شہید بیٹا امر ہو گیا ‘ ہمیں زمانے میں ممتاز کر گیا

فیصل عرفان
بیٹے کی شہادت نے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیا
جدائی کا صدمہ اپنی جگہ لیکن شہید بیٹا خود امر ہو کرہمیں بھی زمانے بھر میں ممتاز بنا گیا
 دن بھر سینکڑوں نامعلوم لوگ فون کر کے بیٹے کی شہادت پر مبارکباد دیتے ہیں
سانحہ پشاور میں شہید ہونیوالے ندیم الرحمان انجم کے والد ماسٹر حبیب الرحمن کی خصوصی گفتگو
سانحہ پشاور میں شہادت کا رتبہ پانے والے ندیم الرحمان انجم کا تعلق شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین تحصیل گوجر خان کے ایک گاؤں کرنب جگیال( یونین کونسل کرنب الیاس)سے تھا، ندیم الرحمان انجم 17ستمبر 1983ء کوماسٹر حبیب الرحمن کے گھر پیدا ہوئے، تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں شہیدپہلے نمبر پر تھے ،پانچویں جماعت تک گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول جولے سے تعلیم حاصل کی،آٹھویں جماعت گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سکھو سے پاس کرنے کے بعد راولپنڈی میں اپنے نابینا تایا تائی کے پاس  منتقل ہوگئے جہاں گورنمنٹ ڈینیز ہائیر سیکنڈری سکول میں جماعت نہم میں داخلہ لیا اور پھر وہاں سے  گورنمنٹ بوائزہائی سکول خیابان سرسید راولپنڈی سے میٹرک کے بعد 6جنوری 2003ء کو آرمی میڈیکل کور میں بحثیت ریڈیو گرافر بھرتی ہوگئے اور دوران ملازمت ایف اے اور بی اے کے امتحانات بھی پاس کیے،2اگست2014ء کوایم ایچ راولپنڈی سے 137میڈیکل بٹالین پشاورتبادلہ ہوا،سانحہ کے روز 137میڈیکل بٹالین پشاورسے شہید سمیت چار رکنی ٹیم آرمی پبلک سکول کے طلباء کو ابتدائی طبی امداد کے موضوع پر لیکچر دینے کیلئے سکول گئی،ٹیم میں میجر رینک کے ایک آرمی آفیسر کے علاوہ ندیم الرحمان انجم ،انکا معاون اور ڈرائیور شامل تھے، ندیم الرحمان انجم اور انکا معاون آڈیٹوریم میں طلباء کو ابتدائی طبی امداد کے طریقے بتا رہے تھے کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیااور بچوں کیساتھ انہوں نے بھی جام شہادت نوش کر لیا ،ہم 20دسمبر کودولتالہ سکھو سے روزنامہ نوائے وقت کے نامہ نگارمحمد ریاض چشتی کی معیت میں شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے انکے گاؤں گئے،سکھو سے انکے گاؤں جانیوالی ناپختہ سڑک کی بابت استفسار پر ریاض چشتی نے بتایا کہ شہید کی نماز جنازہ کے موقع پرعلاقہ ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی اور کمشنر راولپنڈی کیپٹن زاہد سعید سڑک کی پختگی ، اسے شہید کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کر چکے ہیں،گاؤں سے تھوڑا پہلے ہی ایک قبرستان میںآسودہ خاک ندیم الرحمان انجم کی قبر پر فاتحہ خوانی کیلئے ہم پہنچے تو فضا پھولوں کی خوشبو سے معطر اور تربت پر لہراتا سبز ہلالی پرچم ،صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان، آرمی چیف ،کمانڈر ٹین کوراور وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے چڑھائی گئی پھولوں کی چادر یں شہید کی عظمت کی گواہی دے رہی تھیں،فاتحہ خوانی کے بعد شہید کی رہائش گاہ پہنچے تو تعزیت کیلئے آنیوالوں کا تانتا بندھا ہوا تھا،شہید کے والد ماسٹر حبیب الرحمن ،بھائیوں منیب الرحمن،حسیب الرحمن اور چچا محمد ظہور سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعدگفتگو کا سلسلہ شروع کیا تو ماسٹر حبیب الرحمن نم آلود آنکھوں کیساتھ اپنے قابل فخر بیٹے کے متعلق بتانے لگے،ان سے جو گفتگو ہوئی وہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔
