایک ماہ لگا۔
شیرِمیسور کو لکھنے کے پیچھے دو عوامل تھے، ایک تو یہ کہ بھارتی مصنف گریش کرنارڈ کا لکھا ڈرامہ ڈریمز آف ٹیپو سلطان اور ایک برطانوی ناول نگار سر والٹر سکاٹ کا سرجنز ڈاٹر، ان دونوں کو پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ ہمارے ہیرو کی داستان کوئی اور کہے اس سے بہتر ہے کہ ہم اس داستان کو بیان کریں۔ ٹیپو سلطان کی زندگی پر بنا بھارتی ڈرامہ اور پاکستانی فلم بھی دیکھی، اس کے متعلق مختلف مصنفوں کی کہانیاں اور ناولز پڑھے تو انداہ ہوا کہ اس کی زندگی بہت ڈرامائی انداز میں چلی ۔ کیسے اسے انگریزوں سے شکست کے بعد اپنی اولاد تک سے جدا ہونا پڑا اور شہادت کے بعد بھی اس کی لاش کچھ عرصہ تک نہ مل سکی۔ ٹیپوکوئی مافوق الانسانی ہستی نہ تھی، اس کے جذبات بھی تھے اور اس کی ذات میں کمزوریاں بھی تھیں جنہیں ہر مو¿رخ چھپاتا یا پھر کسی اور طرح سے بیان کرتا ہے۔
تھیٹر پر فلیش بیک کے مناظر دکھانا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن سمیر نے ایک کامیاب کوشش کی اور ناظرین کے دل موہ لیے۔ اس کے علاوہ نذیر احمد میوزک سوسائٹی کے عہدیداران اور ممبران نے علامہ اقبال کی فاتح ٹیپو سلطان کیلئے لکھی نظم "تو رہ نوردِ شوق ہے۔۔۔ منزل نہ کر قبول" کو نہایت عمدہ انداز میں قوالی کی صورت میں پیش کیا جس نے کھیل کو مزید چار چاند لگا دیے اور حاضرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔
ایکٹر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نورالحسن ملک نے بھی سمیر اور ڈرامیٹک کلب کی اس کوشش کو سراہا اور وہ سٹیج پر بہت جذباتی بھی نظر آئے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ ایک پل کو ایسا لگا جیسے ہم کوئی فلم دیکھ رہے ہوں اور اتنی شفاف پرفارمنس پر جی سی ڈی سی اور وائس چانسلر ڈاکٹر خلیق الرحمان داد کے مستحق ہیں۔ اس کھیل کے سکرپٹ کو رائل کورٹ تھیٹر میں بھی بھیجا گیا ہے اور اگر انہی یہ سکرپٹ پسند آیا تو وہ اپنے اداکاروں کی مدد سے اس پر پرفارم بھی کریں گی جو یقیناً ہم سب کیلئے اعزاز کی بات ہوگی۔