دستور کی عملداری اور نئے سال کے نئے تقاضے!

دستور کی عملداری اور نئے سال کے نئے تقاضے!

 نئے سال 2014ء کا آغاز ہو گیا ہے جب کہ 2013ء تلخ و شیریں یادیں اپنے پیچھے چھوڑ   کررخصت ہو گیا ہے اگر 2013 ء تبدیلیوں کا سال تھا تو 2014ء موجودہ حکومت کے لئے نئے تقاضے اور امتحان لئے آیا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور میں جو وعدے کئے ہیں ان میں سے شاید ہی کوئی وعدہ پورا ہوا ہو البتہ یہ بات کہی جا سکتی ہے حکومت نے اپنے اہداف کی جانب قدم اٹھائے ہیں جس کے نتائج کچھ عرصہ بعد ہی منظر عام پر آئیں گے ۔ حکومت نے اپنی تمام تر توجہ توانائی کا بحران ختم کرنے پر مر کوز کر رکھی ہے موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے 500ارب روپے کا جاری قرض ادا کرکے نیشنل گرڈ میں 1700میگا واٹ کی بجلی کا اضافہ تو کر دیا ہے جس سے عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کسی حد تک ریلیف ملا ہے نئے پاور پلانٹس آئندہ اڑھائی سال میں بجلی کی پیدوار شروع کر سکیں گے موجودہ حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج قدرتی گیس کی قلت بھی ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس ضروریات سے ایک تہائی کم گیس ہے جس کی وجہ سے ملک میں گیس کا بحران شدت اختیا کر گیا ہے۔ نئے سال میں مہنگائی موجودہ حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے حکومت مہنگائی کے’’ جن ‘‘کوبوتل میں بند کرنے میں ناکام ہو گئی ہے حکومت نے بجلی پر دی جانے والی سبسڈی تقریباً ختم کر دی ہے جس سے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دینے والے لوگ ’’نالاں‘‘ نظر آتے ہیں مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت نے 2013 ء کے انتخابات میں’’ کشکول‘‘ توڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن سابق حکومت جاتے جاتے قومی خزانہ خالی کر گئی جس کے بعد اسے آئی ایم ایف کی قسط ادا کرنے کے لئے ’’بڑا کشکول ‘‘ اٹھانا پڑا۔ 2013ء میں سیاسی ،عسکری اور عدالتی منظریکسر تبدیل ہو گیا ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کوئی دبائو خاطر میں لائے بغیر آئین میں حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے نئی عسکری قیادت کا انتخاب کیا ہے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی11دسمبر 2013ء کو ریٹائر منٹ کے بعد عدلیہ میں ایک سنہری باب مکمل ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف جو لاپتہ افرادکی بازیابی کے مقدمہ میں خاصے دبائو میں تھے2014ء میں خود کو کسی دبائو کی بجائے پر اعتماد محسوس کرتے ہیں ۔ اب ان کو کوئی فیصلہ کرتے وقت مکمل اعتماد حاصل ہو گا۔ مسلم لیگی حکومت 2014ء کو اپنے اہداف پورے کرنے کے سا ل کے طور منائے گی 2014ء کے آغاز میں حکومت کیلئے جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ ایک دستوری معاملہ ہے جس میں وہ دو بار آئین شکنی کا مرتکب ہوئے ۔ اب وہ آئین کے آرٹیکل 6-کے تحت مقدمہ چلانے پر پاک فوج کو حکومت کے خلاف اکسا رہے ہیں اور برملا کہہ ر ہے ہیں کہ ان کے خلاف غداری کے مقدمہ پر فوج پریشان ہے اور فوج پوری طرح ان کے ساتھ ہے۔ اگلے ہی روز انہوں نے ریٹائرڈ فوجی افسران سے خطاب کرکے ایک بار پھر اس بات پر اصرار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت ہی سن سکتی ہے اگرچہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مقدمہ سے بچنے کے لئے کسی سے مدد نہیں مانگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ،چین ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات انہیں پاکستان سے باہر لے جانے کے لئے سرگرم عمل ہوگئے ہیں۔ سر دست ’’کمانڈو صدر ‘‘ اس بات پراصرار کر رہے ہیں کہ وہ بیرون ملک نہیں جائیں گے بلکہ عدالت میں مقدمہ کا سامنا کریں گے لیکن درپردہ دوبئی جانے کے کوشش کر رہے ہیں متحدہ عرب امارات کے صدر خلیفہ النہیان کی رحیم یار خان پیلس میں آمد غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے ،جنہوں نے یہاں وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات بھی کی ہے ۔