بلاول اور پیپلز پارٹی… مورے پیا گھر آئے

بلاول اور پیپلز پارٹی… مورے پیا گھر آئے

پیپلز پارٹی طویل عرصے سے بحرانوں میں گھری ہے کبھی انتخابی بحران، کبھی سیاسی بحران، کبھی قیادت کا بحران اور کبھی گھریلو بحران۔ اکثر یوں لگتا ہے کہ جماعت میں کچھ بھی ٹھیک نہیں۔ 2113ء کے انتخابات میں جس طرح عوام نے PPP پی پی پی کو مسترد کیا ہے اس کا سہرا کس کے سر ہے یہ طے ہونا ابھی باقی ہے مگر پارٹی کے اندرونی حلقے اور سیاسی ناقدین اس کا ذمہ دار آصف علی زرداری کو گردانتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی مرضی سے جماعت کی قیادت میں جو اکھاڑ پچھاڑ کیا اس نے جیالے کارکنوں کو نہ صرف مایوس کیا بلکہ کسی حد تک پارٹی سے متنفر بھی کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2013ء کے انتخابات میں سندھ کو چھوڑ کر باقی تین صوبوں میں پارٹی کا صفایا ہو گیا اور پنجاب جسے کبھی پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا نے تو یکسر اسے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ ستم ظریفی یہ کہ کوئی اس کی ذمہ داری لینے پر آمادہ نہیں۔ منظور وٹو جنہیں پی پی پی پنجاب کا صدر بنا دیا گیا تھا بیمار ہو کر ہسپتال داخل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب انہیں صدر نامزد کیا گیا تھا تو پارٹی کے ہر طبقہ نے اس کی شدید مخالفت کی تھی مگر آصف زرداری کے ان کے تقریر کو اپنی اناکا مسئلہ بنا لیا اور اپنی روایتی ضد پر پارٹی مفاد قربان کر دیا۔ پارٹی کے سینئر رہنما جن میں قاسم ضیائ، اشرف سوہنا، آفتاب احمد خان اور جہانگیر بدر شامل ہیں بددل ہو کر پارٹی سے کنارہ کش ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے۔ ان حالات کا ادراک بلاول کو تب ہوا جب وہ گزشتہ برس سیلاب کے دنوں میں پنجاب کے دورے پر آئے۔ تبھی سے بلاول اپنے والد کے فیصلوں اور رویوں سے نالاں ہونا شروع ہوئے اور انہیں جس بات پر سب سے زیادہ اعتراض تھا وہ ان کی پھوپھی فریال تالپور کی پنجاب میں بے جا مداخلت تھی۔ تبھی سے انہوں نے ان تمام اقدامات کو کالعدم قرار دینے کی ٹھانی۔ اس سوچ نے تو جیسے ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ زرداری صاحب جنہوں نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ آئندہ ٹکٹوں کے اجرا سے لیکر پارٹی عہدوں تک کے فیصلے ان کی بہن کریں گی۔ یہ بلاول کے لئے ناقابل قبول تھا اور ناقابل قبول ہے اور یہی وہ وجہ تھی جس نے بلاول کو مجبور کیا کہ وہ لندن واپس چلا جائے۔ دوسری طرف بلاول کے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے مخالفانہ بیانات نے آصف زرداری کے لئے الجھنیں پیدا کر دیں۔ بلاول یہ بھول گئے کہ ان کے والد نے مفاہمتی سیاست کے نام پر متحدہ سے کیا وعدے وعید کئے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر کراچی کے جلسے میں بلاول کا یہ بیان کہ اگر پی پی پی کے کسی کارکن پر آنچ آئی تو وہ الطاف حسین کا لندن میں جینا حرام کر دیں گے نے تو جیسے ایک آتش فشاں کا دہانہ ہی کھول دیا ہو۔ اس کا اثر زائل کرنے کے لئے آصف زرداری کو یہ کہنا پڑا کہ بلاول ابھی سیاسی اعتبار سے بالغ نہیں ہیں۔ ایسے واقعات کے بیچ باپ اور بیٹے کا ہم خیال ہونا مشکل ہو گیا اور بلاول نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ واپس پاکستان نہیں جائیں گے۔ آصف زرداری نے دو مختلف وفود جن میں سے ایک کی قیادت مخدوم امین فہیم نے کی اور دوسرے کی خورشید شاہ نے لندن روانہ کئے مگر دونوں بلاول کو منانے میں ناکام رہے۔ دوسری طرف بختاور اور آصفہ بھی باپ کا ساتھ چھوڑ کر لندن میں بھائی سے جا ملی اور اس تصور کو تقویت ملی کہ حالات کی تبدیلی کی وجہ سے زرداری نہیں بلکہ اب صنم بھٹو ہی بلاول کی سیاسی اتالیق ہیں۔ یہ صورت حالات آصف زرداری کے لئے ناقابل قبول تھی لہٰذا انہوں نے ہنگامی طور پر لندن کا دورہ کیا اور بلاول کو سمجھانے کی کوشش کی جس میں وہ بری طرح ناکام رہے اور مایوس وطن واپس آ گئے۔ اب حال ہی میں کنبے کے چاروں افراد کی دبئی میں ملاقات ہوئی جس کے نتیجے میں بلاول اور بختاور کل اور آصف زرداری آج کراچی پہنچے ہیں۔ آصف زرداری نے بلاول کو کیسے راضی کیا یہ سب تو ابھی صیغہ راز میں ہے تاہم شریک چیئرمین کے اس ہنر کے تو سب قائل ہیں کہ
