فہم القرآن کا آسان ذریعہ

بریگیڈئر(ر)شمس الحق قاضی
احادیث کی درجہ بندی
(ماخذ حدیث کی کتاب۔ مشارق الانوار۔ مشکواة شریف کا انتخاب)
دین اسلام میںحدیث کی کتابوں کی درجہ بندی صحاح ستہ کے تحت چھ (6) جامع کتابیں کے تحت کی گئی ہے ۔ ان مستند کتابوں میںاول: صحیح بخاری،دوئم:صحیح مسلم،سوئم: ابوداﺅد ،چہارم: ترمذی،پنجم:نسائی اور ششم :ابن ماجہ شامل ہیں۔احادیث کی روایتوں کے مطابق اس کے دلائل اور قیاس صرف قرآن اور حدیث کے دائرہ کے اندر جائزہیں۔ کیونکہ حدیث کے خلاف دلیل وقیاس جائز نہیں۔ ماضی میں ضلع چکوال کے ایک گاﺅں ”چکڑالہ“ سے ایسے فتنہ نے سر اٹھایا تھا جس کے تحت اس سے وابستہ لوگ اپنے آپ کو اہل قرآن کہتے اور عام لوگ ان کو منکرین حدیث کہتے ۔ ان کا ایک لیڈر ڈاکٹر فضل الرحمن کو جو کہ امریکہ کی کسی یہودی یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا، صدر ایوب خان نے اپنی حکومت میںمذہبی مشیر مقرر کیا تھا۔ پھر اس نے پاکستان میں رہتے ہوئے متنازع بیان بھی دیا۔ جس سے اس کے حدیث سے منکر ہونے کا ارتکاب ہوتاتھا جس پر بڑا ہنگامہ ہوا اور ا سے نکال دیا گیا۔غلام احمد پرویزدوسرا شخص تھاجو اہل قرآن ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حدیث نہیں مانتا تھا۔ نئی دہلی میں یہ ہمارے ساتھ اسٹنٹ سیکرٹری یعنی سیکشن آفیسر تھا۔ حال ہی میںشمارہ فروری2015 رسالہ نظریہ پاکستان میں غلام احمد پرویز کے نام سے ایک مضمون چھپا ہے جس میں غلام احمد پرویز نے پاکستان بنانے پر قائداعظم کی بڑی تعریف کی ہے۔ قائداعظم کے پاکستان بنانے پر سب سے زیادہ تعریف مہاتما گاندھی کے بیٹے نے بھی کی تھی۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے کہ غلام احمد پرویز منکر حدیث تھا اس لئے رسالہ نظریہ پاکستان میں غلام احمد پرویز کا مضمون پڑھ کر قارئین خوش نہیں ہوئے ہوں گے۔ غلام احمد پرویز مشہور اور Confirmed منکر حدیث تھا۔ اسلئے اس کے ہم خیال پرویزی کہلاتے ہیں۔ یہ صاحب ایک رسالہ طلوعِ اسلام کے نام سے نکالتے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کو طلوعِ اسلام کی جماعت بھی کہا جاتا تھا۔ پاکستان کراچی میں بطور ڈپٹی سیکرٹری ترقی پا کر اس نے لوگوں کو جمعہ کو جمع کرنا شروع کیا اور اپنے گھر میں درس دیتا تھا یہ شخص غیر مستند نام نہاد تفسیر بھی بیان کرتا رہا جس کا کوئی ماخذ یا سر پیر نہیں تھا۔ مثلاً مختلف آیات کی تشریح بیان کرتے ہوئے افراط وتفریط سے کام لیا۔ (حالانکہ سورة الابقرہ کی آیت نمبر 49میں صاف صاف اللہ تعالیٰ نے فرما دیا:۔
ترجمہ:اور یاد کرو جب نجات بخشی اللہ تعالیٰ نے تمہیں آلِ فرعون سے جنہوں نے تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ذ بح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری لڑکیوں کو۔ اوریہ بات تمہارے لئے بہت بڑی آزمائش تھی۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ کئی نا مقبول لوگوں سے ایسے کام کروا دیتا ہے جو عام لوگوں کے سمجھ میں نہیں آتے۔ مثلاً بھٹو نے دینی جماعتوں میں غیرمقبول ہونے کے باوجود پاکستان کا دستور مکمل اتفاقِ رائے سے حاصل کر لیا ۔پاکستان میں اتوار کی بجائے جمعہ کو چھٹی نافذ کر دی اور اس کے دور حکومت میں مرزائیوں کو غیر مسلمان قرار دے دیا گیاتھا۔ جبکہ سرکاری تقریبات میں شراب پینے کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔
اسی طرح غلام احمد پرویز منکر حدیث نے عائلی قوانین بنا کر ایوب خان سے نافذ کر ائے جو میری رائے میں قرآن و حدیث کے مطابق تھے۔ مثلاً پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری عورت سے شادی کرنا منع قرار دیا گیا۔ اس کی تصدیق آیت قرآنی سورة النساءآیت نمبر 3
پہلی مثال۔
ترجمہ: اگر آپ چاہیں تو چار تک عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں۔ بشرط ِ کہ چاروں میں انصاف کر سکیں۔ اگر (شک بھی ہو) خوف ہو کہ عدل نہیں کر سکیں گے تو ایک ہی پر اکتفا کریں۔
سورة احزاب آیت نمبر 28سے 34تک
