حضرت شاہ حسین قادریؒ المعروف مادھو لال حسین ؒ

(945 ھ تا 1008 ھ بمطابق 1538 ءتا 1600ء)
تحرےر.... محمد ادریس عزیز ملک
حضرت شاہ حسین نے پڑھ لکھ کر اپنے ہونے کو جس طرح ڈبویا برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں اس کا رواج نہ تھا۔ ملامتی انداز عرب و فارس میں موجود تھا اور برصغیر میں بھی اس کے اثرات موجود تھے مگر جو انداز شاہ حسین نے اختیار کیا ۔انہوں نے چھپنے چھپانے کی بجائے اس ملامتی انداز فکر کو سر بازار عام کر دیا۔ اس سے پہلے یہ کسی کا وطیرہ نہ تھا۔ یوں شاہ حسین نے انتہائی خطرناک طرح نو ڈالی جس پر وہ خود ہی حرف آخر ثابت ہوئے ۔ نام اور خاندان۔آپ کا نام حسین بن عثمان تھا۔ آپ لاہور شہر کے محلہ تل بگھ ٹیکسالی دروازہ میں ایک نو مسلم گھرانے میں 945 ھ بمطابق 1538 ءکو پیدا ہوئے۔ آپ کے آبا¶ اجداد ہندو راجپوت تھے جو فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مسلمان ہوئے آپ والد کی جانب سے کلس رائے تھے پڑھے لکھے ہونے کی بنا پر انہیں شیخ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔ والدین کی طرف سے آپ راجپوت تھے جو روزی رزق کمانے کے لیے کپڑا بُنا کرتے تھے۔ آپ کی والدہ ڈاھڈا یا ڈھڈی راجپوت تھیں۔ اس لیے اگلے مرحلے پر آپ شیخ حسین، حسین ڈاھڈا کے نام سے معروف ہوئے۔ نام کے اعتبار سے آپ پہلے مرحلے پر شیخ حسین، حسین جولاہا ، پھر حسین ڈاھڈا اور آخر میں شاہ حسین کے نام سے پہچانے گئے۔ مگر وصال کے کافی عرصے کے بعد ان کا نام مادھو لال حسین ہو گیا اور انیسویں صدی عیسوی سے آپ اِسی نام سے معروف ہیں۔
 تعلیم و تربیت
سات برس کی عمر میں شیخ ابو بکر لاہوری جو کہ حافظ قرآن اور ایک بڑے عالم تھے سے قرآن پاک حفظ کرنے لگے۔ تین سال میں قرآن پاک کے چھ جزو حفظ کئے۔ اس دوران شیخ بہلول دریائی لاہور تشریف لائے تو مسجد شیخ ابوبکر میں قیام فرما ہوئے۔ یہاں ان کی شاہ حسین سے ملاقات ہوئی، چنانچہ آپ نے ان کو اپنی بیعت میں لے لیا۔ اس کے بعد شیخ حسین نے چھبیس سال زہدو ریاضت میں بسر کئے اور پھر چھتیس سال تک شیخ سعداللہ لاہوری سے تفسیر مدارک پڑھتے رہے۔ جنہوں نے ےہ درس دےا تھا کہ"دنےالہو و لعب کے سوا کچھ نہےں"۔ ےہ سن کر اس زمانہ میں آپ نے تحصیل علوم کا سلسلہ منقطع کر دیا اور ملامتیہ طریقہ اختیار کر لیا۔ آپ رات حضرت مخدوم علی ہجوےری داتا گنج بخش ؒکے مرقد ِ منور پر بسر کرتے جہاں آپ کو حضرت ہجویری ؒکی زیارت ہوئی۔
حضرت شاہ بہلول سے ملاقات
 جب آپ قرآن پاک حفظ کر رہے تھے ،اس دوران حضرت شاہ بہلول آپ سے ملنے ایک حکم کے مطابق لاہور تشریف لائے آئے ۔ حضرت شاہ بہلول کی پہچان یہ تھی کہ وہ قطب زماں تھے۔ شاہ حسین کیلئے تعلیم و تربیت کا وسیلہ بن کر آپ جب مسجد میں آئے تب انہوں نے شاہ حسینؒ کے استاد سے اُنکا نام پوچھا، اور شاہ حسین کو حکم دیا کہ دریا سے وضو کے لیے پانی لا¶۔ آپ نے پانی لا کر دیا، انہوں نے وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کی اور دعا کی اے اللہ اس بچے پر کرم فرما اس کو عرفان کی دولت سے مالا مال کر دے اور اپنا سچا عاشق بنا دے ۔ بیعت و خلافت:
