دوبارہ بلدیاتی انتخابات مزید تلخیوں کا باعث بن سکتا ہے

دوبارہ بلدیاتی انتخابات مزید تلخیوں کا باعث بن سکتا ہے

30مئی کوصوبہ خیبرپختونخوامیں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلہ(یعنی ضلع وتحصیل کونسلروں کے انتخاب)کی تکمیل کے بعدضلع وتحصیل حکومتوں وناظمین کے دوسرے مرحلہ کی بجائے تمام سیاسی جماعتوںکی توجہ اب بھی پہلے مرحلہ میں ہونے والی دھاندلی کے الزامات پرہے جس میںاپوزیشن کی عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علماء اسلام(ف)،پاکستان مسلم لیگ(ن)اورقومی وطن پارٹی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت میںشامل جماعت اسلامی بھی اپنی اتحادی اورصوبہ کی حکمران پاکستان تحریک انصاف کوانتخابی عمل میںوسیع پیمانے پردھاندلی اوربدانتظامی کیلئے موردالزام ٹھہرارہی ہے اس کے ساتھ ساتھ مخلوط حکومت میںپی ٹی آئی کی دوسری اتحادی جماعت عوامی جمہوری اتحاد(جوصوبہ کے ایک ضلع صوابی تک محدودہے)بھی انتخابی دھاندلی کی شکایت کررہی ہے یوںاس بارانتخابات سے بھی کہیںزیادہ اتفاق رائے پایاجارہاہے اس کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میںتوڑپھوڑ،خون خرابہ،ہنگامہ آرائی اورمارپیٹ کے واقعات انتخابات کے دوران امن وامان برقراررکھنے کے ذمہ داراداروں(جویقیناصوبائی حکومت کے ماتحت ادارے ہیں)کی کارکردگی پرسوالات اٹھارہے ہیںاس کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتوںاورآزادامیدواروںکی جانب سے انتخابات میںدھونس دھاندلی،ہنگامہ آرائی،خون خرابہ ا وربیلٹ بکس چھیننے کے واقعات سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کواب تک دوہزارسے زائدشکایات موصول ہوچکی ہیںجبکہ مختلف اضلاع سے ریٹرننگ افسروںاورپریزائیڈنگ افسروںکی رپورٹوںمیںایک بڑی تعدادمیںپولنگ سٹیشنوںپرازسرنوپولنگ کی سفارش کی گئی ہے جن میںضلع کونسل ڈیرہ اسماعیل خان کے 5وارڈزکے درجنوںپولنگ سٹیشنزکے علاوہ ضلع پشاورکے26،ضلع نوشہرہ کے87،ضلع کرک کے52،ضلع چارسدہ کے47اورکئی دیگرمقامات کے پولنگ سٹیشنزشامل ہیںالیکشن کمیشن آف پاکستان ان شکایات اورانتخابی عذرداریاںنمٹانے کیلئے الیکشن ٹریبونلزکوحتمی شکل دے رہاہے تاہم یہ تمام صورتحال صوبہ میںحکمران پاکستان تحریک انصاف اورخصوصااس کے سربراہ عمران پرشدیددبائوڈالنے کاباعث بن رہی ہے جوپہلے انتخابی دھاندلی کوبدانتظامی وبدنظمی قراردے کراس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پرعائدکررہے تھے کہ صوبائی حکومت نے پولیس سمیت تمام اداروںکوالیکشن کمیشن کی تحویل میںدے رکھاتھالیکن اب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس بڑھتے ہوئے دبائومیںصوبہ میںبلدیاتی انتخابات کے ازسرنوانعقادکی پیشکش کردی ہے جس میںان کایہ بھی کہناہے کہ وہ ازسرنوانتخابات فوج کی نگرانی میںکرنے کیلئے تیارہے اورپورے صوبہ کے ساتھ ساتھ جن مقامات پردھاندلی کے الزامات عائدکئے گئے ہیںوہاںجزوی ری پولنگ کی جاسکتی ہے ان کی اس پیشکش پرعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان سمیت اپوزیشن قائدین نے یہ سوال اٹھایاہے کہ کیاازسرنوالیکشن موجودہ صوبائی حکومت کی نگرانی میںہوگاانہوںنے مطالبہ کیاہے کہ پہلے تحریک انصاف اوراس کی صوبائی حکومت دھاندلی تسلیم کرکے حکومت سے مستعفی ہواوراس کے بعدفوج کی نگرانی میںازسرنوبلدیاتی انتخابات کاانعقادکرایاجائے جمعیت علماء اسلام(ف)نے بدھ کے روزبلدیاتی انتخابات میںدھاندلیوںکے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے انتخابات کوچیلنج کرنے کیلئے پرتولے جارہے ہیںاورسینئرصوبائی وزیرشہرام خان نے بھی انتخابات کوکالعدم قراردے کردوبارہ الیکشن منعقدکرنے کامطالبہ کیاہے سیاسی جماعتوںکے اس موقف سے قطع نظرصوبہ کے عوامی حلقوںکی جانب سے ازسرنوالیکشن کی پیشکش اوراس کے نتیجہ میںکسی ممکنہ ری الیکشن کوصوبہ کے مخصوص سماجی وزمینی حالات سے بے خبری قراردیاجارہاہے کیونکہ عوامی حلقوںکے مطابق حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجہ میںامیدواروں،ان کے حامیوںاوربرادریوںمیں جورنجشیںاورتلخیاںپیداہوئی ہیںازسرنوانتخابی عمل میںایک بارپھران کاآمناسامناہونایہ سلگتی چنگاڑیاںبھڑک سکتی ہیںکیونکہ صوبہ اوراس کے عوام پہلے ہی عسکریت پسند ی اوربدامنی کی ایک طویل آزمائش سے گزرآئے ہیںانتخابات کے روزپبی میںفائرنگ کے نتیجہ میںنوجوان کے قتل کے الزام میںگرفتارعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاںافتخارحسین کورہاکردیاگیاہے۔