د وسری مثال
ترجمہ:اے نبی اگر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگی کی زینت اور آرائش کی خواہش گا ر ہو جو کہ میں مہیا نہ کر سکوں تو میں آپ کو کچھ مال دے کر رخصت کر دوں گا تاکہ آپ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔اسی طرح کئی اور مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کر دینے اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کا ذکر کیاہے۔ اس میں کوئی تاویل کی گنجائش نہیں کہ لڑکوں کو ذبح کرنے کی بجائے ڈرا کر رکھتا۔ یہ ہماری زندگی کا مشاہدہ ہے کہ پاکستان بننے پر ہندوﺅں اور سکھوں نے مسلمانوں کو ذبح کیا اور ابھی حال ہی میں بعض لوگوں نے یہ ظاہر کر کے کہ وہ مسلمان ہیں انہوں نے آرمی پبلک سکول پشاور کے 100سے زائد طلبہ کو ذبح کر دیا۔ اسی طرح پرویزی فرقہ نماز پڑھنے کے بعض اسماعیلیوں کی طرح منکر تھے۔ کیونکہ ان کاکہنا تھا کہ نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔ لہذا نماز معاشرہ میں قائم کی جائے جہاں بھلائی کیلئے ،لوگوں کی بہبود اور آسانیوں کیلئے ہر وقت ایک جماعت ہو۔ غلام احمد پرویز کو بھی ایوب خان نے اپنا ایڈوائزر لگا دیا تھا۔ اس دور میں ان کے زیر اثر نماز ، روزہ کی چھٹی اور موجود عائلی قوانین نکاح نامہ وغیرہ نافذ کیے گئے تھے۔ عوام الناس کی رائے میں چکڑالوی اور پرویزی دونوں ہی منکرین ِحدیث ہونےکی وجہ سے راسخ العقیدہ نہیں سمجھے جاتے۔
حدیث مبارک کی قسمیں
قولی۔جو بات آپ نے زبان مبارک سے فرمائی ہو۔ فعلی:جو آپ نے خود عمل کیا یا آپکے سامنے عمل ہوا اور آپ نے اسے درست رکھا۔تقریری وہ حدیچ ہے جس میںجو بات آپ کے سامنے بیان ہوئی اور آپ نے اسے درست رکھا۔ درجہ بندی کے لحاظ سے حدیث کی روایت کیلئے شرائط موجود ہیں۔
 مرفوع، موقوف، متواتر، احاد، مشہور
روایت کی سند اوپر، روایت کی سند صف راویوں اور سلسلہ روایت ایک ہی سلسلہ سے روایت یا تین یا زیادہ راوی۔
حضور تک پہنچے صحابہ تک پہنچے کی کثیر تعداد کثیر تعداد راویوں کی نہ ہو
عزیز، غریب، محفوظ، مقبول، مردود
دو راوی، صرف ایک راوی، سند کے حوالہ جات سے  راوی کا دیانتدار اور   راوی کی دیانت مشکوک ہو۔
درست راویت، سچا ہونا ثابت ہو
مقبول حدیث کی درجہ بندی مقبولیت کے لحاظ سے
صحیح، حسن،بہت اچھی، اچھی
صحیح حدیث کی درجہ بندی صحت کے لحاظ سے
عُمدہ، صرف بُخاری، صرف مسلم       بُخاری ومسلم، بُخاری و مسلم کے علاوہ   ضعیف، متفق علیہ کی شرط پر پوری،دوسری جامع سحاع ستہ، صحیح اور حسن کے بعد
بُخاری و مسلم:۔محض بمشکل قابل قبول کیونکر ہو سکتی ہیں۔مردود حدیث کی درجہ بندی صحیح ہونے کی کمزوریوں کے لحاظ سے مُرسل، معلق، معطل، متروک، موضوع منکر راویت کے سلسلہ راویت کی سند میں صحابہ کے بعد کے کسی راوی پر کوئی راوی ساقط میں صحابہ کے بعد ایک صحابی ساقط    دو راوی ساقط اور اس طرح جھوٹ کا الزام جھوٹ ثابت ہونا بدعتی ثابت ہوتا ہے۔ راقم کی پیدائش اور پرورش ایک دینی گھرانے میں ہوئی اس لئے بچپن سے ہی ناظرہ قرآن پاک کی تلاوت کرنا معمول تھا۔ تقریباً مہینہ چالیس دن میں ایک ختم القرآن ناظرہ مکمل کرلیا جاتا تھا۔ IMA ڈیرہ دُون سے کمشن حاصل کرنے کے بعد ہم لوگ  (Special ARM S&T School)کاکول میں داخل ہوئے۔ وہاںمیرا ایک روم میٹ اسحاق تھا ۔دینی مناسبت کی وجہ سے ہم لوگ اسے مولانا اسحاقکہتے تھے۔ اسحاق صاحب نے دیکھا کہ میں روزانہ صبح کی نماز کے بعد ایک رکوع ناظرہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہوں ۔ تو اسحاق نے مجھے بتایا کہ ایک رکوع ناظرہ تلاوت کرنے کی بجائے اگر آپ ایک صفحہ ترجمہ کے ساتھ تلاوت کر لیا کریں تو اس طرح قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا اور قرآنی احکام پر عمل کے ساتھ ساتھ د نیاوی اور ناپسندیدہ کاموں سے بھی کنارہ کشی ہو جائے گی۔چنانچہ راقم کو اسحاق صاحب کی بات بہت پسند آئی اور1944ءسے اب تک قرآن پاک باترجمہ، تفسیر، حاشیہ اورFoot Notesکے ساتھ تلاوت جاری ہے(وماعلینا الابلاغ المبین)