ممبر صوبائی اسمبلی کا بیٹے اور دوست سمیت اندوہناک قتل

ممبر صوبائی اسمبلی کا بیٹے اور دوست سمیت اندوہناک قتل

دولت کی ہوس‘عزت وجاہ اور چودھراہٹ کی دوڑ میں انسان اتنا آگے نکل چکا ہے کہ وہ انسانی رویوں کو ہی بھولتا چلا جارہاہے‘ اگرانسان کی ترقی اوج کمال پر پہنچ چکی ہے اور وہ چاند ستاروں پر کمندڈال رہا ہے تو یہی انسان نفسانی خواہشات کی تکمیل میں انسانیت کے تمام ضابطے اور اسباق کو بھول کر حیوانیت اور درندگی کی عمیق گہرائیوں میں بھی گرتا چلا جارہاہے‘ایک طرف انسانی ترقی عقلوں کو دنگ کررہی ہے تو دوسری طرف اس کی حیوانیت شیطانیت کومات دینے لگی ہے‘ انسان کا خون پانی سے بھی ارزاں ہوچکا ہے ‘ انسان کو انسان مکھی مچھر کی طرح روند رہا ہے۔ایسی ہی ایک دلخراش مثال31 مئی کی شام گوجرانوالہ کے نواحی علاقہ کامونکی میں پیش آئی جب چار نامعلوم افراد نے حکومتی پارٹی مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی رانا شمشاد احمد خان کو ان کے جوانسال بیٹے اور ایک دوست سمیت اندھا دھند فائرنگ کرکے اس وقت خون میں نہلا نہلا دیا جب وہ اپنے فارم ہائوس سے واپس کامونکی اپنی رہائش گاہ پر جارہے تھے۔اس افسوسناک واقعہ کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ حملہ آوروں کی رنجش تو تو رانا شمشاد سے تھی لیکن ان کا جوانسالہ صاحبزادے رانا شہباز جو کہ میٹرک کا طالبعلم تھا اسے بھی اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھا دیاگیا‘باپ تو بیٹے سے لگائے اپنے ارمان ساتھ ہی قبر میں لے گیا لیکن ماں کی مامتا کس عذاب میں ہوگی یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے‘یقیناً اس شام وہ اپنے مجازی خدا اور جوان بیٹے کے لئے کھانا تیار کئے ان کی واپسی کی راہ تک رہی ہوگی کہ سب مل بیٹھ کر کھانا کھائیں گے‘ اسے کیا معلوم تھا کہ اس انتظار کی گھڑیاں اب کبھی ختم نہیں ہونگی اور وہ ساری عمر اپنے خاوند اورگھبرو جوان بیٹے کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھنے کو ترستی رہے گی۔ اس اندوہناک وقوعہ سے نہ صرف اہالیان کامونکی بلکہ حکومتی ایوانوں میں بھی بھونچال آگیا جبکہ تحریک طالبان کے ترجما ن کی طرف سے اس تہرے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد پولیس کے لئے یہ کیس مزیداہمیت اختیار کرگیا ہے۔
رانا شمشاد احمد کا تعلق تحصیل کامونکی کے ایک بڑے سیاسی گھرانے سے تھا‘ ان کے والد وکیل خان مرحوم بھی ممبر صوبائی اسمبلی رہے‘ اس طرح سیاسی تربیت انہوں نے گھر سے ہی حاصل کی جبکہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رانا شمشاد خان نے اپنے سیاسی کیرئر کا باقاعدہ آغاز1992 میں میونسپل کمیٹی کے الیکشن سے کیا اور چیئرمین میونسپل کمیٹی منتخب ہوگئے جبکہ والد محترم رانا وکیل خان کے انتقال کے بعد وہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ جبکہ ان کے چھوٹے بھائی رانا سجاد احمد خان تحصیل ناظم کامونکی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ 1997 میں وہ (ن) لیگ کے ٹکٹ پر دوبارہ رکن اسمبلی بنے مگر میاں برادران کے جلا وطن ہونے کے بعد وہ مسلم لیگ (ق) سے وابستہ ہوگئے اور2002 کے الیکشن میں تیسری مرتبہ اپنے حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعدانہیں صوبائی وزیرت ایکسائز اور وزارت ٹرانسپورٹ کے قلمدان سونپے گئے۔میاں برادران جب جلا وطنی ختم کرکے وطن واپس آئے تو رانا شمشاد احمد خان دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے اور چوتھی مرتبہ ممبرصوبائی اسمبلی کی سیٹ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ہی جیتی۔رانا شمشاد احمد کا شمار ضلع گوجرانوالہ کے منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا تھا مگر زمینوں کے جھگڑے اورسیاسی رنجشیں مل کر ان کے آڑے آ گئیں۔ابھی 27 مئی کو ہی رانا شمشاد احمد خان نے اپنے بڑے بیٹے رانا شہباز کو یوم تکبیر کے موقع پر سیاسی حلقوں میں متعارف کروایاتھا اور ایک بڑے اکٹھ میں انہوں نے اپنے بیٹے کے سیاست میں آنے کا اعلان کیاتھا مگر تین دن بعد ہی اتوار کی شام انہیں بیٹے اور دوست سمیت گولیوں سے بھون دیاگیا۔ وہ اپنے بیٹے‘ دوست اور گن مین کے ہمراہ فارم ہائوس سے گھر کی طرف روانہ ہوئے تو ان کو معلوم نہ تھا کہ یہ ان کی زندگی کی آخری شام ہے جسے وہ ڈھلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ جب رانا شمشاد احمد خان گھر کے قریب واقع سیم نالے کی پلی پر پہنچے تو گھات لگائے مسلح افراد نے اچانک کلاشنکوفوں سے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں 6 گولیاں رانا شمشاد کو لگیں جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑگئے جبکہ ان کے دوست محمود شاکر جان بچانے کے لئے لینڈ کروزر سے باہر بھاگے مگر موت ان کا تعاقب کرتی رہی اور حملہ آوروں نے عقب سے فائرنگ کرکے انہیں شدید زخمی کردیا۔ اس فائرنگ کے دوران رانا شمشاد کا بیٹا رانا شہباز اور بھتیجا علی وکیل اورگارڈ عامر بھی زخمی ہوئے۔ گارڈ عامر نے زخمی ہونے کے باوجود گاڑی سے باہر نکل کر حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی جس سے دو حملہ آور بھی زخمی ہوئے۔ حملہ آوررانا شمشاد کی موت کا یقین ہونے پر اپنے دو زخمی ساتھیوں کو لے کر موقع سے فرار ہوگئے جس کے بعد رانا شمشاد کے بھتیجے علی وکیل نے زخمی حالت میں ہی گاڑی ڈرائیو کی اور رہائش گاہ پر پہنچے۔وہاں موجود افراد نے فوری طور پر تمام افراد کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے رانا شمشاد احمد خان‘ ان کے بیٹے رانا شہباز کی موت کی تصدیق کردی جبکہ ان کے دوست محمود شاکر ‘ بھتیجے علی وکیل اور گارڈ عامر کو شدید زخمی حالت میں لاہور ہسپتال ریفر کردیاگیا لیکن محمود شاکر بھی راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
رانا شمشاد احمد خان سمیت تین افراد کے قتل سے جہاں شہر کی فضا سوگوار ہوگئی وہیں ان کے قاتلوں کی گرفتاری بھی پولیس کے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے۔ مقتول رانا شمشاد کے لواحقین نے جن چار افراد کو نامزد مقدمہ کیاہے ان میں رفیق ورک اور اس کے بھائی سرفراز‘ شہباز اور ان کے والد فقیر محمد شامل ہیں۔ وجہ عناد جائیداد کا تنازعہ اور سیاسی رنجشیں بتائی جارہی ہیں لیکن یہ بھی شنید ہے کہ چار ماہ قبل تھانہ واہنڈو میں ایس ایچ او میاں ریاض نے رانا شمشاد کے کہنے پر رفیق ورک کے نہ صرف گرفتار کیا بلکہ اسے ننگا کرکے تشدد کا نشانہ بھی بنایا جس کا رفیق ورک اور اس کے بھائیوں کو شدید رنج تھا اور رفیق ورک اور اس کے بھائیوں نے تین افراد کو خون میں نہلا کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کی۔ پولیس کے مطابق رفیق ورک پانچ سے زائد قتل کے مقدمات میں سزا یافتہ ہے اور حال ہی میں سزا بھگت کر واپس آیاتھا۔
رانا شمشاد کے قتل کے بعد مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما ایم این اے حمزہ شہباز ان کے گھر تعزیت کے لئے آئے انہوں نے کہا کہ سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور اس کیس کی تفتیش ٹیسٹ کیس کے طور پر کی جائے گی تحریک طالبان نے میڈیا کو ارسال کئے گئے بیان میں تین افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے بھی ایک بیان میںکہاہے کہ رانا شمشاد کا قتل طالبان نے کروایا ہے۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ طالبان کی رانا شمشاد سے کیا دشمنی تھی اور انہوں نے کیوں رانا شمشاد کو قتل کروایا۔ آیا طالبان نے شہرت حاصل کرنے کے لئے ایم پی اے کے قتل کی ذمہ داری قبول کیا ہے یا اس میں کوئی حقیقت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے یقیناً یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ اصل حقائق بے نقاب کرتے ہوئے قاتلوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ پولیس نے عینی شاہدین کے حوالے سے حملہ آور وںکا جو خاکہ شائع کروایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چار حملہ آوروں میں سے دو افراددیہاتی جبکہ دو حلیوں سے شہری معلوم ہوتے ہیں۔