اقبال ایک گھنٹہ تک ٹیپو سلطان شہید کی قبر پر تنہا بیٹھے روتے رہے

آں شہید ان محبت را امام /برصغیر کا مرد مجاہد سلطان ٹیپو شہید
    تحریر مظہر علی خان لاشاری
یہ دنیا بے وفا اور بہت جلد ختم ہونے والی ہے رسالت ماب کا فرمان مبارک ہے کہ یہ دنیا نجس (حرام) ہے اور اس کے پیچھے دوڑنے والا کتے کی مانند ہے لیکن افسو س کہ ہم سب اس نجس دنیا کے پیچھے دیوانے ہو چکے ہیںتاہم اس دنیا میں ایسے روشن اور خوش قسمت انسان بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں کہ جن کے روشن کارنامے آج بھی زندہ ہیں ایسی ہی شخصیات میں فتح علی خان ٹیپو سلطان کی ہے جو 4مئی 28ذی قعد ہ 1799ءمیں انگریزوں سے جہاد کرتے ہوئے شہیدہو گئے۔ سلطان ٹیپو ایک ریاست مسیورکے نواب کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی صدیوں پہلے کی تاریخ پوشیدہ تھی ٹیپو سلطا ن کو تلوار اور جہاد ورثے میں ملا تھا اُن کے والد نواب حیدر علی خان نے ایک عام سے سپاہی کی حیثیت سے مسیور کے راجہ کے پاس خدادار صلا حیتوں کی وجہ سے مسیو ر کے راجہ کی فوج میں ترقی کرکے ”نایئک“ کے عہد ہ تک پہنچ گئے نایئک فوج میں اس سردار کو کہتے ہیں کہ جو فو ج کی ہر مشکل میں رہنمائی کرتا ہے حیدر علیخان نے مرہٹوں اور انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے۔یہاں تک کے گھوڑے کی پیٹھ پر مسلسل سفر کرتے اور جہاد کرتے حیدر علی خان کو ناسور ہوگیا جو بعد میں کینسر بن کر اس مرد مجاہد کی زندگی کے خاتمے کا سبب بن گیا حید ر علی کے بعد جس طرح سے اُسے کے شیر دل بیٹے فتح علی خان ٹیپو سلطان نے مرہٹوں اور انگریزوں کی کمر توڑدی۔ لیکن ٹیپوسلطا ن کے ساتھ جس طرح سے اپنوں نے غداری کی اُس کی مثال نہیں ملتی ۔ نظام دکن نواب نظام علی خان نے ٹیپوسلطان کی مخالفت صرف ا س لئے کی کہ کہیں ٹیپو سلطان مزید طاقت ور بن کر اس کی سلطنت پر قبضہ نہ کر لے۔ حالانکہ ٹیپوسلطان نے نواب نظام علی خان کو ایک خط میں وضاحت کر دی تھی کہ نواب صاحب آپ کافر مشرکوں کے ساتھ ملکر مملکت خدادا د کو تباہ نہ کریں بلکہ ہم آپس میں رشتہ استوار کرکے ایک دوسرے کو مزید مضبوط کرلیں ورنہ قیامت کے روز آپ اللہ تعالیٰ اور حضور اقدس کوکیا منہ دیکھائیں گے، لیکن نظام دکن نے اس خط کا اُلٹا اثر لیا۔ کہ ایک ”نایئک“ کا بیٹا ہم سے رشتہ طلب کررہا ہے۔ اسے اس نے اپنی توہین سمجھا اور سلطا ن کے قاصد کو بے عزت کرکے نکال دیا اور اس کے بعد مرہٹوں اور انگریزوں کے ساتھ مزید گٹھ جوڑ کرکے مملکت خداداد میسور کو تباہ کرنے کے منصوبے بنا ئے، سلطا ن ٹیپو کے اپنے دربار سے غداروں کو خرید لیاگیا ان غداروں میں میرصادق ، غلام علی لنگڑا، پور نیاو دیگرشامل تھے۔
