جاسوس شہزادی ....نور النسائ

رابعہ علی
ra3046739@gmail.com
نورالنساءٹیپو سلطان کی پڑپوتی ہیں جو کہ ہندوستان، برطانوی اور
فرانسیسی پس منظر رکھتی ہیں مگر ان کو سب سے زیادہ شہرت فرانس میں ملی جہاں پر انھیں شہزادی کے طور پر جانا اور بے پناہ پسند کیا جاتا ہے۔نورالنساءکی زندگی پر کافی عرصہ پردا پڑا رہا جو کہ بے نقاب اس وقت ہوا جب ایک بھارتی مصنفہ نے نورالنسا پر کتاب لکھی۔ٹیپو سلطان کا زندگی کی سب سے بڑی خواہش آزادی تھی۔ وہ کسی دوسرے ملک کی تسلط برداشت نہیں کر سکتے تھے۔نواالنسا ءبھی اپنے جد امجد پہ گئی تھیں وہ بھی ہر ملک کو آزاد دیکھنا چاہتی تھیں۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں کے زیرِ قبضہ فرانس میں کئی سطحوں پر تحریکِ مزاحمت جاری تھی۔ برطانیہ کی خفیہ سروس نے پیرس میں اپنے جاسوسوں کا جال پھیلا رکھا تھا جسکے ذریعے پل پل کی خبر اتحادی کمان کو پہنچتی تھی۔ نورالنساءجرمنوں کے خلاف کام کرنے والی خاتون ریڈیو آپریٹر تھیںنورالنساء کا باپ ص±وفی منش انسان تھا، عدم تشدد کا قائل اور عارفانہ موسیقی کا شیدائی جبکہ ا±س کی والدہ ایک نو مسلم امریکی خاتون تھی۔نورا لنسا ءسن 1914ءمیں پیدا ہوئی۔ پہلی جنگِ عظیم کے وقت بلومز بری میں پیدا ہونے والی یہ لڑکی دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنوں کی قید میں انتہائی اذیت ناک حالات میں دم توڑ گئی۔1943ء میں نازیوں نے اِن جاسوسوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور ایک ایسا وقت بھی آیا کہ نورالنساء کے تمام ساتھی گرفتار ہوگئے اور پیرس میں اتحادیوں کے لِیے پیغام رسانی کی تمام تر ذمہ داری اس نوجوان خاتون پر آن پڑی لیکن آخر کار جرمن خفیہ سروس گستاپو نے نور کو بھی آن لیا۔نازی پنجے کی گرفت میں آنے کے بعد نور کا حوصلہ مزید مضبوط ہوگیا اور راز ا±گلوانے کے سارے نازی ہتھکنڈے ناکام ہوگئے۔ نور کی زبان ک±ھلوانے کے لئے ا±سے جو جو اذیتیں دی گئیں ا±ن کا اندازہ اس امر سے ہوجاتا ہے کہ جنگ کے بعد نازیوں پر چلنے والے جنگی جرائم کے مقدّمے میں گستاپو کے متعلقہ افسر، ہانس جوزف کیفر سے نورالنساء کی موت کے بارے میں پوچھا گیا تو سنگدِل افسر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔نورالنساء کا بچپن پیرس کے نواح میں گزرا۔ وہ اپنے خیالات میں گ±م رہنے والی اور طلسمی کہانیاں پڑھنے والی ایک بچّی تھی لیکن 1927ء میں جب وہ صرف تیرہ برس کی تھی تو والد کا انتقال ہوگیا اور والدہ اس صدمے سے مستقلاً سکتے میں آگئیں۔چار بچّوں میں سب سے بڑی ہونے کے سبب سارے خاندان کی ذمہ داری نورالنساء کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی۔1940ء میں جب جرمنوں نے فرانس پر قبضہ کیا تو نورالنساکا سماجی اور سیاسی شعور پختہ ہوچکا تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اب والد صاحب کی طرح محض عدم تشدد پہ یقین رکھنے اور صوفیانہ موسیقی میں گم رہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ حالات براہِ راست عملی اقدام کا تقاضا کر رہے ہیں۔