آمد مصطفےٰ مرحبا مرحبا

پروفیسر عفت خالد
آمد مصطفےٰ کی کائناتی آفاقی اور تاریخی اہمیت کا بیان کرنے سے پہلے آئیں چند لمحے تاریخ انسانی کی ورق گردانی کریں بعد از مسیح یعنی حضرت عیسیٰؑ کے تیسرے ہزارویں سال 2014ءکا آغاز ہو چکا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے تاریخ انسانی کا زمانہ قبل مسیح کہلاتا ہے جس میں ایک لاکھ 23 ہزار 999 پیغمبر گزر چکے ہیں۔ جہاں تاریخ کے صفحے پلٹتے جائیں تو صدیاں گزرتی جائیں گی۔ابوالانبیاءحضرت ابراہیمؑ کے فرزند حضرت اسماعیلؑ جن کے آداب فرزندی، مکتب کی کرامت بھی تھے، ان کے فیضان سے اﷲکے گھر کی تعمیر ہوئی ہے۔
عالم روحانی کا یہ اقرار اور حضرت ابراہیمؑ تک پہنچ کر ذمہ داریوں کا احساس اس طرح دعا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
ترجمہ ”اے ہمارے رب بھیج ان میں سے ایک برگزیدہ رسول جو تیری آیات تلاوت کر کے سنائے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کا تذکیہ نفس کرے بے شک تو عزیز اور حکیم ہے“ (البقرہ 129)
 جس ذات خالق و مالک کائنات نے پورا سلسلہ نبوت ترتیب دیا پھر نبوت کے اس سلسلہ کو مکمل کرنے کیلئے فرمایا :
”اے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کہہ دیجیئے کہ بے شک میں تم سب کی طرف رسول (بھیجا) گیا ہوں اس کی طرف سے کہ جس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین میں ہے“ (الاعراف۔ 158)
گویا رب اللعالمین رحمة اللعالمین کو بھیج رہا ہے یا یوں کہیئے کہ خالق کائنات مقصود کائنات کو بھیج رہا ہے یعنی لاالہ الااﷲ کے ساتھ محمد رسول اﷲ کی تکمیل بھیجی جا رہی ہے۔ چشم تصور سے دیکھیں تو کائنات کی معزز ترین اور کامل ترین ہستی کو کس شان سے بھیجا جا رہا ہو گا۔ جس کیلئے فرمایا گیا۔
ترجمہ ”بے شک ہم نے آپ کو شاہد‘ مبشر نذیر‘ داعی الی اﷲ اور سراج منیر بنا کر بھیجا“ (الاحزب)
یہی وہی ہے جس کے لئے قرآن مجید نے کہا
”بے شک اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور (چل کر) آیا اور کتاب مبین (لمائدہ 15)
یہ وہی عظیم ہستی ہے جس کے لئے فتح مبین کا وعدہ کیا گیا (سورہ الفتح۔ 1)
جسے حوض کوثر کی عظیم نعمت عطا کی گئی۔ (کوثر۔ 1)
جس کے خلق کو عظیم اور جس کی سیرت کو اسوہ حسنہ کی سند عطا کی گئی (القلم۔ 4)
جس کی کملی کو مخاطب کرنے کے لئے یا ایھا المزمل کہا گیا۔ (مزمل -1)
جس کے نورانی حجاب کے لئے یاایھا المدثر کہا گیا۔ (مدثر۔ 1)
جس کے چہرہ مبارک کے آسمان کی طرف اٹھنے کا ذکر بھی قرآن نے کیا (البقرہ)
جس کی پشت مبارک کے لئے بھی آیت تاری گئی۔
جس کے سینے مبارک‘ دین مبارک‘ پہلوئے مبارک‘ مٹھی مبارک‘ دست مبارک کا تذکرہ قرآن مجید کرتا ہے۔جس کی دعا کو سکون کا درجہ دیا گیا اور ایک جگہ تو قرآن مجید نے انتہا کردی۔
”اے نبی صبر کیجیئے آپ ہماری آنکھوں کے قریب ہیں“ (الطور۔ 148)۔جس کی مٹھی کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی مٹھی قرار دیا جس کی اطاعت‘ اطاعت الہی‘ جس کی محبت محبت الہی‘ جس کا طریقہ اسوہ حسنہ‘ جس کا راستہ صراط مستقیم اور جس کی خیر خواہی کو حریض علیکم قرا ردیا گیا،یہ وہی ہے جسے انسانیت کو گمراہی سے ہدایت کے روشن راستے پر لانے کے لیے بھیجا گیا۔
سیرت ابن ہشام کے مطابق زمین پر اس آفتاب کے طلوع کے سال کا نام ہی السنة الفتح والا بتھاج رکھا گیا یعنی فتح ‘برکت اور خوشی کا سال اس سال طویل خشک سالی کے بعد زمین شاداب ہوگئی اور غلہ وافر ہوگیا اہل قریش جو مالی لحاظ سے سخت تنگ تھے خوشحال ہوگئے۔ اس سال کا دوسرا نام عام الفیل ہے یعنی ہاتھیوں پر غلبے کا سال یہ آسمانی آفتاب جب عالم آب وخاک کی حدوں تک پہنچا تو اس زمین کے سارے اصول وقوانین اس پر نافذ ہوگئے اوراس آفتاب کو اب بی بی آمنہؓ کے شکم مبارک سے پیدا ہونا تھا۔ کون ومکاں کی کنجیوں کا مالک یتیم بھی ہے غریب بھی اور مسکین بھی‘ سردار دو جہاں کو تین تین دن فاقوں سے رہنا ہے جس کے پاس آسمانی عبائے زریں موجود ہے اس کی پشت پر چٹائی کے نشان پڑے ہیں ۔ جس کے سر پر تاج ہے اور جس کی رفعت قامت آسمانوں تک ہے اس کا حجرہ مٹی‘ گارے اور چھت کھجور کی سوکھی شاخوں سے بننی ہے۔ جس کی ملکیت میں دو عالم ہیں اسے بوریا نشین ہونا ہے۔
آمد مصطفے کی برکتوں‘ برکتوںاور رفعتوں کا جس کو جتنا شعور ہے اسی حساب سے وہ عید کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ساری کائنات کی خوشی میں صرف دو ہی گروہ غمزدہ ہیں ایک شیطان اور دوسرے یہودی اس کے علاوہ باقی ساری کائنات آمد مصطفے پر خوشی کا اظہار کرتی ہے کیونکہ قرآن مجید نے خود اس کی طرف اشارہ کیا۔
” کہہ دیجیئے کہ جو اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ان پر ہوئی ہے
انہیں چاہیے کہ وہ خوشیاں منائیں اور یہ خوشی منانا
ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جویہ جمع کرتے ہیں “ (سورة یونس 58-)
بے شک اللہ تعالیٰ کا فضل (حدید 28-) اور رحمت (النبیاء107) یہ ہے کہ ہم اس کے محبوب کی امت میں ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان تو قرآن پاک بھی ہے ۔لیکن قرآن پاک جسے فضل اور احسان قرار دے کر اس کی خوشی بھی دوگنا ہونی چاہیے ۔
ربیع الاول یعنی پہلی بہار کائنات وجہ ءتخلیق کائنات کے نزول اور نبوی سلسلے کی آخری کڑی کے ظہور کا تاریخی دن 12 ربیع الاول آمد مصطفےٰ مرحبا مرحبا کے تاریخی و آفاقی اعلان کا تاریخی دن جسے انسانیت کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