صوبائی وزیر تحریک انصاف کی بدنامی کا باعث بن گئے

صوبائی وزیر تحریک انصاف کی بدنامی کا باعث بن گئے

تیس مئی کو خیبرپختونخواہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات نے تحریک انصاف کے بارے میں قائم ایک مثبت رائے کو یکسر تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ملک میں تبدیلی، کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام اور بہتر طرز حکومت کو یقینی بنانے کے جذبے کے تحت عمران خان کلے شریک سفر نوجوانوں کی ایک اکثریت اپنی ہی جماعت کے دوہرے رخ اور منشور سے برعکس اقدامات کے باعث شدید پریشانی سے دوچار ہے، تحریک انصاف کو بدنام کرنے کا جو کام سہہ فریقی اتحاد مل کر نہ کر سکا وہ صوبہ بھر میں تحریک انصاف کے صوبائی وزراء اور سینئر کارکنوں نے بڑے اچھے انداز سے کردیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی خصوصی قربت کے حامل صوبائی وزیر مال علی امین خان گنڈہ پور عمران خان کی جانب سے ملنے والی محبت میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ خود پر مقدمات درج کرا بیٹھے اور تحریک انصاف کی بدنامی کا باعث بن گئے ، تیس مئی کو صوبہ بھر میں ہونے والی حکومتی مداخلت اور پولنگ سٹیشنوں پر لڑائی مار کٹائی کے سین پوری دنیا نے دیکھے، خیبر پختونخواہ میں متعدد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ دھاندلی کے متاثرین سینکڑوں کی تعداد میں ہر ضلع میں عمران خان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، پبی میں ایک نوجوان کی شہادت کے ناخوشگوار واقعہ کو بنیاد بنا کر صوبائی حکومت نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میاں افتخار حسین پر مقدمہ قائم کردیا اور انہیں پابند سلاسل کردیا گیا، میاں افتخار حسین کے کردار کی عظمت کی گواہی پوری دنیا دیتی ہے، ایک ایسا شخص جس نے اپنا اکلوتا جواں بیٹا اپنے نظریہ اور اصولی موقف کی بناء پر قربان کردیا ہو اور جس شخص کو پوری دنیا اس کے نظریات سے اختلاف رکھنے کے باوجود امن کے داعی، خدائی خدمت گار باچا خان بابا کا حقیقی پیروکا ر قرار دے چکی ہو ایسے امن پسند، جمہوریت پسند اور انسان دوست شخص کو قتل کی آیف آئی آر میں نامزد کرنے سے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی جانب سے سیاسی انتقام نہ لینے جانے کے دعووں کی نفی ہوئی ہے، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جماعت کے انصاف کا یہ حال ہے کہ میاں افتخار جیسے بے گناہ شخص کو پابند سلاسل کیا گیا اور پولیس اہلکاروں کو گالیاں دینے، انتخابی میٹریل اٹھانے کے الزام میں ملوث صوبائی وزیر مال علی امین خان کو عمران خان اور وزیر اعلیٰ تحفظ دے رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ پبی میں جس نوجوان کو شہید کیا گیا اس کے والد نے عدالت کے روبرو یہ بیان بھی دے دیا کہ میرے بیٹے کا قاتل میاں افتخار حسین نہیں ہے اور نہ ہی میاں صاحب ایسی حرکت کرسکتے ہیں، صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کو تیس مئی کے بعد جہاں میاں افتخار حسین کے خلاف کارروائی کرنے کے باعث شدید شرمندگی کا سامنا ہے وہیں صوبہ بھر میں انتخابی دھاندلی اور پھر ڈیرہ اسما عیل خان میں صوبائی وزیر مال علی امین کے ایکشن کے باعث شدید ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے اور صوبائی حکومت پر صوبائی وزیر مال علی امین خان گنڈہ پور کو وزارت سے الگ کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، جمعیت علمائے اسلام کے سر براہ مولانا فضل الر حما ن کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر انصاف بھی شرمسار ہے ،تحریک انصاف کے دور میں انصاف کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہاانہوں نے کہا کہ صوبہ میں جس انداز سے دھاندلی کی گی سرکاری افسران کو دھاندلی کے ٹاسک دے گے اب تحریک انصاف کی قیادت کس منہ سے عام انتخابات میں دھاندلی کارونا روے گی۔ صوبائی وزیر مال علی امینکے خلاف درج مقدمہ نمبردو سو پچیس تھانہ صدر کے ایس ایچ او سیف الرحمان کی جانب سے درج کیا گیا جبکہ دوسری ایف آئی آر نمبر دو سو چھبیس پولنگ سٹیشن ہمت کے خواتین پولنگ سٹیشن کی پریزائیڈنگ آفیسر مس شبانہ کی جانب سے درج کرائی گئی ، اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نثار محمد خان کی جانب سے بھی الیکشن کمشن کو خط لکھا گیا جس میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ صوبائی وزیر مال ہمت پولنگ سٹیشن سے الیکشن میٹریل اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے، اس حوالے سے وزیرمال خیبرپختونخواہ سردارعلی امین خان گنڈہ پورنے میڈیاکوبتایاکہ انکوشکایات مل رہی تھیںکہ گنتی کے دوران مخالف امیدوارکے حامی مذکورہ پولنگ سٹیشن میںکھلے عام ٹھپے لگارہے ہیںجبکہ پولیس اورپولنگ عملہ خاموش ہے۔چونکہ میںپی ٹی آئی کانمائندہ ہوں اسلئے خودمذکورہ پولنگ سٹیشن پہنچا اورجوکام میںنے کرناتھاوہ میںنے کردیاہے۔دھاندلی ہمیشہ مسلم لیگ ن نے کی ہے۔یہ ہارے ہوئے لوگ ہیں۔اپنی ہاردیکھ کراس قسم کی حرکات ہمیشہ انکاوطیرہ رہاہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی وزیر زراعت سردار اکرام اللہ خان گنڈہ پور نے ڈیرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین خان کے ایکشن سے پارٹی بدنام ہوئی ہے، مخالفین کو تحریک انصاف پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملا ہے تاہم عمران خان پارٹی بدنامی کا باعث بننے والوں کو معاف نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ جب ایک ذمہ دار صوبائی وزیر ایسے کام کرے گا تو پھر مخالفین کی جانب سے دھاندلی کانام لیکر چیخنا چلانا بے وجہ نہیں، اس حوالے سے ہمارے قائد عمران خان جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں وہ قبول ہوگا تاہم یہ بات مسلمہ ہے کہ عمران خان کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان کی اٹھارہ سال کی محنت پر پانی پھیر دے، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں اتنا بڑ ا بلدیاتی الیکشن نہیں ہوا جیسا خیبر پی کے میں ہوا،دھاندلی کے الزامات پر افسوس ہے،اتحادی جماعتوں نے بھی دھاندلی کی شکایت کی انہوں نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،،صوبائی حکومت کا نہیں ،الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری قبول کرے ،کپتان نے کہا کہ وہ فوج کی نگرانی میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار ہیں،پیشنگوئی کرتا ہوں پہلے سے ذیادہ ووٹ ملیں گے،دوسری جانب الیکشن کمشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیراعلی خیبرپی کے پرویز خٹک کو خط لکھا ہے جس میں تحریر کیا گیا ہے بلدیاتی انتخابات میں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی، الیکشن کمشن پر عمران خان بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں، ہم نے تو خیبرپی کے حکومت کو بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کی تجویز دی تھی اور ہم نے اضافی فورس کیلئے فوج وزارت داخلہ سے اجازت لے کر جی ایچ کیو سے لے کر دی تھی، مرحلہ وار انتخابات کرائے جاتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