بلدیاتی امیدواروں سے توقعات باندھ لی گئیں

بلدیاتی امیدواروں سے توقعات باندھ لی گئیں

کسی بھی پارٹی میں دھڑے بندی اس میں نقصان کا باعث تو بنتی ہے، اس کے علاوہ  ایسی صورتحال میں عوام کے مسائل کا حل بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ سکھر کی سطح پر مختلف سیاسی پارٹیاں دھڑے بندی کا شکار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی سکھر میں دو گروپس میں تقسیم ہے۔ ایک گروپ سنیٹر اسلام الدین شیخ اور دوسرا گروپ قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کا ہے۔ 27دسمبر کو شہید بے نظیر بھٹو کی چھٹی برسی میں بھی سکھر ہائوس سے سنیٹر اسلام الدین شیخ، رکن قومی اسمبلی نعمان اسلام شیخ کی قیادت میں قافلے جبکہ سید خورشید احمد شاہ کی قیادت میں علیحدہ قافلے روانہ ہوتے تھے۔ برسی میں آنے والے سابق وزراء اراکین قومی اسمبلی اور پی پی پی رہنما بھی اسلام الدین شیخ اور سید خورشید احمد شاہ کے مہمان رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی سکھر میں دو گروپس کا شکار ہے۔ ضلع سکھر کی سطح پر سرور لطیف اپنے آپ کو پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع سکھر کے صدر اور حاجی اسلام مغل بھی اپنے آپ کو صدر کہلواتے ہیں۔ گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائد میاں نواز شریف کی 64ویں سالگرہ کی ایک تقریب سرور لطیف کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں مختلف رہنمائوں نے شرکت کی اور پارٹی کے صدر کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔ مقامی ہال میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حاجی اسلام مغل سردار شہزاد عاصی، امام الدین کھوسہ، دلاور خان کی قیادت میں وزیراعظم میاں نواز شریف کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ گذشتہ کئی ماہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن)  کی سیاست اندرونی اختلاف کا ہدف بنی ہوئی ہے۔ سید غوث علی شاہ کے پاکستان مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر جانے کے بعد سکھر سمیت پورے سندھ میں پارٹی ورکرز پریشان نظر آتے ہیں۔ مرکزی قیادت سندھ مسلم لیگ کو فعال بنانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کرے اور پارٹی میں موجود اختلافات کو دور کرے تو سندھ میں پاکستان مسلم لیگ مقبول ترین جماعت بن سکتی ہے۔ پارٹی کارکنان کا کہنا ہے کہ مرکز میں ن لیگ کی حکومت ہونے لیگ مقبول ترین جماعت بن سکتی ہے۔ پارٹی کارکنان کا کہنا ہے کہ مرکز میں ن لیگ کی حکومت ہونے کے باوجود ہمارے مسائل حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ پارٹی صدر میاں نواز شریف کو سکھر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدیداران کا باضابطہ اعلان کرنا ہو گا تاکہ ن لیگ سے محبت کرنے والے عوام الناس اور کارکنان کو یہ پتہ چل سکے کہ ان کی دادرسی کون کرے گا۔ 
ملک کے دیگر حصوں کی طرح سکھر میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ آئندہ منتخب ہونے والے نمائندوں سے عوام توقعات باندھ رہے ہیں کہ وہ روزمرہ کے شہری مسائل کو حل کرنے میں خصوصی دلچسپی لیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے سکھر میں ایک مرتبہ پھر تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔ حالیہ دنوں میں شروع ہونے والی مہم کو روک دیا گیا ہے۔ کمشنر سکھر کی ہدایت پر تجاوزات کے خلاف مہم صرف ان بازاروں میں شروع کی گئی جہاں متوسط طبقے کے تاجر کاروبار کرتے ہیں۔ لینڈ گرانٹ کے عملے  کے ذریعے  غریب آباد، نشتر روڈ، شالیمار روڈ اور دیگر بازاروں سے تجاوزات کو ہٹا دیا گیا ہے۔ سکھر کی بڑی تاجر تنظیموں نے انتظامیہ کو تجاوزات مہم میں تعاون کی یقین  دہانی کروائی تھی مگر ناگزیر وجوہات کے باعث یہ مہم ایک بار پھر روک دی گئی ہے جس سے بازار دوبارہ سے تنگ گلی کی صورتحال پیش کر رہے ہیں۔ تجاوزات کے باعث لوگوں کا پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ سکھر کے دل چوک گھنٹہ گھر پر گاڑیوں کی غیرقانونی پارکنگ کے باعث ٹریفک جام ہونا روز کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اکثر اوقات چند منٹوں کے سفر میں بھی آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار گاڑیاں پارک کر کے نوٹ بنانے کے چکر میں لگی رہتی ہے۔ سکھر کی ضلع انتظامیہ کو آئندہ شہر میں تجاوزات اور مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف اگر آپریشن شروع کرنا ہے تو اس سے قبل مکمل پلاننگ کی جائے۔