الیکشن کمیشن کے ڈھیلے ڈھالے انتخابات

الیکشن کمیشن کے ڈھیلے ڈھالے انتخابات

خیبر پی کے کے بلدیاتی انتخابات نے تحریک انصاف کودفاعی پوزیشن پر کھڑا کردیا ہے،کل تک جو جماعت قومی انتخابات میں دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات لگاتے ہوئے تھکتی نہیں تھی آج وہی سب کچھ ان کے زیر انتظام صوبوں میں ہوا۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی انتخابات پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی جوکہ صوبے میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے نے بھی سخت موقف اپنایا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دھاندلی کے الزامات کے جواب میں دوبارہ الیکشن کرانے کی پیشکش کردی ہے مگر اے این پی سمیت دیگر جماعتیں نئے انتخابات سے قبل ذمہ داروں کے خلاف کاروائی اور وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مگر اب دیکھنا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ صوبے میں دوبارہ انتخابات ضروری ہیں، اگر دوبارہ انتخابات کرائے بھی دیے جائیں تو کیا ایسے حالات کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اگر حالات کا بغور مطالعہ کیاجائے تو پورے صوبے میں ایک روز بلدیاتی انتخابات کرانا ہی غلطی تھی، اور اس کے بعد جس صوبے میں پولیس کی تعداد صرف 60 ہزار ہے میں 11154 پولنگ اسٹیشنوں کو کیسے سیکیورٹی فراہم کی جا سکتی تھی، اور خصوصاً اس وقت جبکہ ان میں سے 2858 انتہائی حساس اور 4071 حساس قرار دیئے جا چکے ہوں۔ ایسی صورت میں الیکشن کمیشن کی کیا یہ ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ فوج تعینات کرے، اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے زیر لب یہ موقف دیا ہے کہ ہر کام میں فوج کو ملوث کرنے سے فوج بدنام ہوتی ہے، مگر کیا جہاں لوگوں گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہوں اور امن و امان کی صورت حال اس قدر خراب ہوکہ لڑائی جھگڑوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلے وہاں کسی کی بدنامی کے ڈر سے صرف تماشا دیکھا جائے۔ الیکشن کرانا، اس کے انتظامات کرنا اور امن و امان برقرار رکھنا اصولی طور پر الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کیونکہ الیکشن کے دن پولیس سمیت تمام انتظامیہ الیکشن کمیشن کے انڈر ہوتی ہے۔ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے بعد اب یہ محسوس ہورہاہے کہ الیکشن کمیشن نے دانستہ طورپر صوبے میں ڈھیلے ڈھالے انتظامات کیے، اس غفلت کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ یا کیا یہ سوچی سمجھی سازش تھی آنے والے دنوں میں سب کچھ سامنے آجائے گا، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سب کچھ عمران خان کو سبق سکھانے کے لئے کیا گیا، اور اس کا ٹارگٹ تحریک انصاف کی جوڈیشل کمیشن میں پوزیشن کو کمزور کرنا تھا۔ مگر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو شاید اس کی بھنک محسوس ہوگئی تھی جس کے بعد انہوں نے فوراً دوبارہ انتخابات کرانے کی پیشکش کر دی۔ خیبرپختون خوا میں 84ہزار سے زائد امیدوار مدمقابل تھے، ایک ایک یونین کونسل میں کئی کئی امیدوار آمنے سامنے تھے ایسی صورت میں دھاندلی کی کوشش ممکن نہیں ہوتی اور اگر کوئی یہ کوشش کرے تو پھر لڑائی جھگڑے اور پرتشدد واقعات رونما ہوتے ہیں، اس لئے بلدیاتی انتخابات کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کے جذبات کا لیول کہیں زیادہ ہوتا ہے اور زرہ سے بات پر طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ مگر یہ بات دیکھنا ہوگی کہ کیا انتخابات کو اپنی مرضی کابنانے کے لئے کوئی منصوبہ بندی تو نہیں کی گئی تھی؟ یا سب کچھ جانتے ہوئے بھی آنکھیں تو بندنہیں کر لی گئی تھیں؟۔ اگر ایسا ہواہے تو یہ قوم کے سامنے آنا چاہیے۔ اب گیند ایک بار پھر الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے کیا وہ پورے صوبے میں دوبارہ انتخاب کراتا ہے یا پھر صرف ان حلقوں میں جہاں دھاندلی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے شکایات کے اندراج کے لئے الیکشن ٹریبونل کی تشکیل شروع کر دی ہے، الیکشن ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن ٹریبونلز کی تعداد ایک ہزار تک ہو سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن جس نے پہلے ہی انتخابات کو اطمینان بخش قرار دے دیا ہے اب کیا سیاسی پارٹیوں کے دبائوں پر فیصلے کرے گایا پھر قانون کو سامنے رکھے گا۔ بہرحال جو بھی ہو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پر جو بدنامی ہوئی ہے کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اور کے پی کے کے انتخابات سے سبق حاصل کر کے آئندہ کے انتخابات کی تیاری کی جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکشن کمیشن جس سے قوم کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں کہ وہ صاف شفاف انتخابات کرائے گا مگر کیا کسی نے یہ سوچا کہ الیکشن کمیشن جیسا ڈھیلا ڈھالا ادارہ شائدہی کوئی اور ہو جس سے عوام وہ توقع رکھے ہوئے ہیں جس کا وہ اہل ہی نہیں، اس کی وجہ سیاسی حکومتیں ہیں اگر وہ اس ادارے کو مضبوط کر دیں تو پھر ان کی من مانیاں کیسے چلیں گی، اس لئے اگر اس ادارے کو حقیقی طور پر خود مختار بنانا ہے تو پھر نہ صرف ان کے احکامات پر عمل درآمد کرنا ہوگا بلکہ ادارے کے افسران اور اہلکاروں کو احتساب کے عمل سے بھی گذارنا ہو گا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا موقف بھی یہی ہے کہ ایسے افراد کا احتساب کیا جائے جو بے قاعدگیوں اورکرپشن میں ملوث ہیں اور جب تک یہ سلسلہ شروع نہیں ہوگا تب تک بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگر اسی طرح ہوتا رہا کہ جوہوگیا اس پر ’’مٹی پائو‘‘ تو پھر پاکستان کے عوام کو مستقبل میں صاف شفاف انتخابات کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