نور کو بچپن ہی سے ریڈیو پر بچّوں کو کہانیاں سنانے کا شوق تھا اور وہ ریڈیو اور وائرلیس کی تکنیک سے قدرے شناسا تھی چنانچہ جرمنوں کے خلاف تحریکِ مزاحمت میں ا±س نے خفیہ پیغام رسانی کا میدان چ±نا یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نور عنایت خان جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی اولین خاتون ریڈیو آپریٹر تھی۔ اس نے چھبیس برس کی عمر میں خود کو تحریکِ مزاحمت کے لئے وقف کر دیا تھا اور ا±نتیس برس کی عمر میں جرمنوں کے ہاتھوں ایک اذیت ناک موت سے ہم کنار ہوئی۔نرم و نازک خدوخال، گہری سیاہ آنکھوں اور دھیمے لہجے والی حسین و جمیل خاتون کی خطر پسند زندگی نے کئی قلم کاروں کو اپنی جانب راغب کیا اور اب تک اس کی زندگی پر عالمی شہرت کے دو ناول تحریر کئے جا چکے ہیں۔نور عنایت خان کو اپنے جدِ امجد سلطان ٹیپو سے والہانہ عقیدت تھی اور ا±سی روایت پہ چلتے ہوئے انھوں نے ہندوستان کو انگریزی عمل داری سے پاک کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب خفیہ سروس میں بھرتی کے لئے انٹرویو ہوا تو نور عنایت نے انگریز افسر سے صاف صاف کہہ دیا کہ فی الحال ہمارے سامنے ایک مشترکہ دشمن نازی جرمنی کی شکل میں موجود ہے لیکن نازی ازم کا خاتمہ ہوتے ہی میں آزادیء ہند کے لئے انگریزوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہوجاو¿ں گی۔دوسری جنگ آزادی کے دوران جرمن فوج نے اس کا وائرلس سیٹ‘ کوڈ بک اور پرانے بھیجے ہوئے پیغامات کا ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا‘ جس کی مدد سے اسے اور اس کی دیگر ساتھی اہلکاروں کو گرفتار کیا۔ قید میں اس نے اپنے ساتھی قیدیوں کی مدد سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ نور کو 27 نومبر کو جرمنی میں فورزہائم جیل بھیج دیا گیا‘ جہاں اس کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 11 ستمبر 1944ء کو نور اور اس کے ساتھیوں کو میونخ کے قریب واقع ایک دوسرے کیمپ میں بھیجنے کے لئے روانہ کیا گیا‘ جہاں دو دن بعد پہلے اس کی تینوں ساتھی ایجنٹوں اور بعد میں اسے بڑی بیدردی سے قتل کر دیا گیا۔ مرنے سے پہلے نور نے بلند آواز میں ”آزادی“ کا نعرہ لگایا تھا۔ اسی رات اس کی ماں اور بھائی نے خواب میں یونیفارم میں ملبوس نور النساء کو دیکھا‘ جو انھیں بتا رہی تھی کہ اب وہ آزاد ہو چکی ہے۔ فرانس میںاس کے گھر کے نزدیک ایک چوک کو اس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اور ہر سال اس کی یاد میں تقریب بھی منعقد کی جاتی ہے۔ نور النساءکارشتہ خاندانی حوالے سے شیر میسور ٹیپو سلطان سے جا ملتا ہے۔ ٹیپو سلطان کی ایک پوتی کی شادی ہندوستان کے اس وقت کے نامور موسیقار مولا بخش سے ہوئی تھی جسے راجہ کے دربار سے بہت انعام و اکرام ملے۔ مولا بخش کا خاندان میسور سے بڑودہ جا کر آباد ہو گیا، جہاں اس نے موسیقی کی ایک تربیت گاہ قائم کی۔ اس میں پنجاب کے ایک نوجوان رحمت علی خاں نے داخلہ لیا جو کہ رفتہ رفتہ اس خاندان کے بہت قریب ہو گیا۔ مولا بخش کی ایک بیٹی خدیجہ بی بی کی شادی رحمت علی خاں سے ہو گئی۔ان کے ہاں نور النساءکے والد‘ عنایت خان کی پیدائش ہوئی۔ عنایت خان نے موسیقی کی تعلیم اپنے والد اور تصوف میں فیض سید ہاشم مدنی سے حاصل کیا۔ اپنے استاد کے کہنے پر انھوں نے صوفی ازم کے فروغ کے لئے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کا رخ کیا۔ امریکہ میں عنایت خان کی ملاقات اورا رے بیکر سے ہوئی جس کا تعلق ا مریکہ کے ایک نمایاں خاندان سے تھا۔ بعدازاں دونوں نے فرانس میں شادی کر لی اورا رے بیکر کو آمنہ بیگم کا نام دیا گیا۔ نور عنایت خان ان کی بڑی بیٹی تھی۔نور عنایت خان کی زندگی پر لکھی گئی سب سے جامع کتاب Spy Princess ہے جسے ہندوستانی صحافی شرا بنی باسو نے لکھا ہے۔ ایک برطانوی مصنفہ جین اورٹن فلر نے بھی Madeleine کے نام سے نور عنایت کی کہانی لکھی تھی جو کہ 1952ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ نور کی زندگی پر فرانس میں ایک بیسٹ سیلر ناول بھی لکھا گیا ہے‘ لیکن اس میں حقیقت کم اور فکشن زیادہ ہے۔بہت سے فلم ساز ان کی زندگی سے متاثر ہیں اور ان کی زندگی پہ فلم بنانا بھی چاہتے ہیں۔نور عنایت خان نے خود بھی گوتم بدھ کی منتخب جاتک کتھاﺅں کا بچوں کے لئے ترجمہ کیا تھا‘ جو کہ پہلی مرتبہ کتابی شکل میں 1939ء میں Twenty Jataka Tales کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ معروف مصنف آصف فرخی نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جو کہ ان دنوں اشاعت کے مراحل میں ہے ۔آٹھ نومبر 2012ءکو لندن کے معروف علاقے'گورڈن براو¿ن 'پر دوسری جنگ عظیم کی برطانوی جاسوس نور عنایت خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان ایک مجسمے کی تقریب نقاب کشائی شہزادی این کے ہاتھوں ہوئی۔ان کی اس بہادری ا ور ناقابل فراموش قربانی کو برطانیہ کی حکومت نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کا ایک مجسمہ نصب کیا ہے۔ مجسمے کی نقاب کشائی کے موقع پر 300سے زیادہ د لوگ موجود تھے جن میں' ایس او ای ' کے اہل کارروں سمیت 91 سالہ ایرن وارن بھی شامل تھیں ،جو نور کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ان کا کہنا تھا'نور بہت شرمیلی اور ملنسار تھی، اس کی گراں قدر قربانی ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔'شہزادی این' نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ' یہ مجسمہ لوگوں کو نور کی قربانی کی یاد دلائے گا اور، وہ خود سے ان اپنے سوالات کا جواب مانگیں گے کہ نور کون تھی ؟ اور اس کا مجسمہ یہاں کیوں نصب ہے ؟نور کا مجسمہ برطانوی مجسمہ ساز' کیرن نیومین' نے تخلیق کیا ہے۔جس پر 60.000 پاو¿نڈ کی لاگت آئی ہے 2006. میں شربینا باسو نے نور عنایت خان کی سوانح حیات لکھی جس میں انہوں نے نور کو جاسوس شہزادی کا نام دیا تھا۔وہ اس بات کی قائل ہیں کہ بھارتی ریاست کے حکمران ٹیپو سلطان کی پڑ پوتی ہونے کی وجہ سے شاید انھیں بھی کسی ملک کا دوسرے ملک پر تسلط پسند نہیں تھا۔ ٹیپو سلطان انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جنگ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔تاریخ میں انھیں ایک بہادر سلطان کے نام سے جانا جاتا ہے۔