شہید اول سیالکوٹ مراد علی شاہ المعروف پیر مرادیہ

جنکا سالانہ عرس مبارک عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا۔
(سید جاوید علی شاہ امامی)
سرزمین سیالکوٹ شہیدوں کی دھرتی ہے جنہوں نے اپنے مقدس خون سے اس خطے کو نوراسلام سے منور کیا اور دور دور تک اسلام کا بول بالا ہو گیا۔ انہی شہدائے اسلام میں اےک نام مراد علی شاہ المعروف پیر مرادیہ بھی ہے جنہیں اس کفرستان میں شہید اوّل ہونیکا شرف حاصل ہوا۔ 757ء ہجری میں ہندو راجہ”سل“ نے سیل کوٹ(موجودہ نام سیالکوٹ) میں اےک عظیم الشان قلعہ کی تعمیر شروع کی۔ قلعہ کی شمالی دیوار تعمیر کے بعد اگلی صبح خودبخود زمین بوس ہو جاتی۔ اس صورتحال نے”راجہ“ کو سخت پریشانی سے دو چار کر دیا۔ بالاخر راجہ سل نے تنگ آکر ہندو پنڈتوں اور جوتشیوں کو اپنے دربار میں مدعو کر کے ان سے تذکرہ کیا اور قلعہ کی شمالی دیوار کے بار بار مسمار ہونے کی وجہ طلب کی۔ چنانچہ جوتشیوں اور نجومیوں نے کافی سوچ بچار کے بعد بتایا کہ اگر اس دیوار کی بنیادوں میں کسی مسلمان کا خون بہا دیا جائے تو یہ دیوار کبھی نہیں گرے گی۔ چنانچہ راجہ سل کے حکم پر اےک مسلمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔ کافی تگ ودو کے بعد مراد علی نامی اےک نوجوان مسلمان تاریخی نالہ”ایک“ کے کنارے وضو کرتے پکڑا گیا جسے راجہ سل کے دربار میں پیش کر دیا گیا۔ آپ نے اپنے پکڑے جانے کی وجہ دریافت کی تو بتایا گیا کہ قلعہ سیالکوٹ کی شمالی دیوار کو برقرار رکھنے کی خاطر اسکی بنیادوں میں کسی مسلمان کا خون نچھاور کرنے کی ضرورت ہے جس پر آپ نے بذات خود اپنی اےک انگلی شہید کر کے اسکا خون قلعہ کی شمالی دیوار کی بنیادوں میں نچھاور کر دیا اور یوں قدرت خداوندی سے قلعہ سیالکوٹ کی شمالی دیوار تھم گئی جس سے راجہ اور اس کے ساتھی بے حد متاثر ہوئے راجہ نے سوچا کہ جس شخص کی انگلی کے خون میں اسقدر تاثیر ہے تو اس کے سر کے خون میں کیا قوت ہو گی۔ چنانچہ متفقہ فیصلہ کے بعد”مراد“ نامی مسلمان کو راجہ سل نے زبردستی شہید کروا کر ان کے سر مبارک کو زیر قلعہ سیالکوٹ کی شمالی دیوار میں دفن کر دیا گیا اور یوں دیوار اپنی جگہ پر قائم رہی اور بالآخر قلعہ سیالکوٹ پایہ¿ تکمیل کو پہنچ گیا۔ مراد علی المعروف شہید اوّل حضرت پیر مرادیہ کا مزار ہر اتوار سیالکوٹ کی شمالی جانب قلعہ سیالکوٹ پر ہی مرجع خلائق ہے اور مخلوق خداوندی انہیں پیر مرادیہ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آپ کا دربار دکھیا دلوں کا سہارا اور نامرادوں کا ملجا ہے جہاں حاضری دینے والوں کی دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں اور ذہنی وقلبی سکون کی بے پایاں نعمت میسر ہوتی ہے۔ حضرت پیر مرادیہ کی والدہ ماجدہ کا مزار اقدس بھی آپ کے پہلو میں واقع ہے اور یوں ماں بیٹے کے مزارات اےک ساتھ ہونے کی یہ ملک بھر میں منفرد مثال ہے۔ حضرت پیر مرادیہ کے قتل نا حق کا بدلہ عظم مجاہدو مبلغ اسلام آل مولا علیؓ کے سپوت، حضرت سید امام علی الحق شہید ( امام صاحب) نے راجہ سل سے جہاد بالسیف کیا اور اس سرزمین پر پرچم اسلام سر بلند کر کے یہاں سے کفروشرک کا خاتمہ کیا۔ دربار عالیہ کے صحن میں حضرت پیر نوگزہ شہاب صاحب کا مزار جبکہ گدی نشیناں پر محمد شفیع۔ پیر سیداللہ دتہ شاہ، پیر سید طفیل شاہ صاحب، اور پیر سید مبارک علی شاہ صاحب کے مدفون بھی واقع ہیں۔ جہاں ہمہ وقت رحمت خداوندی کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ راجہ سل کے خلاف جنگ کے دوران قلعہ سیالکوٹ کے دیوہیکل دروازے کوٹکر مار کر توڑنے والے مجاہد اسلام حضرت پیر سرخ روح شہید کا مزار اقدس بھی مرجع خلائق ہے۔ دربار عالیہ حضرت پیر مرادیہ کے پہلو میں کھڑے ہو کر طائرانہ نظر دوڑانے سے شہر کا خوبصورت منظر نظر آتا ہے۔ جبکہ پنج پیر کا مزار بھی مرجع خلائق ہے۔ شہید اوّل حضرت پیر مرادیہ کے سالانہ عرس مبارک کی3 روزہ تقریبات گزشتہ دنوں منعقد ہوئیں۔ جس میں گدی نشیناں پیر سید تبارک علی شاہ، سید ندیم علی شاہ، سید خادم حسین شاہ اور سید جاوید علی شاہ امامی کی امامت میں دعا کروائی گئی۔جس کا اہتما م ڈ سٹرکٹ منیجر اوقاف شاہد حمید ورک نے کیا۔