دلوں کی راحت اورذہنی تابندگی کا راز ذکرالہی میں پنہاں ہے

 نادان انسان کو جب راحت افزا چیزیں میسر آتی ہیں تو خوشی سے شاداں ہو جاتا ہے جب کوئی مصیبت آ گھیرتی ہے تو فوراً ناشکرا بن جاتا ہے
تحریر.... حافظ محمد اسحاق جیلانی
گھنے درخت پر بیٹھی ننھی ننھی چڑیوں کا جھنڈ بھی اللہ کی تسبیح میں مصروف دکھائی دیتا ہے اس لئے کہ یہ ننھی مخلوق بھی بے حد احسان شناس ہے کہ اپنے خالق و رازق کا شکر ہر لمحہ ادا کیے جارہی ہے۔ دوسری طرف ایک انسان ہے ! جسے اللہ پاک نے سہولیات زندگی پیدا کرنے کیلئے قدرت عطاءکی ہے ۔ اس کیلئے لباس، گھربار، غرض یہ کہ مال و دولت کی فروانی ہے لیکن کمی ہے تو ایک چیز کی کہ اسے ذہنی سکون اور اطمینا ن قلب میسر نہیں۔ ہمارے خالق و مالک نے جس نسخہ شافی کا ہم سے وعدہکیا ہے اس کی کامیابی کا راز ذکرالہی میں پنہاں ہے ۔صدق و صفا کے پیکر اعظم رسول کریم نے فرمایا : ” اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور اس کی جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا ہے ایسے ہے جیسے زندہ و مردہ ۔ (صحیح بخاری)نبی کریم نے اپنے جاںنثار صحابہ کرام ؓ کو جنہیں بھوک و پیاس کے طویل دور ایسے سہنے پڑے تھے گھر بار اور اولاد کی جدائی کے غم جن کے دلوں میں تھے ان کی تربیت بھی اسی نہج پر کی کہ وہ ابتلاءو آزمائش کی گھڑی میں اپنے دلوں کو ذکر الہی سے تروتازہ رکھیں۔ رسول اللہ نے فرمایا: اے میرے صحابہ ؓ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاﺅں جو تمہارے سب اعمال سے بہتر ہے اور تمہارے رب کے ہاں سب سے زیادہ پاکیز ہ ہے اور تمہارے درجات میں سب سے زیادہ بلند ہے اور تمہارے لےے سونا چاندی صدقہ کرنے سے بہتر ہے اورتمہارے لےے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمہارا مقابلہ دشمن سے ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاﺅ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی ”کیوں نہیں“ آپ نے فرمایا ”کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو “(ترمذ ی وابن ماجہ ) ذرا سوچئے! اعمال حسنہ پر محیط ذکرالہی سے غفلت انسان کے دل و دماغ کوبے سکونی کی تاریک وادیوں میں دھکیلنے کیلئے کافی نہیں؟ کیا غیبت، جھوٹ، چغلی، گالی گلوچ اور الزام تراشی جیسے کبیرہ گناہ ہماری ذہنی و قلبی تشنگی کا مداوا کرسکتے ہیں؟ کیا شیطانی لوازمات سے لدی محفلیں ہماری نجات کا ذریعہ بن سکتی ہیں؟ ہر گز نہیں کیانکہ نبی کریم نے ایسی مجالس کو اپنی امت کے لئے تباہ کن قرار دیا اور آگا ہ کرتے ہوئے فرمایا ”جب لوگ کسی مجلس سے اٹھتے ہیں جس میں وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو وہ مردہ گدھے کی بدبو دار لاش جیسی چیز سے اٹھتے ہیں اوریہ عمل ان کے لےے حسر ت کا باعث ہو گا “ (سنن ابو داﺅد)۔ افسوس کہ آج ہماری مجالس بھی اللہ کے ذکر سے خالی اور محض شیطان کی پیروی کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہےں۔