میرے مطلب کی کوئی بات نہیں وہ کرتے
اپنی ترکیب سے ہر جال بچھا لیتے ہیں
بلاول بھٹو کی وطن واپسی اس ہفتے کی دوسری بڑی خبر ہے جبکہ اس سے پہلے پنجاب میں بھی ایک سیاسی ٹارزن کی واپسی ہوئی۔ ہماری مراد رانا ثناء اللہ کے دوبارہ پنجاب کا وزیر قانون بنا دیئے جانے سے ہے۔ بلاول اور رانا ثناء اللہ دونوں کو ہی بڑے بڑے معرکے سرانجام دینے ہیں اور ایک معرکہ تو انہیں ساتھ ساتھ ہی سر کرنا ہو گا۔ ہماری مراد ستمبر کے مہنیے میں ہونے والے سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات ہیں۔ ایک طرف پیپلز پارٹی کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا ہے تو دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ کو حکمران جماعت کے طور پر اپنی مقبولیت ثابت کرنا ہے۔ دونوں ہی بڑی سیاسی جماعتیں کارکردگی کے اعتبار سے کوئی مثبت تاثر قائم کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔ بلاول کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان سے نمپٹنے کے لئے انہیں بہت محنت کرنا ہوگی۔ گھریلو معاملات تو کسی حد تک ٹھیک ہو گئے ہیں اور باپ بیٹا اب دوبارہ پیکنگ ٹرم پر ہیں جس کے لئے دونوں بہنوں بختاور اور آصفہ نے بہت محنت کی ہے۔ تاہم پارٹی کے معاملات بہت دگرگوں ہیں قیادت اور وژن دونوں ہی کا فقدان ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سکڑتے سکڑتے صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اگر جلد کچھ نہ کیا گیا تو یہ صرف اندرون سندھ کی جماعت بن کر رہ جائے گی کیونکہ شہری علاقوں پر تو پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ کا قبضہ ہے اور جو گنجائش نکلی اسے پاکستان تحریک انصاف نے پر کر دیا ہے۔
بلاول نے واپسی کے فوراً بعد پارٹی قیادت سے رابطے کر لئے ہیں اور وہ اقتداء میں سندھ کے مسائل پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں مثال کے طور پر انہوں نے پانی کی قلت کے حوالے سے واٹر بورڈ کا اجلاس طلب کر لیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی پارٹی کی حکومت ان بنیادی مسائل پر توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ گورنس آج بھی قدر نایاب ہے۔ قائم علی شاہ کی وزیر اعلیٰ کے طور پر حیثیت ایک ڈمی کردار سے زیادہ نہیں اور آصف زرداری کو ان سے زیادہ کوئی سوٹ نہیں کرتا۔ دوسری طرف مظفر ٹپی بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے سے باز نہیں آتے اور سندھ حکومت کے ہر اس فیصلے میں جہاں کرپشن کا عنصر ہوتا ہے مظفر ٹپی اس کے پیچھے چھپے نظر آتے ہیں یہ دعوی ہے ان ناقدین کا جو پی پی پی کی حکومت کا پوسٹ مارٹم کرتے رہتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری یہ کڑے فیصلے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کیونکہ قائم علی شاہ، مظفر ٹپی اور فریال تالپور آصف زرداری کے مضبوط مہرے ہیں اور انہیں ہلانے کا تصور بھی بظاہر ممکن نہیں۔ جہاں تک پارٹی کے جیالوں کا تعلق ہے وہ اب بلاول سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید وہی اس عوامی جماعت کو ایک بار پھر ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو کی پارٹی بنا سکتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول جلد پارٹی کے ناراض انکلوں سے ملاقات کریں گے اور انہیں منانے کی سنجیدہ کوشش کرینگے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا آصف زرداری انہیں ایسا کرنے دیں گے یا اس ایشو پر باپ بیٹے میں پھر ٹھن جائے گی جو ہر لحاظ سے پارٹی کے لئے تباہ کن ثابت ہو گی۔ دوسری طرف بلاول بھٹو کو شاید پوری طور یہ ادراک ہے کہ اگر بلدیاتی انتخابات جو ستمبر کے مہینے میں ہونگے میں بھی ان کی جماعت کی کارکردگی 2013ء کے عام انتخابات کی طرح مایوس کن رہی تو پارٹی ایک طویل عرصے تک کے لئے سیاسی منظر نامے سے پس منظر میں چلی جائے گی۔ آصف زرداری کے لئے صرف ایک ہی آپشن ہے کہ وہ بلاول کو بھرپور موقع فراہم کریں اور خود پیچھے رہ کر ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