رحمت جہاناں بہترین نمونہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

پروفیسر ڈاکٹر محمد مزمل احسن شیخ
اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے ساتھ اس کے لئے ہدایت کا اہتمام بھی فرمایا دیا۔ ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام پہلے انسان تھے جنہیں اللہ نے نبی بنایا تاکہ وہ دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے رہنمائی کا فریضہ ادا کریں ۔ انبیاءکرام کی سلسلہ وار آمدکے بعد بالآخر وہ عظیم ہستی تشریف لائی جنہیں دین اسلام کے پیغام کے ساتھ نبوت کے سلسلے کو مکمل کر دینے کا شرف بخشا گیا۔امام الانبیاء، ختم المرسلین ، رحمت اللعالمین سیدنا محمد بہار کے مہینے 12ربیع الاول کی صبح صادق بروز سوموار اس دنیا میں تشریف لائے ۔
خالق جہاں نے قرآن ِ فرقان میں آپ کی مقدس ذات کے لئے فرمایا : ”ہم نے آپ کو جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“رحمت کے معنی پیار، ترس، ہم دردی، غم گساری، خبرگیری، مہربانی، شفقت ہیں اور اللہ رب العالمین کے سب سے پیارے نبی محمد کی شفقت ہمدردی اور مہربانی سے کوئی بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
دین میں نرمی
اسلام سلامتی کا دین ہے۔ کسی پر کسی قسم کا جبر نہیں۔ آپ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر لوگ خود ہی چلے آتے تھے۔ آپ نے معاشرے میں ہر فرد کے مقام کا تعین قرآن کی روشنی میں کیا ۔ اور فرمایا :بے شک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ رکھنے والا ہے۔ چاہے وہ کسی رنگ نسل قوم ذات سے تعلق رکھتا ہو۔ مالی اقتدار حسب نسب اور حسن یہاں کسی کو اونچا نہیں کر سکتے۔ سیدنا عمر فاروق ؓ حضرت بلال حبشی ؓ کی آمد پرفرمایا کرتے تھے۔ ”ہمارے سردار تشریف لے آئے“ رسول اللہ نے جناب بلالؓ کو اذان کے لئے خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑا کر کے سبق دیا تھا کہ کعبہ سے بھی اونچا مقام متقی بلال کا ہے جس کے پاﺅں کے نیچے کعبہ کی چھت ہے۔
عورتوں کے لئے رحمت
عرب کے معاشرے میں عورت جسے منحوس سمجھا جاتا تھا ۔ پیدا ہونے پر لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ یہود نے عورت کو تسکین کا ذریعہ سمجھا تو نصاریٰ نے اسے شیطان مجسم قرار دیا۔ جب کہ رحمت اللعالمین نے مردوں کے لئے عورتوں کو جز قرار دیا تلقین فرمائی کہ ماں کے پاﺅں کے نیچے جنت، بہن بیٹی کو بیاہنے سے جنت اور بیوی تو ہے ہی جنت کا ذریعہ، لہذا ان سے ادب، احترام، پیار، ہمدردی اور شفقت سے پیش آﺅ۔ فرمایا ”عورتوں کے معاملے میں اللہ سے بہت ڈرو“ طلاق کو نہایت ہی ناپسندیدہ حلال قرار دیا۔ جس سے عرش کانپ اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ کے رسول نے ہم سب کیلئے ہدایت فرمائی اور سخت مظلوم ہونے کی صورت میں عورت کو خلع کا حق دیا ۔
بدکاری کی شدید ممانعت
 رسول پاک نے ہمیںفحش اور بے حیائی کے کاموں سے منع فرمایا اور شرک ، اللہ کے احکام کی نافرمانی ، شراب، جوا، بد کاری ، سود کا مال اور یتیم کا حق کھانے کوقطعاً حرام ٹھہرایا۔ یہ معاشرے میں فتنہ و فساد اور بربادی کی جڑ ہیں ان سے گھر اور خاندان تباہی سے ہم کنار ہوتے ہیں۔
رسم و رواج کی زنجیروں سے رہائی
اللہ نے قرآن میں اپنے آخری نبی کی مبارک صفت یہ بھی ارشاد فرمائی کہ ”آپ نے لوگوں پر سے وہ بوجھ اور طوق جو رسم و رواج کی زنجیروں کی شکل میں ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے۔ اتار دئیے۔ “ آج ہم نے پھر وہ اپنے گلوں میں ڈال لئے۔ یقیناً خاندانی، قبائلی اور نسل درنسل آباد و اجداد کے رسوم و رواج کی اندھی تقلید نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ جبکہ ان سب خرافات سے نجات پا کر آج بھی ہم رحمتہ اللعالمینکی پیروی میں اللہ کی رضا کے طالب بن سکتے ہیں ۔
 انسانی مساوات
نماز پنجگانہ، رمضان کے روزوں کے علاوہ زکوٰة اور حج کے ذریعے جہاں اللہ کے حقوق ادا ہوتے ہیں وہاں،سیرت النبی پر عمل کر کے ہم امیر، غریب ،شاہ و گدا، بڑے چھوٹے، کالے گورے، عربی و عجمی کے درمیان مساوات کا عملی نمونہ بن سکتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جس نے غلاموںکو تخت نشین کیا۔
جنگ کے اصول
میدان جنگ ہو یا پھر آپ کا صحابہ کرام ؓ سے حسن سلوک رسول اکرم بوڑھوں معذوروں، عورتوں ، بچوں کے ساتھ مہربانی کے ساتھ پیش آتے اور ہتھیار نہ اٹھانے والوں پر ہتھیار نہ اٹھانے کی ہدایت کرتے ۔ آپ نے دوران جنگ پھلدرا درختوں، فصلوں اور دشمن کے گھروں دکانوں کو بھی جلانے سے منع فرمایااورجنگی قیدیوںکو کھانے اور لباس کی سہولتیںدینے کاحکم دیا۔
غلاموں کے لئے رحمت
 زمانہ جاہلیت میں عرب معاشرے میں غلام بھیڑ، بکریوں کی طرح بیچے خریدے جاتے تھے یہ رواج نہیںبلکہ کاروبار تھا۔ رحمت اللعالمین کے ظہور کے بعد غلاموں کو پورے پورے حقوق عطا کئے گئے۔ آپ نے حکم دیا کہ ان سے زیادہ کام نہ لو، اپنی طرح کھلاﺅ، پلاﺅ، ہر گز ظلم نہ کرو۔ یہ آپ کی شان رحیمی تھی کہ آپ نے زکوٰة کا آٹھواں مصرف غلاموں کی آزادی کے لئے وقف کرنے کا حکم فرمایا۔ آپ رحمتہ للعالمین کے صدقے جائیے کہ آپ نے جہان کے ٹھکرائے ہوئے اور انسانوں کے دھتکارے ہوئے بندوں کو اللہ کی رحمت، بخشش اور فضل کا یقین دلایا، کہ وہ بندوں پر انتہائی کریم، اور رحیم ہے۔ تزکیہ نفس اور توبہ کا سبق دے کر بندوں کو دنیا سے کٹ کر اللہ سے جڑنا سکھایا۔ گہنگار جب آنکھ سے ندامت کا آنسو گراتا ہے تو اللہ کی رحمت اور مغفرت جوش میں آجاتی ہے۔ آئیے ہم بھی سب مل کر اللہ کی رحمت کا یقین رکھتے ہوئے اجتماعی توبہ کریں۔ ندامت کے آنسو بہائیں تا کہ امن و امان قائم ہو، ان لمحات کے صدقے میں ہمارے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ استوار ہو جائے ۔