انگریزوں نے میرصادق کو سلطا ن ٹیپو کے بعد مملکت خداداد کا سربراہ بنانے کا لالچ دے کر اس کا ایمان بھی خرید لیا ۔میرصادق نے اپنی چرب زبابی سے سلطان ٹیپوکو اپنی صلاحیتوں کا قائل کر رکھا تھا جبکہ حقیقت میںمیرصادق بزدل اور محسن کش شخص تھا،سلطا ن ٹیپو کو آخری وقت میں اس غدار کے بارے میں سب کچھ معلوم ہوگیا۔ سلطان نے 2مئی 1799ءکو اپنے وفادار نواب میر معین الدین کو ایک فہرست دی جس میں تمام غداروں کے نام تھے ان سب کو قتل کر نے کا حکم تھا لیکن اس سے پہلے ہی سلطان رتبہ شہادت پر فائز کر چکا تھا ۔ کسی غدار نے نواب معین الدین کے پاس موجود وہ فہرست دیکھ لی اور میر صادق اور دیگر غداروں کو اطلاع کر دی کہ آج رات انہیں قتل کردیا جائے گا جس پر وہ محفوظ مقام پر چلے گئے اور تھوڑی دیر کے لیے اپنی انجام بد سے بچ گئے لیکن سلطان شہید کی شہادت سے کچھ دیر قبل وفادار قلعہ داروں نے میر صادق کو قتل کردیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے گندگی میں پھینک دیا انہی غداروں کے بارے میں علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم میں لکھا ہے کہ دوزخ کی آگ بھی چنچ اُٹھی کہ اے مالک جن وانس میں ان دو غداروں میرصادق اور میر جعفر کو کیسے قبول کروں یہ الغرض سلطا ن یٹپو نے 4مئی کو اپنے چند جان نثاروں کے ساتھ اپنے آپکو ہمیشہ کے لیے زندہ کرلیا ۔
سلطان ٹیپو دراصل برصغیر کی آزادی اور مسلمانوں کی حریت کا آخری چشم چراغ تھا کہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں اور مرہٹوں سے بچانے کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا اس لیے اقبال نے ٹیپو سلطا ن کو شہیدوں کا امام قرار دیا ہے۔
ٹیپو سلطان جذبہ حسینؓ کا وارث تھا جو مسلمانوں کو بیدار اور اکٹھا کرنے میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروے کار لایا ۔ لیکن اپنو ں کی غدار ی سے سراج الدولہ کی طرح شکت کھا گیا لیکن مرنے کے بعد کی اصل زندگی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عظیم مرتبے پر فائز ہوگیا علامہ اقبال نے 1929ءمیں ٹیپوسلطان کے مزار پر حاضری دی تھی۔ اور ایک گھنٹے تک ٹیپوسلطان شہید کی قبر پر تنہا بیٹھے روتے رہے علامہ اقبال نے اپنی فارسی کی ایک نظم میں سلطا ن شہید کو اس طرح خراج تحسین پیش کیا ہے۔
    آںشہیدان محبت را امام
    آبروئے ہند و چین و روم شام
    نامشں از خورشید و مہ تابندہ تر
    خاک قبرش از من و تو زندہ تر
    ازنگاہ خواجہ بدر و حنین
    فقر سلطا ن وارث جذب حسین ؓ
ترجمہ: ٹیپو سلطا ن شہیدوں کے امام ہیں وہ ہند وستان چین روم اور شام کی عزت ہیں۔ اُن کا نام چاند اور ستاروں سے زیادہ روشن ہے اور ان کی قبر کی خاک مجھ سے اور تجھ سے زیادہ زندہ ہے اور حضور کریم کی نگاہوں میں سلطان ٹیپو کا فقر جذبہ حسینؓ کا وراث ہے۔