ٹکٹوں کیلئے امیدواروں کی نیندیں اڑ گئیں

ٹکٹوں کیلئے امیدواروں کی نیندیں اڑ گئیں

’’رات وہ درد میرے دل میں اٹھا۔۔۔صبح تک چین نہ آیا لوگو‘‘پروین شاکر کے اس شعر کے مصداق بلدیاتی امیدواروں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں مگر  سیاسی جماعتیں  ابھی تک فیصل آباد کی شہری اور دیہی 346 کونسلوں کیلئے  امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل نہیں دے سکیں۔ سیاسی ڈیرے تو آباد ہو چکے،  ساتھ ہی دھڑے بندی اور برادری ازم کا جادو بھی سر چڑھ کر بولنے لگا ہے ۔ فیصل آباد شہر کی 157سٹی کونسلز اور 189دیہی کونسلز کے لئے  16474 امیدوار  میدان میں ہیں مگر سیاسی جماعتیں ابھی ٹکٹ جاری نہیں کر سکیں۔ جس کے باعث   مسلسل  بے یقینی کی صورت حال  جاری ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے امیدوار اپنی پارٹی کے عہدیداران اور سینئر صحافیوں سے دریافت کرتے پھر رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد 30جنوری کو ممکن ہو بھی پائے گا یا نہیں ۔ایسی خبریں بھی گردش میں ہیں کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات فروری کے آخر میں کروائے جا سکتے ہیں اور حکومت پنجاب عدالت سے شیڈول برقرار رکھتے ہوئے تین ہفتوں کا التوا دینے کی درخواست کر سکتی ہے۔  بلدیاتی سرگرمیاں بے یقینی کی کیفیت کے باوجود جاری ہیں مگر ایک ایک کونسل سے مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے تین تین پینلز موجود ہیں۔ سب سے کم تعداد مسلم لیگ(ق) کے امیدواروں کی ہے۔ پیپلزپارٹی کے پینل بھی نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن مسلم لیگ(ق) کے امیدوار اپنی جماعت کی طرف سے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ کسی سے بھی الحاق کرنے کے قلعی اختیار ملنے کے بعد کم از کم دیہی کونسلز میں کسی حد تک شخصی بنیادوں پر مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کو اپ سیٹ کر سکتے ہیں۔ تادم تحریر مسلم لیگ(ن) فیصل آباد کے سٹی میئر کے لئے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ خاں کے حمایت یافتہ امیدوار رکن صوبائی اسمبلی ملک محمد نواز کے بھائی محمد رزاق ملک اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماچوہدری شیرعلی کے صاحبزادے عامر شیرعلی جو کہ سابق میئر بھی ہیں ان دونوں   دھڑوں میں اختلافات دور نہیں ہو سکے۔ چیئرمین ضلع کونسل کے لئے بھی سابق ضلعی ناظم زاہد نذیر چوہدری اور رکن قومی اسمبلی میاںمحمد فاروق کے صاحبزادے اور مسلم لیگ(ن) کے ضلعی جنرل سیکرٹری میاں قاسم فاروق  میں سے کسی ایک کی نامزدگی نہیں کی جا سکی۔ ڈپٹی میئرز کے لئے صورت حال غیریقینی ہے۔ اس صورت حال کا اطلاق تمام سیاسی جماعتوں کے مزاج کے ساتھ منسلک ہے۔ ضلع کونسل کے چیئرمین کے لئے تحریک انصاف بھی کسی امیدوار کا نام منظرعام پر نہیں لا سکی ،حالانکہ تحریک انصاف سٹی میئر کے لئے سابق رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر اسدمعظم کا نام فائنل کر چکی ہے۔ اس صورت حال میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے امیدوار سخت پریشان اور بے چین ہیں ان کی سمجھ میں نہیں آ رہاکہ ان کے ساتھ کیا بنے گا۔ سب سے زیادہ پینل مسلم لیگ(ن) کی طرف سے سامنے آئے ہیں لیکن مسلم لیگ(ن) کے پینلز کو واضح نہیں ہو پا رہا کہ کس کے حمایت یافتہ امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ ملیں گے، رانا ثناء اللہ خاں  کے یا پھر چوہدری شیرعلی کے؟
 اس بے یقینی کی صورت حال   کے باوجود سیاسی ڈیرے آباد ہوچکے ہیں۔سٹی اور ضلع  کونسل کی 503یونین کونسلوں میں بالترتیب2457      نشستوں پر   7955امیدوار اور ضلع کونسل کی 2041 نشستوں کے لئے 7640  اور  ساتوں میونسپل کمیٹیوں کے لئے 879امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا چکے ہیں۔ جس سے حکومت کو تین کروڑ 83لاکھ 90ہزار روپے وصول ہوئے ہیں لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حکومت پنجاب کا  طرزعمل  ابہام کا شکار ہے۔  الیکشن کمیشن  سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات بھی الاٹ کر  چکا ہے۔ پیپلزپارٹی کو حسب روایت تیر، مسلم لیگ(ن) کو شیر، تحریک انصاف کو بلا کے نشان الاٹ ہو چکے ہیں لیکن کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری نہیں کیا جا رہا۔ جس کی آئندہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے مرحلے پر لازمی  ضرورت ہو گی۔ یقینا جماعتوں کو اس کیلئے اپنے ٹکٹ جاری کرنے ہوں گے۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ   ان کی جماعت تحفظات کے باوجود تیر کے نشان پر بلدیاتی انتخاب میں گیارہ مئی کے عام انتخابات کا بدلہ لے گی۔ پنجاب میں 1970ء کے انتخابات جیسی کامیابی حاصل کرے گی ۔  صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں حکومت آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی تاہم بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع الیکشن کمیشن اور عدلیہ کی صوابدید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں معذوری ظاہر کی ہے کہ تین کروڑ بیلٹ پیپر کی اشاعت اور کونسلز کی سطح پر پہنچانا مشکل ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما و سابق میئر چوہدری شیرعلی نے پیپلزپارٹی کے اس دعوے کہ بلدیاتی انتخابات میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کریں گے کو محض خواب سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) بلدیاتی انتخابات میں کلین سویپ کرے گی۔ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو پیپلزپارٹی اپنے زمانہ اقتدار میں   اس سے ہمیشہ راہ فرار اختیار کرتی رہی ہے البتہ چور راستے سے بلدیاتی اداروں پر قبضہ ضرور کرتی رہی جیسا کہ راجہ ریاض احمد خاں کو   محترمہ بینظیر بھٹو کے عہداقتدار میں فیصل آباد میونسپل کارپوریشن کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تھا ۔ اب  جبکہ زمانہ بدل چکا ہے ، انتخابات اگر بروقت ہو جاتے ہیں تو   پیپلزپارٹی  کے ان  بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے دس فیصد سے زائد امکانات نہیں۔ جہاں تک محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی پر بلاول زرداری اور آصف علی زرداری کے خطاب کو پیپلزپارٹی کا نیا جنم قرار دیا جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جو پوزیشن گیارہ مئی کے وقت تھی وہی پوزیشن آج بھی پنجاب میں ہے۔ 
 رہا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ تو یہ کڑوی گولی حکمرانوں کو نہ نگلنے کی خواہش کے باوجود نگلنی ہو گی کیونکہ یہ سانپ کے منہ میں چھپکلی والا معاملہ ہے۔ اطلاعات تو موجود ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنے آئندہ اجلاس میں فیصلہ کرے گا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے وہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کرے یا ازخود فیصلہ کرے اور غیرمعینہ مدت کے لئے بلدیاتی انتخابات کو موخر کر دے۔ سندھ ہائیکورٹ نے تو نئی حد بندیوں اور نئے بلدیاتی ایکٹ کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے اٹھارہ جنوری کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 30جنوری کو ہوں گے عوام تیار ہے لیکن الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ فروری کے دوسرے ہفتے تک تیس کروڑ بیلٹ پیپر کی طباعت ممکن نہیں۔ یہ سرکاری پرنٹنگ پریس نے بیلٹ پیپر کی طباعت سے انکار کر دیا ہے۔ گیارہ مئی کے قومی انتخابات کے نتائج کی روشنی میں نئی حکومت کے قیام کے وقت ہی قوم بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا انتظار کر رہی تھی۔ شیڈول بھی آ گیا۔ کاغذات نامزدگی کے مراحل بھی گزر گئے۔ اس تمام عرصہ میں الیکشن کمیشن خواب خرگوش کے مزے لیتا رہا۔ یہ الیکشن کمیشن کی نااہلی ہے اور اس گورکھ دھندا نے بلدیاتی انتخابات میں شفافیت کے حصول کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ انتخابات سے قبل انتخابی دھاندلی کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔ یہ الگ بحث طلب بات ہے کہ جس بلدیاتی ایکٹ کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں جس طرح ایوب خان کے آئین میں اختیارات کا سرچشمہ ایوب خان کی ذات تھی اور مرحوم جسٹس رستم کیانی نے ایوب خان کے آئین کو فیصل آباد(اس وقت لائلپور) کا گھنٹہ گھر قرار دیا تھا ویسا ہی حال پنجاب کے بلدیاتی ایکٹ کا ہے کہ تمام اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس ہیں ،گویا آج وہ ہی گھنٹہ گھر ہیں۔ اس کے باوجود عوام کا دیوانہ وار بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینا جمہوری مزاج کی عکاسی ہے۔ اگر ایسے ماحول اور حالات کے باوجود بلدیاتی انتخابات کو التوا کیا گیا تو نقصان مسلم لیگ(ن) کا ہو گا لہٰذا حکومت اپنی تمام تر توجہ بلدیاتی انتخابات کی شفافیت پر مرکوز کرے جن تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے انہیں دور کیا جائے۔