س:ندیم الرحمان انجم کی شہادت کی اطلاع کب اور کیسے ملی؟
ج:میں گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول جولے میں درس و تدریس سے منسلک ہوں،16دسمبر کو دوپہرسوا ایک بجے کے قریب 137میڈیکل بٹالین کے کرنل جمیل نے موبائیل نمبر سے بیٹے کی شہادت کی اطلاع دی تومیں گھر بتائے بغیر ہی سکول سے پشاور کیلئے چل پڑا،اس خیال کیساتھ کہ موبائیل نمبر سے اطلاع آئی ہے تو کہیں کسی نے شرارت ہی نہ کی ہو تو میں نے سی ایم ایچ راولپنڈی کال کر کے کنفرم کرنا چاہا تو پہلے تو انہوں نے ایسی کسی بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور پھر پندرہ منٹ بعد اسی نمبر سے تصدیقی کال آگئی کہ آپکا بیٹا شہید ہو گیا ہے۔ گھر والے گاؤں میں میرا انتظار کر رہے تھے اور فون پہ فون کر رہے تھے کہ کب گھر آنا ہے کھانا تیار ہے، شام چھ بجے پشاور پہنچا تو وہاں پتا چلا کہ معاملہ کیا ہے،میجر صاحب جوسکول جانیوالی اس چار رکنی ٹیم کے سربراہ تھے نے 5منٹ تک مجھے گلے لگائے رکھا اور کہنے لگے’’میرے پاس اور بھی کئی لڑکے تھے لیکن میں نے شہید ندیم الرحمن انجم کا انتخاب کیا کہ وہاں سکول کے طلباء کی جانب سے کیے جانیوالے سوالات کے جوابات اچھے طریقے سے دیگا،مجھے کیا پتا تھا کہ اللہ پاک نے شہادت کیلئے بھی اسکا انتخاب کر رکھا ہے‘‘۔
س:آخری بار شہید سے کب رابطہ ہوا؟
ج: شہید ندیم الرحمن انجم سے گاہے گاہے فون پر بات ہوتی رہتی تھی،گھر والوں سے آخری بار اسکی بات 14دسمبر کو ہوئی تھی جبکہ میرے ساتھ اسکی آخری باربات 15دسمبر کو ہوئی،دوران گفتگو روٹین کے معاملات ہی ڈسکس ہوئے۔
س:شہید کے نابینا تایا تائی کو آپ نے بیٹے کی شہادت کی اطلاع کب دی؟
ج:شہید کے نابینا تایا  اس سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے،وہ آرمی جوائین کرنے سے پہلے  چھ سال تک انکی خدمت کرتا رہا،15دسمبر کی رات ایک بجے انہوں نے مجھے کال کی اور ندیم کے بارے میں پتا کیا تو میں بہت حیران ہو ااور انہیں بتایا کہ شام کو اس سے بات ہوئی ہے وہ ٹھیک ہے،پر اگلے دن جب میں اسکی ڈیڈ باڈی لینے پشاور جا رہا تھا تو میں نے گھر میں کسی کو کچھ نہیں بتا یا تھا لیکن اسکے باوجو ندیم کے نابینا تایا نے مجھے کال کی اور پوچھا کی خیریت تو ہے ندیم کا موبائیل بند جا رہا ہے۔
س:بیٹے کی شہادت سے پہلے اور بعد میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
ج:بیٹے کی شہادت نے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیاہے،جدائی کا صدمہ اپنی جگہ لیکن شہید بیٹا خود امر ہو کرہمیں بھی زمانے بھر میں ممتاز بنا گیا،دن بھر سینکڑوں نامعلوم لوگ فون کر کے بیٹے کی شہادت پر مبارکباد دیتے ہیں،ندیم الرحمن کی منگنی ہو چکی تھی اور ہم اسکی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے،میرا منجھلا بیٹا حسین الرحمن بھی پاک فوج میں ملازمت کر رہا ہے۔ندیم الرحمن ہر کسی کے کام آتا تھااور سب فیملی ممبرز کیساتھ اسکا رویہ بہت دوستانہ تھا۔تعلیم کیساتھ ساتھ بصارت سے محروم تایا تائی کی خدمت بھی بجا لاتا رہا، ندیم الرحمان انجم جب سکول کاہوم ورک نامکمل چھوڑ دیتا تو انکے تایا نابینا ہونے کے باوجود نوٹ بک پر انگلی رکھ کر بتا دیتے کہ ہوم ورک مکمل ہوا یا نہیں۔ لوگ مسلسل تعزیت کیلئے آ رہے تھے اس لیے ہم  نے اتنی گفتگو کو ہی غنیمت جانا اور شہید کے گھر سے آگئے،راستے میں علاقہ کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی گاڑیاں شہید کے گھر کی جانب جاتے دیکھیں تو میرے ذہن میں شہید کے والد کا وہ فقرہ گھوم گیا کہ’’بیٹے کی شہادت نے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیاہے‘‘