رحمتِ دوعالم

مولانا محمد امجد خان
آنحضرت اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ کو اللہ نے بے پناہ خوبیوں اور اوصاف سے نوازا۔ آپ کی ذات کو قرآن مجید نے رحمت للعالمین فرمایا۔ آپ نہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں۔آپ کا نام (محمد) اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (محمود) سے مشتق ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کو خود بلند فرمایا۔ ور فعنالک ذِکرک۔ اذان، نماز، درود شریف، قبر کے سوالات و جوابات ہر جگہ اپنے ساتھ ذکر فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نام مبارک کی طرح (اللہ) آپ کے نام (محمد) کے نام مبارک کو بھی نقاط سے پاک رکھا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی پہلی وحی میں اپنے ربّ ہونے کی نسبت آپ کی طرف فرمائی جو غایت درجہ کی محبت ہے۔
اقراءباسم ربک الذی خلق۔آپ کا اسم مبارک احمد ہے۔ آپ سے پہلے جب سے دنیا پیدا ہوئی کسی کا یہ نام نہ تھا تاکہ اس بات میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے کہ کتب سابقہ سماوی میں جو احمدکا ذکر ہے وہ آپ کا ہی ہے۔آپ کو پروردگار کریم بہشت کے طعام و شراب سے کھلاتے پلاتے تھے۔آپ اپنے پیچھے سے ایسا دیکھتے تھے جیسا کہ سامنے سے دیکھتے تھے۔آپ رات کو اندھیرے میں ایسا دیکھتے جیسے کہ دن کے وقت روشنی میں دیکھتے۔آپ کا لعاب زہر کے لئے تریاق اور امراض کے لیے شفا ہوتا۔آپ کسی پتھر پر چلتے تو پائے مبارک کا نشان پڑ جاتااور جسم مبارک سے ہر وقت خوشبو مہکتی تھی۔
آپ کی تلاوت پاک کی تاثیر کی وجہ سے کفار بھی رات کو چھپ کر آپ کا قرآن سُننے آتے۔آپ کی قوت سامعہ سب سے بڑھ کر تھی۔ یہاں تک کہ اکثر اژدھام ملائک کے سبب آسمان میں جو آواز پیدا ہوتی اس کو بھی سُن لیتے اور حضرت جبرائیلؑ ابھی سدرة المنتہیٰ میں ہوتے تو ان کے بازوﺅں کی آواز سُن لیتے تھے۔آپ کی قوت شامہ اتنی تیز تھی کہ جبرائیلؑ ابھی سدرة المنتہیٰ پر ہوتے تو ان کی خوشبو مبارک کو سونگھ لیتے تھے۔ خواب (نیند) میں آپ کی چشم مبارک سو جاتی مگر دل بیدار رہتا۔ بعض کہتے ہیں کہ دیگر انبیائؑ کا بھی یہی حال تھا۔آپ کا پسینہ مبارک کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا مگر جب دوسروں کے ساتھ چلتے یا بیٹھتے تو سب سے بلند نظر آتے تاکہ باطن کی طرح ظاہری صورت میں بھی کوئی آپ سے بڑا نہ ہو۔ آپ کے بدن مبارک پر مکھی نہ بیٹھتی تھی اور کپڑوں میں جوئیں نہ پڑتیں۔آپ کا سایہ مبارک زمین پر نہ پڑتا تاکہ کسی کے قدموں سے بے ادبی نہ ہو۔آپ کے حسن وجمال کو کوئی آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔آپ جب چلتے تو فرشتے (بغرض حفاظت) پیچھے چلتے۔ آپ جس درخت کو ہاتھ لگاتے وہ جلد پھل دینے لگتا۔آپ نے جس خوش نصیب کے سر پر اپنا دست مبارک رکھا اس کے بال کبھی سفید نہ ہوئے۔آپ کے ہاتھ مبارک سے حدیبیہ کے مقام پر پانی کے فوارے پھوٹ پڑے تھے جب صحابہ کو پانی کی ضرورت تھی تو چودہ سو اصحابؓ نے وہ پانی استعمال فرمایا۔آپ رات کے وقت دولت خانہ میں تبسم فرماتے تو گھر روشن ہو جاتا۔ آپ جس چوپائے پر سوار ہوتے وہ بول و براز نہ کرتا جب تک آپ سوار رہتے۔ آپ کے ساتھ رہنے والا موکل (جن) اسلام لے آیا۔آپ کی بعثت پر کاہنوں کی خبریں منقطع ہو گئیں اور شہاب ثاقب کے ساتھ آسمانوں کی حفاظت کر دی گئی۔ شیاطین کو تمام آسمانوں سے روک دیا گیا۔ آپ شب معراج میں جسد مبارک کے ساتھ حالت بیداری میں آسمانوں سے اوپر تشریف لے گئے اور دیار خداوندی سے مشرف ہوئے۔آپ کے لیے شب معراج میں آسمان سے براق لایا گیا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے وہ کتاب عطا فرمائی جو تحریف سے محفوظ اور بلحاظ لفظ و معنی معجزہ ہے حالانکہ آپ اُمّی تھے۔ لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو امع کلم عطا فرمائے یعنی آپ کے کلام شریف میں فصاحت و بلاغت،ِ معانی، اور محاسن عبارت سب پائے جاتے ہیں۔ آپ تمام جہان (جِن و انس) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ خاتم النبیےن ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا اور آپ کی یہ خصوصیت سارے خصائص سے افضل ہے۔ آپ کی شریعت سابقہ شرائع کی ناسخ ہے اور قیامت تک رہے گی۔آپ کے لیے اور آپ کی اُمت کے لیے تمام روئے زمین سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی۔چاند کا ٹکڑے ہونا، شجر و حجر کا سلام کرنا اور رسالت کی شہادت دینا۔ درخت کے تنے کا رونا۔ یہ سب معجزات آپ کو عطا ہوئے۔ آپ نے حضرت جبرائیلؑ کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا۔
آپ کے لیے اور پوری امت کے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا جبکہ پہلے ایسا نہ تھا۔آپ سے وحی کی تمام قسموں کے ساتھ کلام کیا گیا۔ آپ کے اگلے پچھلے گناہ (بالفرض و تقدیر) معاف کیے گئے یعنی اگر آپ سے کسی گناہ (ترک اولیٰ جسے بلحاظ آپ کے منصب جلیل کے گناہ سے تعبیر کیا جائے) کا صدور تصور کیا جائے تو اس کی معافی کی بشارت اللہ تعالیٰ نے دے دی ہے حالانکہ ایسی مغفرت کی بشارت کسی بھی دوسرے پیغمبر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس حیات دنیوی میں نہیں دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپمخلوق میں سب سے زیادہ افضل اور محبوب ہیں بلکہ دونوں جہانوں میں ساری نعمتیں اور خیریں اُن ہی کی صدقے میں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ کرامؑ کو دنیا ہی میں اپنی رضا سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے روضہ مبارک پر روزانہ صبح و شام ستر ہزار فرشتے اتارتے ہیں جو درود و سلام پڑھتے رہتے ہیں۔ آپ پر درود و سلام بھیجنا اُمت پر واجب کیا گیا جبکہ پہلی اُمتوں پر واجب نہ تھا کہ وہ اپنے پیغمبروں پر درود بھیجیں۔اللہ تعالیٰ نے آپپر درود کو اپنا مستقل عمل قرار دیا۔آپ اولاد آدم کے سردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دُنیا ہی میں آپکو اُمت کے بارے میں تسلی دی اور بخشش کے وعدے فرمائے۔آپ ہی روز محشر سب سے پہلے قبر سے باہر تشریف لائیں گے۔ آپ کو ہی میدان حشر میں براق پر لایا جائے گا اور ستر ہزار فرشتے آپکے اردگرد ہوں گے۔روز محشر سب سے پہلے آپکی اُمت کا حساب ہو گا ۔