بلدیاتی انتخابات‘ حکومت کشمکش کا شکار

بلدیاتی انتخابات‘ حکومت کشمکش کا شکار

کیا18 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ہوجائیں گے یہ مو ضوع نہ صرف سیاسی پارٹیوں اور شہریوں کا موضو ع بحث بنا ہواہے بلکہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ ، جماعت اسلامی ، فنکشنل لیگ نے سندھ ہائی کورٹ کراچی میں پٹیشن بھی دائر کر رکھی  تھی۔ جس میں حلقہ بندیو ں  کو چیلنج کیا  گیا تھا۔پیپلز پارٹی دراصل  نے اپنی من پسند  حلقہ بندیوں سے  اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرناچا ہتی تھی ، اس  کی خواہش تھی کہ کراچی اور حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کا میئر لا یا جائے ۔ سندھ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دے کر کہ 2001 میں جو حلقہ بندیا ں کی گئیں تھی اسی پر انتخابات کرائے جائیں اور سندھ اسمبلی نے بلدیاتی آرڈیننس میں جو ترامیم پاس کی تھیں اس کو بھی ختم کردیاہے ۔ اگر اس بات کو دیکھا جائے تو متحد ہ قومی موومنٹ اوردیگر سیاسی جماعتوں نے اس بات کی کا میابی حاصل کی ہے پرانے حلقہ بندیوں پر انتخابات کرائے جائیں جبکہ دوسر ی جانب پیپلز پارٹی نے یہ کامیابی حاصل کی ہے کہ انتخابات 18 جنوری کے بجائے مارچ میں کرائے جائیں جس کے لیے بار بار پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ان کے وزراء شرجیل میمن منظور وسان اور دیگر نے متعدد با ر یہ بیان دئیے ہیں کہ انتخابات 18 جنوری میں نہیں ہوسکتے انتخابات مارچ کرائیں گے ۔ الیکشن کمیشن سندھ ہائی کور ٹ اس فیصلے کے بعد کیا موقف اختیار کرتی ہے کیا وہ نیا الیکشن شیڈول جاری کرے گی ۔ اب تک جن امیدواروں نے نئی حلقہ بندی کے تحت انتخابی فارم حاصل کر کے داخل کئے تھے وہ غیر مو ثر ہو کر رہ گئے ہیں گو کہ وزیر اعلیٰ سند ھ نے کہا ہے کہ سندھ ہائی کور ٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے ۔ کیا صورتحال بنتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس بات کے امکا نا ت پائے جارہے ہیں کہ 18 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے 3 جنوری کو باغ مصطفی لطیف آباد میں جلسہ عام رکھا ہے لیکن متحد ہ قومی موومنٹ کو سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان کو مطلوبہ نتائج مل گئے ہیں جو بلدیاتی انتخابات 2001 پرانی حلقہ بندیوں کے تحت سپریم کورٹ اس پر کیا موقف اختیار کرتی ہے کیا وہ سند ھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھے گی یا بلدیاتی آرڈیننس کو تسلیم کرے گی ۔ اس بات کے بھی امکانات کے متحدہ کے قائد تحریک الطاف حسین 3 جنوری کو ہونے والے جلسے کو منسو خ بھی کرسکتے ہیں یا پارٹی کے کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے جلسہ سے خطاب بھی کر سکتے ہیں ۔متحد ہ قومی موومنٹ 18 جنوری یا مار چ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع سے کرر کھی ہے او رمتحدہ قومی موومنٹ با قاعدگی سے اپنے یونٹو ںاور سیکٹر ز میں کارکنوں کے اجلاس جاری رکھے ہوئے ہے اور بھر پور تیاری کررہی ہے ۔ جماعت اسلامی بھی ۔ مظاہر وں کے ذریعے اپنے کارکنوں کو متحرک کررہی ہے پیپلز پارٹی بھی اندرون خانہ وہ باقاعدگی کے ساتھ اپنے کارکنوں کو متحرک کررہی ہے ان کے اجلاس ہورہے ہیں اور کارکنوں کو پارٹی کی جانب سے ہدایات دی جارہی ہیں ۔بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں جمعیت علماء پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کو اہم ذمہداری سونپی گئی ہے۔ سابق صوبائی وزیر نواب راشدعلی کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں جس میں قوم پرست پارٹیاں بھی شامل تھیں صاحبزادہ ابوالخیر زبیرکی قیادت میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ مسلم لیگ (ن) حیدرآباد میں دھڑا بندی کا شکار ہے مسلم لیگ (ن ) کے مر کزی رہنما سابق وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹا ئر ڈ غو ث علی شاہ جنہوں نے یہ اعلان کیاتھا کہ انہوں نے پارٹی کی صدارت چھوڑدی ہے ،پارٹی نہیں چھوڑی ، ان بلدیاتی انتخا ب میں سید غو ث علی شاہ اور ان کے رفقا ء کار  کے لیے کوئی فعال کردار نظر نہیں آرہاہے ۔ بلدیاتی انتخابات کی صورت میں بڑی گھمبیر صورتحال نظر آرہی ہے اس لیے اب الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کا اس سلسلے میں کیا کردار ہوگا ۔پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابا ت کے لیے اپنی بھر پور تیاریاں شروع کردیں ہیں اور انہو ں نے ہر علاقے میں پینلز بنانے شروع کر دئیے ہیں  اے این پی نے بھی اپنے اپنے علاقوں میں اجلاس شروع کر دئیے ہیں اور ہر علاقے میں کارکنوں کی لوگوں سے رابطہ کرنے کی مہم جاری  ہے ، جمعیت علماء اسلام نے بھی بلدیاتی انتخاب کے لیے اپنی تیاریاں شروع کردیں ہیں ۔