خواتین کے لئے شجرسایہ دار

غزالہ فصیح
آفتابِ صحافت جناب مجید نظامی مرحوم نے قلم کی سلطنت پر تابناک نقوش مرتب کئے ۔ انکی شخصیت ادارہ نوائے وقت کا محور و مرکز تھی۔ خبروں سے لیکر اداریئے اور میگزین سے لیکر کالموں تک ہر جگہ ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی تھی۔ یہ مجید نظامی صاحب کی شخصیت کا کمال تھا جس نے مالک اور کارکن کے تعلق کو اپنائیت کے رشتے میں ڈھال دیا۔ نوائے وقت گروپ میں ایک خاندان‘ ایک فیملی‘ جیسا کلچر پروان چڑھا ، لوگ یہاں ملازمت اختیار کرتے اور یہیں کے ہو کر رہ جاتے تھے ۔
مجید نظامی مرحوم خواتین کیلئے بلاشبہ ایک شجر سایہ دار تھے انہوں نے پاکستانی صحافت میں جہاں کالم نگاروں‘ مشاق رپورٹروں اور صحافیوں کی کھیپ متعارف کروائی وہیں خواتین صحافیوں کے لئے میدان صحافت کا ماحول ساز گار بنانے میں بھی بے مثال کردار ادا کیا۔ اس کا آغاز انہوں نے اپنے ادارے میں خواتین کو عزت و تحفظ فراہم کرکے کیا۔ مجید نظامی صاحب کی شخصیت کا فیض ہے جو نوائے وقت کے صفحات پر خواتین قلمکاروں کو بہترین مقام حاصل ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی سے بہت سی خواتین نے خارزار صحافت میں قدم رکھنے کی ہمت کی۔ نوائے وقت نے خواتین کے حقوق کو این جی اوز کے سرگرم ہونے سے بھی پہلے اپنی پالیسی کا حصہ بنایا۔ خواتین کے لئے ہفتہ وار ایڈیشن مختص کیا گیا اور مجید نظامی صاحب نے ہمیشہ نوائے وقت میں لیڈی رپورٹر کا تقرر یقینی بنایا‘ خاتون صحافی کیلئے لیڈی رپورٹر کی اصطلاح بھی انہی کی تجویز کردہ ہے ان دنوں صحافتی یا ترقی پسند تنظیموں میں کئی لوگ اس اصطلاح پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خاتون ہو یا مرد رپورٹر کو صرف رپورٹر لکھنا چاہیئے اور یہ کہ لیڈی رپورٹر کا لفظ خواتین سے امتیازی سلوک ہے لیکن میں برملا اس موقع پر یہ کہتی ہوں کہ یہ امتیازی نہیں اعزازی سلوک ہے۔ نظامی صاحب کی اس اصطلاح نے خواتین رپورٹروں کو شناخت دی اور قارئین کو باور کروایا کہ خواتین صحافت کے اس شعبے میں بھی سرگرم ہیں۔
نظامی صاحب نے اپنے ادارے میں خواتین کی عزت اور تحفظ کو یقینی بنایا۔ میں نے جب نوائے وقت سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تو یہاں لیڈی رپورٹر‘ زبیدہ خانم کو بڑے دبنگ انداز میں کام کرتے دیکھا۔ مرد حضرات ان سے باقاعدہ کتراتے تھے مجھے اس بارے میں تجسس ہوا ایک دن اس کی وجہ معلوم ہوگئی جب باتوں باتوں میں ایک صاحب کہنے لگے ’’ بھئی زبیدہ تو ڈائریکٹ ایم ڈی صاحب کے پاس شکایت لے جاتی ہے‘‘۔ ایم ڈی صاحب خواتین کی شکایت کا فوری نوٹس لیتے تھے کراچی آفس میں ایک خاتون رپورٹر سے کولیگ نے بدتمیزی کی خاتون نے خود بھی تھپڑ مار کر اس کی تواضع کرلی اور بعد میں ایم ڈی صاحب کو واقعے کی رپورٹ کرکے اسے ملازمت سے برخواست بھی کروادیا۔ یہ نظامی صاحب کی کڑی سرپرستی تھی جس کی بدولت نوائے وقت گروپ کی خواتین ادارے میں خود کو گھر کی طرح محفوظ سمجھتی ہیں مختلف تقاریب میں جہاں جائے ملازمت پر خواتین کو ہراساں کرنے کے مسائل کی بات ہوتی ہے نوائے وقت کی خواتین فخر سے اپنے ادارے کے متعلق بتاتی ہیں کہ یہاں خواتین کو تحفظ حاصل ہے اور آزادانہ کام کرنے کے مواقع بھی۔ نظامی صاحب خود کارکن خواتین کا ایک حقیقی جنٹلمین کی طرح احترام کرتے تھے مجھے یاد ہے کیریئر کے آغاز میں ایک مرتبہ میں دفتر کی ریسیپشن پر لفٹ کی منتظر تھی میرے ساتھ ایک دو اصحاب اور بھی کھڑے تھے اتنے میں نظامی صاحب تشریف لے آئے‘ لفٹ نیچے آچکی تھی ملازم نے نظامی صاحب کیلئے دروازہ کھولا‘ ہم سب احتراماً ہٹ کر ایک جانب ہوگئے تاکہ صاحب لفٹ میں اوپر چلے جائیں لیکن میں حیران رہ گئی جب نظامی صاحب لفٹ میں داخل ہوتے ہوئے کہنے لگے ’’ بی بی آپ بھی آجائیں‘‘ مجھے نوائے وقت میں انٹرن شپ کرتے ہوئے چند ہفتے ہوئے تھے۔ نظامی صاحب کی شفقت نے ابتدا میں ہی اپنا گرویدہ کرلیا۔
نظامی صاحب کارکن خواتین کی بات توجہ سے سنتے اور فوری کارروائی کے احکام دیتے تھے ان کا ایک مخصوص انداز تھا۔ میری جب بھی ان کے پاس حاضری ہوئی بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ’’ جی بی بی‘‘ مجھے کچھ بیان کرنا ہوتا تو بتا دیتی انہیں کچھ دریافت کرنا ہوتا تو وہ مختصر سوال کرتے اور دو تین منٹ میں گفتگو سمیٹتے ہوئے فرمادیتے آپ مجھے لکھ کر دے دیں اور ہم مطمئن ہو جاتے کہ اب کام ہوجائے گا۔
 میں نے یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشنز میںڈگری حاصل کی لیکن بحیثیت صحافی نوائے وقت میں پرورش پائی۔ نظامی صاحب کی ہدایات‘ ان کے نظریات نوائے وقت کے کارکنوں کی عملی تربیت کرتے تھے۔ خوش قسمتی سے صحافت کے اس دبستان سے مجھے بھی کسب فیض حاصل ہوا ۔نوائے وقت میں کام کے آغاز میں ہی نظامی صاحب نے ملتا ن کی خواتین جیل پر فیچر تیار کرنے کیلئے بھجوادیا یہاں ان دنوںقتل کے ایک مشہور مقدمے میں گرفتار عورت کو رکھا گیا تھا اس کے علاوہ دیگر قاتل عورتوں سے انٹرویو کا بھی موقعہ ملا۔
نوائے وقت میں خواتین کوکام کے آزادانہ اور یکساں مواقع حاصل ہیں۔نظامی صاحب ایکسکلیوسیو رپورٹس پر حوصلہ افزائی کرتے تھے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہیں نظامی صاحب نے محسن پاکستان کا خطاب دیا تھا انہیں جب مشرف دور میں نظر بند کردیا گیا اور ان کے متعلق خبروں کا حصول مشکل ہوگیا تو ہم نے کراچی میں ڈاکٹر قدیر خان کی ہمشیرہ اور دیگر رشتے داروں تک رسائی حاصل کی اور ان کے ذریعے ڈاکٹر قدیر کی خبریں قارئین تک پہنچاتے رہے۔ نظامی صاحب کی ہدایت پر ڈاکٹر صاحب کے متعلق خبریں اور مضامین نوائے وقت کے چاروں اسٹیشنز پر نمایاں انداز میں چھپتی تھیں نظامی صاحب کراچی تشریف لائے تو ڈاکٹر قدیر خان کی ہمشیرہ رضیہ صاحبہ نے احساس ممنونیت کے تحت انہیں اپنے گھر پر مدعوکیا نظامی صاحب محترمہ رمیزہ صاحبہ کو بھی ہمراہ لے گئے وہ تمام اہم معاملات پر محترمہ رمیزہ نظامی کی تربیت کرتے تھے ۔ ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی پر میں نے نوائے وقت کراچی میں کالم لکھا تو نظامی صاحب کا حکم ملا کہ کالم لاہور بجھوایا جائے جائے یہاں بھی چھپے گا۔ اس سے پہلے بے نظیر بھٹو کی حادثاتی موت پر لکھے کالم کو بھی انہوں نے لاہور میں شائع کروایا ۔نوائے وقت کے چاروں اسٹیشنز کے ایڈیشن ان کی نظر میں رہتے تھے ۔