امیدوار جوش پکڑنے لگے‘ حلقہ بندیاں کالعدم!

امیدوار جوش پکڑنے لگے‘ حلقہ بندیاں کالعدم!

بلدیاتی انتخابات ہفتہ رفتہ کے دوران ٹاک آف دی ٹائون  بنے رہے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں بلدیاتی امیدواروں کی سرگرمیاں بام عروج پر پہنچی ہیں تو دوسری  طرف  ہائیکورٹ نے حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس ناخوشگوار صورتحال میں  اب نہیں کہا جا سکتا کہ بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے۔ دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں کا سیاست میں اہم ترین کردار ہوتا ہے لیکن پاکستان کا شمار ان بدقسمت ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمشن کے علاوہ  بھی کوئی نہ کوئی طاقتور ادارہ سیاست میں دلچسپی ضرور رکھتا ہے اور یہ ادارہ کبھی حکومت، کبھی فوج اور کبھی کسی  دوسری شکل میں اثرانداز بھی ہو سکتا ہے۔
لگ بھگ سات ماہ پہلے ہونے والے  عام انتخابات ایک ایسی غیر جانبدار نگران حکومت اور آزاد الیکشن کمشن کے ذریعے   کروائے  گئے جسے عدلیہ اور فوج کی معاونت بھی حاصل تھی۔ افسوس کہ اس کے باوجود نتائج پر انگلیاں اٹھائی گئیں۔ مزید افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ جن لوگوں نے انگلیاں اٹھائیں اب وہ ہی بلدیاتی انتخابات عدلیہ کے ذریعے کروانا چاہتے ہیں۔ خدا جانے  جن  اداروں کے زیر انتظام  11   مئی کے عام  انتخابات پہلے ہی  اعتراضات کی زد میںہیں ، آئندہ بلدیاتی انتخابات بھی اگر وہ ہی کروائیں گے تو ان پر اعتبار کیوں کر ہو سکے  گا   ۔
رواں ہفتے لاہور میں پاکستان عوامی تحریک نے ایک مرتبہ پھر سیاست نہیں ریاست بچائو کا نعرہ لگا کر  شہر کے تاریخی مرکز ناصر باغ سے فیصل چوک اسمبلی ہال تک ریلی نکالی لیکن اس ریلی کی قیادت شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری کی بجائے ان کے صاحبزادے ڈاکٹر حسین محیّ الدین نے کی۔ شیخ الاسلام نے ریلی کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے کینیڈا سے خطاب کیا۔ ریلی میں ہزاروں لوگ شریک تھے اور ان کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ بلاشبہ یہ ریلی پچھلے ہفتے لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کی ناصر باغ سے ہائیکورٹ تک نکالی جانے والی ریلی سے بڑھ کر تھی جو تعداد میں بھی اور جذبات میں بھی اپنے جوبن پر تھی۔ ڈاکٹر طاہر القادری ہمیشہ سے ہی انقلاب کے داعی رہے ہیں اور اس ریلی سے خطاب میں انہوں نے اپنے خیالات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے آئین کی آرٹیکل 38 کے تحت انہوں نے پرامن انقلاب کے لئے تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ شیخ الاسلام نے حکمرانوں اور ان کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور اس ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنا کر دم لیں گے جس کے 35 صوبے ہوں گے۔ ان کی بعض باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مجموعی طور پر ان کی تقریر عوام کے حقوق اور بہتری کی خواہشات پر مبنی تھی۔ پاکستان عوامی تحریک کی اس ریلی سے یہ ثابت ہو گیا کہ شیخ الاسلام کے پیروکار ان پر فدا ہیں جس نے پاکستان عوامی تحریک کو ایک جاندار تنظیم میں تبدیل کر دیا ہے۔ شیخ الاسلام کی اس جماعت نے 1990ء اور 2002ء کے عام  انتخابات میں حصہ لیا مگر اسے بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ 2002ء کے انتخابات میں شکست کھانے کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ نظام کے تحت وہ اور اس کی جماعت کبھی برسر اقتدار نہیں آ سکتے۔ بددلی کے عالم میں انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کو ادارہ منہاج القرآن کی ذیلی تنظیم میں تبدیل کر دیا۔ حتیٰ کہ خود بھی قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر کینیڈا کی شہریت اختیار کر لی۔ دس گیارہ برس بعد بھی پاکستان میں ان کی آواز پر ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لبیک کہنے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ان کا دل چھوڑ جانا غلط تھا۔ پاکستان عوامی تحریک کو ادارہ منہاج القرآن کی ذیلی تنظیم بنانے کا اقدام غلط تھا۔ تحریک انصاف  2013ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کی ایک بڑی جماعت اور ایک صوبے خیبر پختونخواہ کی حاکم بن سکتی ہے تو ڈاکٹر طاہرالقادری بھی میدان مار سکتے تھے۔ تاہم اب بھی شیخ الاسلام ہمت کریں، انتخابی میدان میں اپنی پارٹی کو اتاریں تو بھارت کی عام   آدمی پارٹی کی طرح ان کی پاکستان عوامی تحریک بھی فاتح ہو سکتی ہے کیونکہ ڈاکٹر طاہرالقادری بہرحال ارونہ کیچر یوالی سے زیادہ اچھے لیڈر، مقرر اور منتظم ہیں۔