حضرت میاں میر کا طریق زندگی

حمیرا محمود
حضرت میاں میر کو ساری زندگی لوگوں سے ملنا جلنا نا پسند رہا ہے۔ اس کی اےک ہی وجہ تھی کہ آپ تنہائی پسند تھے۔ آپ تمام رات جاگتے اور حق تعالی کے ذکر میں مشغول رہتے۔ مخصوص مریدوں میں سے دو اےک ہی خدمت پر مامور ہوتے تھے۔ کسی کو جلدمرید بھی قبول نہیں فرماتے تھے۔ آپ قبلہ رخ ہو کر بیٹھتے، آپ کے طریقہ پر بعض مرید بھی پوری طرح عمل کرتے تھے۔ یہ دو اشعار اکثر آپکی زبان حق شناس ادا کرتی، اور کیا خوب فرماتے تھے۔
کسے کہ غافل از حق یک زبان است
دراں دم کا فراست انا نہاں است
کزیں غفلت بجاں پیوستہ بودے
درِاسلام بروے بستہ بودے
حضرت میاں میر ؒ کئی برس بالکل نہیں سوئے آپ رات دن اللہ کے ذکر میں گزارتے تھے۔ شیخ قطب فرماتے ہیں کہ میاں میر سوتے ہی نہ تھے اور نہ ان کو نیند آتی تھی۔
 میاں محمد مراد مفتی فرماتے تھے کہ حضرت میاں میر کئی سال تک تمام رات اےک سانس میں گزاردیتے تھے۔ اور جب ان کی عمر اسی سال سے اوپر ہو گئی تو پھر پوری رات میںدو چارپل سانس لیتے تھے۔آپ کو توکل میں کمال حاصل تھا۔ یہاں تک کہ رات کو کوزے سے پانی گراد دیتے تھے۔ آپ کو کبھی کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا تھا۔ آپ کو تشویش قلبی کے بہت علاج آتے تھے جس کا لازمی تعلق دل سے ہے۔ جس کا دل ہی اپنا نہیں اس کو خطرہ کہاں سے آئے گا۔ آپ کے تمام مریدوں کی بھی یہی حالت تھی۔ ان کے دلوں پہ خیالات و خطرات نہیں آتے تھے۔
آپ کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا کہ جب کوئی شخص آپکے حضور حاضر ہوتا، آپؒ فرماتے کس لئے آنا ہوا ، اور کیا کام ہے۔ اگر حاضر ہونے والا کہتا کہ جناب کی ملازمت کو حاضر ہوا ہوں تو فرماتے کہ آو¿ بیٹھو چند گھڑیاں خاموشی میں گزار کر فرماتے دعا کرو۔ دعا فرما کر سائل کو فرما دیتے کہ آپ کو اجازت ہے جائیں۔ اور اگر سائل کہتا ہے کہ میں اللہ کی تلاش میں آیا ہوں تو آپ اسے بیٹھنے کا بھی نہ کہتے اور منہ پھیر لیتے بلکہ مکان سے باہر نکال دیتے اور کہتے”بابا حق کی طلب آسان قصہ نہیں ہے۔ یہ بات تو بہت مشکل ہے او رمولا کی طلب کیلئے بیگانہ ہو کر یگانہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اےک کیلئے ہو جاو¿ تو اےک خدا مل سکتا ہے۔ مکان اےک ہے اور دروازہ بھی اس کا اےک ہے۔ اور دل بھی اےک ہی ہے۔ اےک چیز کو ہی اےک چیز میں سما سکتے ہیں“۔
لیکن جب آپ دیکھ لیتے کہ کوئی سائل مستقل مزاجی سے خدمت میں حاضر ہو رہا ہے اور اس کی لگن سچی ہے اور یہ کہ آپکی تمام بے اعتنائی کے باوجود وہ عاشق صادق ہے تو پھر اسے مرید فرما کر ذکر و فکر میں مشغول کر دیتے۔ ایسے سچے طالب پہ بے حد کرم نوازی فرماتے۔
آپ دنیاداروں کی محبت سے بیزار رہتے تھے۔ عام ملاقات سے اجتناب فرماتے۔ جوانی میں تو آپ باغوں اور جنگلوں میں دن کے وقت عبادت کرتے مگر جب آپ ضعیف ہو گئے تو پھر دن میں بھی حجرہ مبارک سے باہر نہ آتے اور حجرہ مبارک کا دروازہ اندر سے کنڈی لگا کر بند رکھتے تھے۔
دربروئے غیر او بستہ بود
از بخت از جملہ رستہ بود
تمام جہاں سے علیحدہ ہو کر محبوب کے ساتھ بیٹھ جاو¿ اور ہر غیر پر دروازہ بند کر دو۔(سکینتہ الاولیا)
البتہ دستک دے کہ آپ کے حجرہ مبارک کا دروازہ کھلوایا جا سکتا تھا۔آپ کا قول تھا کہ صوفی وہ ہے جس کا وجود فنا ہو جائے۔ آپ تقریباً ساٹھ برس لاہور میں رہے۔ آپ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے۔ سنگ سرخ سے بنا آپ کا مزار دارا شکوہ نے نہایت عقیدت و احترام سے بنوایا تھا۔ مغل سلطنت کا یہ شہزادہ آپ کے در اقداس پہ اےک ادنی غلام کی طرح حاضر ہوتا تھا۔ لاہور میں 7 ربیع الاول کو آپ کا عرس نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