یہ ایسا وقت ہے جس میں ظالموں کی دعا بھی قبول کر لی جاتی ہے :

علامہ سمر قندی فرماتے ہیں: حضرت موسیؑ نے ایک مرتبہ رب کریم سے سوال کیا کہ: یا اللہ میں کونسی گھڑی میں دعا مانگو جسے آپ قبول فرما لیں؟ جواب ملا کہ: اے موسیٰؑ تو بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں جب بھی تم پکارو(دعا مانگو) گے میں قبول کر لونگا۔
یہ سنکر حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا کہ دیا رباہ! یہ تو آپکا عمومی فضل و کرم ہے اس میں تو کوئی شک نہیں مگر میں تو کوئی خاص وقت معلوم کرنا چاہتا ہوں؟
اس سوال کے جواب میں اس کریم داتا نے فرمایا کہ: آدھی رات کے وت میں دعا مانگا کرو اس لئے کہ یہ وقت ایسا ہے کہ اسمیں چنگی وصول کرنے والے ظالموں کی دعا بھی قبول کر لیا کرتا ہوں۔
رواہ مشکوة ابو داﺅد، ترمذی، حدیث مرفوع)ترجمہ: حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے حضور سر عرض کیا یا رسول اللہ دربار خدا وندی میں وقت کے اعتبار سے کس دعا کی زیادہ سماعت ہوتی ہے؟ یعنی کس وقت کی جانے والی دعا زیادہ جلد قبول ہوتی ہے؟ تو حضور نے ارشاد فرمایا: رات کے اخیر حصہ میں جو دعا کی جاتی ہے وہ اور فرض نمازوں کے بعد کی جانے والی دعا۔
حضرت امام غزالیؒ نے لکھا ہے حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں، سب فرض نمازیں بہتر عمدہ اور مقبول و قتوں میں مقرر ہوئی ہیں اس لئے سب فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنا اپنے اوپر لازم پکڑ لو(ابو داﺅد، ترمذی، نسائی)