اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخ زیبا لے کر

الطاف مجاہد
سیاست اور سیاستدان معاشرے کا لازمی حصہ ہیں لیکن اہل صحافت کچھ سوا اور اس شعبے میں کچھ جو شناخت ٹھہرے جن کا وجود اسے توقیر اور احترام بخش گیا۔ مثلاً عہد حاضر میں مجید نظامی … ماضی قریب میں شورش کاشمیری ، مولانا ظفر علی خان، حمید نظامی اور ذرا پہلے مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر  اور ان کے معاصرین میں شیخ عبدالمجید سندھی، قاضی خدا بخش مورائی، مولانا دین محمد وفائی اور بہت سے جنہوں نے صحافت کو مشن سمجھا اور اس پیشے کے وقار کا سبب بنے۔ جراح کے نشتر کی طرح جو مہارت سے لگے تو مریض کو آفاقہ کرتا ہے اسی طرح ادیب، شاعر، نثرنگار اور صحافی کا قلم درست سمت میں چلے اور معاشرے کی رہنمائی کرے تو قافلے منزلوں پر پہنچ جاتے ہیں۔  
جناب مجید نظامی اپنے عہد کا بڑا نام جنہوں نے برسوں ایڈیٹر کی کرسی پر گزارے اور ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق سے پرویز مشرف تک تمام فوجی و سول حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں  ڈال کر بات کی۔  انہوں نے میاں نوازشریف اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بھی بد انتظامیوں اور بے قاعدگیوں  پر روکا ٹوکا، دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ گفتگو کرتے تو وقت گزرنے کا احساس نہ ہوتا ان کی تقاریر، اخباری انٹرویو  اور ٹی وی پر کی گئی بات چیت بحث کے بہت سے دروازے کھولتی  ہے اور تحقیق کرنے والوں کو جو پاکستان کی سیاست، معیشت ، معاشرت سمیت زندگی کے بہت سے شعبوں کو جاننا چاہتے ہوں بہت سا مواد بھی فراہم کرتی  ہے۔
امریکی ریاست لاس اینجلس سے شائع ہونے والے موقر انگریزی جریدے ’’پاکستانی لنک‘‘ میں مواحد حسین سید نے مجید  نظامی کا نقشہ کچھ ان الفاظ میں کھینچا کہ وہ صحافت میں اپنی نوع کی شخصیت ہیں  ایوان صدر میں مقیم پاکستانی صدور کے مقابلے میں ملک میں مجید نظامی کا اثر رسوخ زیادہ ہے باخبر لوگ انہیں ’’ڈان‘‘ سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ جو یورپی دریا ڈینیوب کا معروف نام  ہے کہ پاکستان کی سیاست اور نظریاتی جہت میں مجید نظامی بھی ڈان دریا کی طرح خاموش اور گہرائی سے رواں دواں  رہنے والے انسان ہیں۔
مجید نظامی مرحوم نے نوائے وقت کے ادارئیے ہوں یا سرِراہے کے شذرے  اور دیگر اخبارات کو دئیے گئے انٹرویو ہمیشہ انسانی حقوق، جمہوری آزادیوں  اور عوام کے ایشوز  کی بات کی ان کے مخالفین  بھی تسلیم کرتے  ہیں جرات اظہار کا سلیقہ نوائے وقت پڑھ کر ہی سمجھ آتا ہے خود مجید نظامی مرحوم  نے ایک اخبار کو انٹرویو  میں کہا تھا کہ ایسی تحریریں جن سے اخبار بند ہو جائے کے مقابلے  وہ سچ جس سے اخبار زندہ رہے اور فریق ثانی کو نشتر بھی چھبے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور آپ کے ادارئیے و اخباری انٹرویو اس کا ثبوت ہیں ایک اور انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں پارلیمانی نظام کے سوا کوئی نظام نہیں چل سکتا کیونکہ یہ ’’قائداعظم‘‘ کا دیا ہوا نظام ہے صدارتی نظام کو وہ ’’ون مین شو‘‘ قرار دیتے تھے اور برملا کہا کرتے تھے کہ  ایک قوم کا تصور صرف پارلیمانی نظام کے قیام سے ہی اجاگر ہوتا ہے جس میں صوبائی خود مختاری بھی ہے اور کشمیریوں، بلوچوں، پٹھانوں اور پنجابیوں کا کلچر بھی۔ بے شک ہماری اسلامی ثقافت بھی ہے مگر اس میں الگ الگ رنگوں کے کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح ہمارے صوبوں کے رنگ بھی شامل ہیں جن کا پس منظر اسلامی ہے لہذا آئین  کے اندر رہتے  ہوئے صوبوں  کو خود مختاری بھی دینی چاہئے۔ ان کا استدلال تھا کہ صدارتی نظام کے باعث صوبے مطمئن نہیں ہیں۔ اگر وجود کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم درد کرتا ہے اور دکھن محسوس  ہوتی ہے لہذا پاکستان کا مستقبل پارلیمانی نظام کی مستحکم بنیادوں پر قائم ہونے میں ہی مضمر ہے۔