عام تاثر یہی ہے کہ وہ جنرل مشرف کی بیرون ملک روانگی کو یقینی بنانے کے لئے آئے ہیں ۔ سیاسی و سفارتی حلقوں میں کہا جا رہا ہے جنرل(ر) مشرف کو اپنی والدہ کی عیادت کیلئے کسی وقت بھی عدالت سے بیرون ملک جانے کی اجازت مل سکتی ہے ۔ اس دوران سیاسی حلقوں میں پرویز مشرف کے فارم ہائوس کے قریب سے بارودی مواد اور بھرے پستول ملنے پرحیرت کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ حساس سول و فوجی ادار ے جنرل (ر) مشرف کے چک شہزاد میں واقع فارم ہائوس اور نیشنل لائبریری جہاں خصوصی عدالت قائم کی گئی ہے اس راستے کو خطرناک قرار دے چکے ہیں ۔ اسی لئے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے لئے اسلام آباد پولیس کے 258 افسران و اہلکار جبکہ رینجرز کے 59 مسلح افسران و جوان اس وقت ان کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔ جبکہ سابق صدر نے ذاتی طور پر ریٹائرڈ دو فوجی افسران الیاس اور شیر کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے سید خورشید شاہ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے بیان کا سخت نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں پاک فوج کی جانب سے وضاحت آنی چاہئے ۔ خاموشی نیم رضا مندی ہوتی ہے ۔بہر حال رواں ماہ کے دوران جنرل(ر) مشرف کے ’’سیاسی مستقبل‘‘ کے بارے میں فیصلہ ہو جائے گا۔ 2014ء میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دے کر ڈرامہ رچانے کے لئے پر تول رہی ہیں جب کہ دوسری طرف حکومت نے ایجی ٹیشن کو سختی کے ساتھ روکنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے حکومت کسی بھی صورت میں ان دو جماعتوں کے کارکنوں کو اکھٹا ہونے کی اجازت نہیں دے گی سید خورشید شاہ نے بھی کہا ہے کہ موجودہ حکومت طاہر القادری کو گھر سے نکلنے ہی نہیں دے گی موجودہ حکومت انہیں لاٹھی کی زبان میں سمجھائے گی ۔ پیر کو وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی اور امن و امان کی صورت حال پر منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات کے لئے ایک بار پھر رابطہ قائم کرنے فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں منگل کو وزیراعظم میاں نواز شریف سے جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کی ملاقات کروائی گئی جس میں انہیں طالبان سے مذاکرات کیلئے رابطہ کرنے کا’’ ٹاسک‘‘ دیا گیا ہے۔ ان کے کئی شاگرد کالعدم تحریک طالبان کے سرگرم رکن بھی ہیں جس کے باعث حکومت کی جانب سے مولانا سمیع الحق سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے تعاون کی درخواست کی گئی ہے جسے مولانا سمیع الحق نے ’’مشروط ‘‘ طورپر قبول کرلیا ہے اور حکومت سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے دوران اپنے عزم پر قائم رہنے کی ضمانت طلب کر لی ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے مولانا سمیع الحق کو مذاکرات کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے وزیر اعظم نے اپنے سٹاف کو ہدایت کی ہے کہ وہ مولانا سمیع الحق کی جانب سے مذاکرات کے عمل میں ہونے والی پیش رفت سے انہیں فوری طور پر آگاہ رکھیں گے۔ مولانا سمیع الحق نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ہونے والی ملاقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے مولانا سمیع الحق نے وزیر اعظم سے تقاضا کیا ہے کہ پرویز مشرف ،آصف علی زرداری اور نواز شریف کی پالیسیوں کچھ تو فرق ہونا چاہیے ۔انہوں نے وزیر اعظم سے اس بات کی ضمانت مانگی کہ وہ دبائو میں آکرمذاکرات ’’بیچ چوراہے‘‘ میں نہیں چھوڑیں گے۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے بھی متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ جب کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مذاکرات کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے دیگر شخصیات بھی کام کررہی ہیں اس سلسلے میں مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمنٰ کی مدد کا خیر مقدم کریں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن کی طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں مل جائے گا۔