یقین نہیں آتا……

جاوید صدیق
یقین نہیں آتا کہ مجید نظامی ہم میں موجود نہیں۔ حسب معمول جب میں دن بارہ بجے نوائے وقت اسلام آباد کے دفتر پہنچتا ہوں تو اب بھی میرے تحت الشعور میں یہی احساس موجود رہتا ہے کہ کسی وقت فون کی گھنٹی بجے گی اور آپریٹر بتائے گا کہ نظامی صاحب بات کرنا چاہتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا دن ہوتا تھا جب نظامی صاحب کا دن میں ایک یا دو بار فون نہ آتا ہو۔ وہ نوائے وقت سے متعلق امور پر ہدایات دیتے تھے۔ کسی خبر کے بارے میں بات کرتے تھے‘ یا کسی کالم پر بات ہوتی تھی۔ کبھی کبھار ان کی طرف سے دارالحکومت میں ان کے کسی دوست یا کسی اہم شخصیت کو ان کا پیغام پہنچانے کی ہدایت ہوتی تھی۔ اپنی زندگی میں جناب مجید نظامی ہر ماہ اسلام آباد کا چکر لگاتے تھے۔ وہ یہاں ایک دو روز قیام کرتے‘ دفتر میں آتے ‘ میٹنگ کرتے اور دفتری معاملات کے بارے میں بریفنگ لیتے‘ اہم فیصلے کرتے۔
اسلام آباد ان کے قیام کے دوران وزراء کرام‘ سیاسی شخصیات ‘ سرکاری آفیسر ان سے ملنے دفتر آتے تھے۔ ایف 8 میں واقع ان کے گھر پر بھی ان کے دوست احباب کی ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ جب تک ان کی صحت برقرار تھی وہ کچھ دوستوں سے ملنے ان کے گھر بھی پہنچ جاتے تھے۔ ان دوستوں میں نسیم انور بیگ سرفہرست تھے۔
نوائے وقت اور مجید نظامی ایک ہی وجود کے دو رخ تھے۔ نوائے وقت کی ساکھ ‘ احترام اور کریڈیبلٹی بنانے میں جناب مجید نظامی نے پوری زندگی لگا دی۔ اس وقت بے حد اطمینان اور خوشی ہوتی ہے جب لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ نوائے وقت کبھی بے بنیاد خبر شائع نہیں کرتا۔ نوائے وقت کا پاکستان اور نظریہ پاکستان کے بغیر تصور ممکن نہیں۔ نوائے وقت اور جناب مجید نظامی نے پاکستان اور نظریہ پاکستان کی سربلندی کو اپنا مشن بنائے رکھا۔ وہ اقبال کو اپنا مرشد قرار دیتے تھے اور قائد اعظم کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے تھے۔ قائد اعظم کا پاکستان کے بارے میں ویژن ان کا ویژن تھا۔ اسلام ‘ جمہوریت اور ایک فلاحی اسلامی ریاست کے قیام کے لئے انہوں نے اپنا خون جگر جلایا۔ ڈکٹیٹروں کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور ان کے حق حکمرانی کو چیلنج کیا۔
پاکستان کے مخالفین کی وہ خوب خبر لیتے تھے۔ بھارت کے پاکستان کے بارے میں مکروہ عزائم کو ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا تھا۔ زندگی میں وہ بھارت کی پاکستان دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کرتے تھے۔ اب جب کہ نظامی صاحب اس دنیا میں نہیں تو اکثر لوگ سوال کرتے ہیںکہ ان کی عدم موجودگی میں کون بھارت کو چیلنج کرے گا ؟ کون پاکستانی عوام کو بھارت کے پاکستان دشمن ایجنڈے سے آگاہ کرے گا ؟ یقیناً نظامی صاحب ہی یہ فریضہ انجام دے رہے تھے۔ جناب مجید نظامی ہم میں موجود نہیں لیکن نوائے وقت ہے۔ اب بھی رات کو غیر شعوری طور پر یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ نظامی صاحب کا فون آنے والا ہے جس میں وہ تازہ ترین خبروں اور واقعات کے بارے میں بریفنگ لیں گے۔
نوائے وقت کا عملہ ان کی روحانی اور فکری موجودگی کو اب بھی محسوس کرتا ہے اور فطری طور پر اس پالیسی کو فالو کرتا ہے جو جناب مجید نظامی ہمیں دے کر گئے ہیں۔ ان کی جگہ ان کی بیٹی رمیزہ مجید نظامی اس وقت نوائے وقت کی قیادت کر رہی ہیں اور بڑی کامیابی سے اپنے باپ کے ورثے اور ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ کسی قاری نے ابھی تک یہ شکوہ نہیں کیا کہ نوائے وقت جناب مجید نظامی کی پالیسی یا مشن سے دور ہو گیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے جب تک نوائے وقت مرحوم کی فکر اور پالیسی پر چلتا رہے گا اسے کسی بات کا کھٹکا نہیں۔