پاکستانی پرچم لہرانے کی پرامن تحریک پر ریاستی تشدد

پاکستانی پرچم لہرانے کی پرامن تحریک پر ریاستی تشدد

’’اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ مٹائو گے‘‘ کے مصداق مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے کی حالیہ تحریک نے بھارت کی مودی حکومت اور کٹھ پتلی ریاستی انتظامیہ کے اوسان خطا کر دیئے ہیں اور اس حواس باختگی کے عالم میں پاکستانی پرچم لہرانے والے مظاہرین پر فائرنگ، آنسو گیس اور گرفتاریوں کے ذریعے اپنی خفت مٹانے کی کوشش ریاستی تشخص کو نقصان پہنچانے کے لئے بھارتی آئین میں ترمیم اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازشوں کو بے نقاب کرتی چلی جا رہی ہے۔ پاکستانی پرچم لہرانے کی حالیہ لہر اگرچہ دو ماہ قبل سینئر حریت رہنما مسرت عالم کی جیل سے رہائی کے بعد لال چوک سرینگر میں پاکستانی پرچم لہرانے سے چلی جو پوری وادی میں پھیلتی چلی جا رہی ہے لیکن یہ دو چار برس کی بات نہیں یہ نصف صدی کا قصہ ہے‘‘ بلکہ اس سے بھی پہلے تقسیم برصغیر کے موقع پر 1947ء میں پاکستان کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں مہاراجہ کے حکم پر سرینگر میں پاکستانی پرچم لہرائے گئے تھے جو 24 اکتوبر کو بھارتی فوج نے سرینگر ائرپورٹ پر اترنے کے بعد غاصبانہ قبضے اور تسلط کے بعد اتروائے تھے۔ اس سے پہلے مجاہدین بارہ مولا پہنچ چکے تھے اور وہ سرینگر میں داخل ہونے والے تھے، اس دوران پورے کشمیر میں گھروں، بازاروں پر پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے، اس کے بعد ہر سال 23 مارچ اور چودہ اگست کو پوری ریاست میں درختوں، مساجد اور گھروں پر پاکستانی پرچم لہرائے جاتے رہے ہیں۔ 1973ء میں پروفیسر جی ایم خان کا اکلوتا جواں سال فرزند بشیر احمد خان جو ایف سی کالج سرینگر کا طالب علم تھا، لال چوک کے گھنٹہ گھر پر پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے شہید کر دیا گیا حتیٰ کہ خودمختار کشمیر کے حامی بھی لال چوک میں پاکستانی پرچم لہراتے رہے۔ 1990ء میں کمانڈر اشفاق مجید دانی کی شہادت پر عیدگاہ سرینگر چلو کی کال میں شریک لاکھوں حریت پسند عوام نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ مارچ 93ء میں چرار شریف چلو کال میں شریک ہر گاڑی پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے۔ مئی 2001ء کے پہلے ہفتے میں راقم کشمیری دانشور سردار ارشاد محمود کی معیت میں سرینگر گیا، ائرپورٹ سے نکلنے کے بعد اپنے میزبان سجاد غنی لون سے ایک عمارت پر لہراتے پاکستانی پرچم کے بارے میں استفسار کیا تو سجاد لون نے بتایا ’’یہ حیدر پورہ میں سید علی گیلانی کا گھراور دفتر پر جس پر پاکستانی پرچم کے ساتھ مماثلث رکھنے والے سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا، یہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کا پرچم تھا جو پہلی نظر میں ہمارے لئے خوشگوار حیرت کا باعث بنا تھا، کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں، قیام پاکستان سے پہلے 19 جولائی 1947ء میں آبی گزرگاہ سرینگر میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی اقامت گاہ پر ریاستی مسلمانوں کی سواد اعظم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور کر کے اپنی قسمت اور اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر لیا تھا اور جب 1973ء میں سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوا تو پاکستانی اور کشمیری قوم کو مایوسی سے نکال کر عزم و استقلال سے ہم کنار کرنے کیلئے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان نے مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ہی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ والہانہ بلند کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی 89ء کی تحریک کے ایک لاکھ شہداء کے ورثاء کی پاکستانی پرچم لہرانے کی حالیہ پرامن تحریک نہ صرف عالمی برادری بلکہ خود پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکمرانوں، پارلیمانی کشمیر کمیٹی اور سیاستدانوں کی اولین توجہ کی مستحق ہے۔ کشمیر توجہ چاہتا ہے!