آپ نے حضرت شاہ بہلول کے ہاتھ بیعت کی اور انہوں نے بیعت کے بعد آپ کو خرقہ خلافت عطا کیا۔ پھر خرقہ خلافت لینے کے بعد آپ نے رخصت ہونے کا ارادہ ظاہرکیا۔ پیر و مرشد جب رخصت ہونے لگے اس سے پہلے انہوں نے آپ کو یہ ہدایت کی کہ " آپ ، حضرت داتا گنج بخش ؒکے مزار پر باقاعدگی سے حاضری دیاکریں"۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق آپ ایسا ہی کرتے رہے اور مزار پر جا کر سکون اور یکسوئی پاتے تھے ۔ شاہ حسین کے استادوں میں شیخ سعد اللہ کا نام اس اعتبار سے بہت نمایا ںہے کہ ایک تو وہ اپنے عہد کے جید عالم تھے اور ایک بہت بڑے مکتب کے سربراہ تھے دوسرے شیخ سعد اللہ تصوف میں خاص مسلک رکھتے تھے جن کے بارے میں محمد اقبال مجددی نے طبقات اکبری میں سے نظام الدین احمد ہروی کا یہ جملہ دائرہ المعارف اسلامیہ میں درج کیا ہے " بروش ملامتیہ سلوک مے نمود "
حالات زندگی:
شہزادہ دارا شکوہ قادری نے اپنی تا¾لیف شطحات میں لکھا ہے کہ اکبر اور جہانگیر کی بیگمات شیخ حسین کی روحانی قوت کی بے حد مداح تھیں اسی وجہ سے جہانگیر نے اپنے ایک درباری بہار خان کو خاص طور پر اسی مقصد کے لئے لاہور میں مقرر کر رکھا تھا کہ وہ اس بزرگ کی حالات زندگی لکھتا رہے ۔ یہ کتاب بعد ازاں " بہاریہ" کے نام سے موسوم ہوئی۔ آپ شہنشاہ اکبر کے سامنے بھی کئی دفعہ پیش ہوئے۔ مگر ہر قسم کی ملامت سے محفوظ رہے۔ بلکہ جب بادشاہ نے عبدالرحیم خان خاناں کو ٹھٹھہ کی تسخیر کے لئے ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ بھیجا تو وہ آپ کی دعا و برکت سے ہی فتحیاب ہوا۔ مخدوم الملک قاضی لاہور بھی آپ کے طریق پر سرزنش نہ کر سکا۔
مادھو سے عشق کی داستان :
 مادھو شاہدرہ کے ایک برہمن خاندان کا خوبرو نوجوان تھا جو 18 سال کی عمر کا تھا کہ کہیں ایسی جگہ سے گزر ہوا جہاں شاہ حسین جن کی عمر 56 سال تھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ عالم سکر میں موجود تھے ، پہلی ہی نظر میں شاہ حسین گھائل ہوئے اور دوستوں کے ساتھ مادھو کے گھر پہنچ گئے۔ مادھو شادی شدہ تھا، ایک برہمن لڑکے کے عشق میں اس حد تک ڈوب جانے سے شاہ حسین کے بارے میں طرح طرح کی باتیں اڑنے لگیں۔وہ شخص جس نے 56 برس کی عمر تک شادی نہ کی نہ اسکے عشق کی داستان کسی نے سنی جو شب و روز اپنے حال میں مست شہر میں گھومتا پھرتا تھا، اس شخص کے ایک نوجوان برہمن زادہ غیر مسلم لڑکے کے عشق میں اس حد تک گزر جانا معمولی واقعہ نہ تھا۔ شاہ حسین مادھو کے عشق میں شاہدرہ کی گلیوں کے طواف کرتے رہے۔مادھو نے ابتداءمیں شاہ حسین کی طرف کوئی توجہ نہیں دی مگر آخر میں وہ بھی بعض باتوں سے متاثر ہو کر شاہ حسین کی طرف مائل ہوا۔ شاہ حسین رات کے وقت مادھو کے گھر کا طواف کیا کرتے تھے اور مادھو اپنے گھر والوں سے جو باتیں کرتا تھا، شاہ حسین بیرون خانہ وہی باتیں با آواز بلند دوہرا دیا کرتے تھے۔ مادھو آخر شاہ حسین کا گرویدہ ہو گیا اور ان کے گروہ میں شامل ہو گیا۔ مادھو نے شاہ حسین سے اپنی وابستگی کو اپنے گھر والوں سے چھپائے رکھادو برس اسی صورت گزر گئے۔ مادھو بھی اسی رنگ میں رنگا گیا جس میں شاہ حسین رنگے ہوئے تھے ۔شاہ حسین کی محبت مادھو پر اپنا اثر کر گئی اور مادھو اپنے خاندان سے لا تعلق ہو چکا تھا، اپنے مذہب سے بھی آزاد ہو گیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ مادھو کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے خاندان سے اور خاندان نے اس سے قطع تعلق کر لیا۔ مادھو ہمہ وقت شاہ حسین کی صحبت میں رہنے لگا۔اس وقت تک شاہ حسینؒ کی معلوم شاعری میں مادھو لال کا ذکر صرف ایک بار آیا ہے۔
پیارے لال کیا بھروسہ دم دا
اڈیا بھور، تھیا پردیسی، اگے راہ اگم دا