حضرت عائشہؓ کا صدقہ

حضرت عائشہؓ کی خدمت میں دو گونین درہموں کی بھر کر پیش کی گئیں جن میں ایک لاکھ سے زیادہ درہم تھے۔ حضرت عائشہؓ نے طباق منگایا اور ان کو بھر بھر کر تقسیم فرمانا شروع کر دیا اور شام تک سب ختم کر دئیے۔ ایک درہم بھی باقی نہ چھوڑا۔ خود روزہ دار تھیں، افطار کے وقت باندھی سے کہا کہ افطار کے لئے کچھ لے آﺅ۔ وہ ایک روٹی اور زیتون کا تیل لے آئیں اور عرض کرنے لگیں کیا اچھا ہوتا کہ ایک درہم کا گوشت ہی منگا لیتیں آج ہم روزہ گوشت سے افطار کر لیتے۔ فرمانے لگیں، اب طعن دینے سے کیا ہوتا ہے۔ اس وقت یاد دلاتی تو میں منگا لیتی ہے۔
 حضرت عائشہؓ کی خدمت میں اس نوع کے نذرانہ امیر معاویہؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ کی طرف سے پیش کئے جاتے تھے۔ کیونکہ وہ زمانہ فتوحات کی کثرت کا تھا۔ مکانوں میں غلہ کی طرح سے اشرفیوں کے انبار پڑے رہتے تھے اوراس کے باوجود نہایت سادہ اور معمولی طریقے سے زندگی گزاری جاتی تھی۔ حتیٰ کہ افطار کے واسطے بھی ماما کے یاد دلانے کی ضرورت تھی۔ پچیس ہزار روپے کے قریب تقسیم کر دیئے اور یہ خیال بھی نہ آیا کہ اپناروزہ ہے اور گوشت بھی منگانا ہے آج کل اس قسم کے واقعات اتنے دور ہو گئے ہیں کہ خود واقعہ کے سچا ہونے میں تردد ہونے لگا۔ لیکن اس زمانہ کی عام زندگی جن لوگوں کی نظر میں ہے۔ ان کے نزدیک یہ اور اس قسم کے سینکڑوں واقعات کچھ بھی تعجب کی چیز نہیں۔ خود حضرت عائشہؓ کے بہت سے واقعات اس کے قریب قریب ہیں ایک دفعہ روزہ دارتھیں اور گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایک فقیر نے آ کر سوال کیا، خادمہ سے فرمایا کہ وہ روٹی اس کودے دو۔ اس نے عرض کیا کہ افطار کے لئے گھر میں کچھ بھی نہیں فرمایا۔ کیا مضائقہ ہے۔ وہ روٹی اس کو دے دو اس نے دے دی ۔ ایک مرتبہ ایک سانپ ماردیا۔ خواب میں دیکھا کوئی کہتا ہے کہ تم نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا فرمایا : اگر وہ مسلمان ہوتا تو حضورؓ کی بیویوں کے یہاں نہ آتا۔ اس نے کہا مگر پردے کی حالت میں آیا تھا۔ اس پر گھبرا کر آنکھ کھل گئی اور بارہ ہزار درہم جوایک آدمی کا خون بہا ہوتے ہیں صدقہ کئے عروةؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ ستر ہزار درہم صدقہ کئے اور اپنے کرتہ میں پیوند لگ رہا تھا۔