’’سرور گھر داری کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے‘‘

انٹرویو: مسرت قیوم
سخت محنت  سے اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کے ہنر اور دوسرے  لوگوں کی خدمت کرنے کے جذبے سے سرشار ’’محمد سرور چودھری‘‘  کا بطور ’’گورنر پنجاب‘‘  انتخاب نہایت احسن ہے۔ ’’بیگم پروین سرور‘‘  کا اپنے شوہر کی کامیابیوں میں نہایت اہم کردار رہا۔ ہم نے بیگم صاحبہ سے خصوصی وقت لے کر سنڈے میگزین کے لئے انٹرویو لیا جو نذر قارئین ہے۔
سوال: انسان کی ابتدائی درسگاہ اس کا اپنا گھر ہوتا ہے آپ بتائیے والدین میں کس کا آپ کی تربیت میں کردار رہا؟
بیگم پروین سرور: میں چھ سال کی عمر میں سکاٹ لینڈ گئی پہلی مرتبہ والد صاحب کو دیکھا۔ قرآن پاک میں نے والد محترم اور بڑی بہن سے پڑھا ہمارے گھر میں روزوں اور عید کے تہوار کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔  پہلی دفعہ سالن پکانا ابو نے سکھایا تھا والد کی زیر نگرانی آٹا بھی گوندھا،  انہوں نے بہت  تعریف کی اور کہا کہ آج سے کھانا تم نے بنانا ہے۔
سوال: ہر انسان کی زندگی میں کچھ نہ کچھ بننے کی خواہش ہوتی ہے آپ کیا بننا چاہتی تھیں؟
بیگم پروین سرور: میں پہلے ایئرہوسٹس  بننا چاہتی تھی۔
سوال: مغربی ماحول میں رہتے ہوئے آپ کے والدین نے اپنی اولاد کو مشرقی روایات کے ہنر سے آراستہ کیا ایسا کس طرح ممکن ہوا؟
بیگم پروین سرور: ہمارے ساتھ ابو کا منہ بولا بیٹا بیوی سمیت لندن گیا ہوا تھا ہم اکٹھے 5 سال رہے اس کے علاوہ ہمارے ابو نے گھر کا ماحول بالکل مشرقی رکھا ہوا تھا۔ گھر میں سب کو پنجابی میں بات کرنے کی اجازت تھی، میرا سکول ڈریس سکرٹ اور پاجامہ تھا  یونہی گھر آتی تو ابو کہتے کہ فوراً  کپڑے بدلو۔  ابو مجھ سے کپڑے استری کرواتے،  جوتے پالش کرواتے،  کبھی کہتے کہ آج میرا کمرہ صاف کر دینا پھر ہمیشہ تعریف کرتے یعنی گھر گر ہستی سکھانے کا ایک خوبصورت طریقہ تھا۔
سوال: شادی کب اور کیسے ہوئی؟
بیگم پروین سرور:  والد صاحب دل کے مریض تھے، ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ کسی گرم ملک چلے جائیں ابو نے پاکستان کی سیٹ بک کروا لی۔ میں بھی ساتھ آئی سرور (گورنر پنجاب)  ہمیں لینے ایئرپورٹ آئے میں نے ان کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سبز رنگ کے کرتے میں ملبوس اور سر میں تیل لگا ہوا تھا۔  یہاں ایک دو رشتہ داروں نے میرے متعلق پوچھا۔ سرور کی والدہ نے بھی کہا ، مگر میری والدہ کا میرا اور سرور کی والدہ کا بیٹے کا رشتہ کہیں اور کرنے کا ارادہ تھا پھر سرور کی خواہش پر ہمارا رشتہ ہوگیا۔
سوال: آپ کے کتنے بچے ہیں؟
بیگم پروین سرور: میری ایک بیٹی فائزہ اور تین بیٹے عاطف،  عاصم اور انس سرور ہیں۔
سوال:  آپ دونوں میاں بیوی کی کتنی عادات ملتی ہیں اور کن چیزوں پر اختلاف ہوتا ہے؟
بیگم پروین سرور:  ہمارا روپے پیسے اور چیزوں کے اوپر کبھی جھگڑا نہیں ہوا صرف وقت کی کمی کبھی کبھار باہم تکرار کا باعث بن جاتی ہے۔ شروع میں دونوں دوکان پر اکٹھے  جاتے تھے پھر سرور کے سیاست میں آنے کے بعد معمول بدل گیا صبح نو بجے دفتر جاتے اور رات دس بجے آتے لوگوں کی  خدمت کا جذبہ  ہماری مشترکہ عادت تھی۔
سوال: شوہر کے گورنر بننے کی خبر ملنے کے بعد کیسا لگا؟
بیگم پروین سرور:  گورنر شپ کی آفر ملنے کے بعد سرور نے سب سے پہلے برطانوی پاسپورٹ واپس کیا رات کو کھانے پر سب فیملی اکٹھی ہوئی۔ مجھے صرف بچوں سے دوری کا احساس تھا مگر اس احساس پر وطن کی محبت غالب آ گئی اللہ تعالیٰ کے دیئے موقع اور ہر کام کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا سمجھ کر قبول کر لیتی ہوں۔
سوال: بطور بیگم گورنر کہلائے جانا کیسا لگتا ہے؟
بیگم پروین سرور:  بہت خوبصورت لگتا ہے مگر زیادہ مزہ لوگوں کے مسائل حل کر کے آتا ہے۔
سوال: آپ کی خوبصورت زندگی اور کامیاب سیاسی سفر میں کس کا کردار زیادہ ہے؟
بیگم پروین سرور:  جب ہماری منگنی ہوئی تو سرور نے ویزہ کے لئے اپلائی کیا ہوا تھا مگر تب سپانسر شپ کا قانون نہیں تھا مگر دو ماہ کے اندر ہی قانون بن گیا۔ یوں یہ رشتہ ہم دونوں کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا۔ شادی کے بعد کپڑے کے انتخاب سے لے کر برش پر ٹوتھ پیسٹ تک لگا کر دیتی تھی اور جب تک یہ برش کرتے، میں باتھ روم کے دروازے پر کھڑی ہو کر ان سے باتیں کرتی رہتی۔  برطانیہ میں الیکشن اناؤنس ہونے کے بعد انتخابی مہم کا دورانیہ چھ ہفتے پر محیط ہوتا ہے۔ میں نے ’’سرور‘‘   کی پوری انتخابی مہم چلائی نہ صرف مختلف قسم کے پمپفلٹس، کارڈز تیار کئے بلکہ سڑک پر کھڑے ہو کر  تقسیم بھی کئے۔  سٹریٹ  وائز مہم چلائی، فونز  پر پیغامات کے ذریعے بھی اپنا پیغام دوسروں کو پہنچایا۔  ایشین دفتر جانا پسند نہیں کرتے تھے سمجھتے تھے اس لئے سارا دن گھر پر چائے اور کھانے کا دور چلتا وہاں نہ کوئی ملازمہ تھی نہ مددگار،  اکیلی سارے کام کرتی حتیٰ کہ میڈیا نے لکھنا شروع کر دیا کہ ’’بیگم پروین سرور‘‘  … چودھری  سرور‘‘ کا بہترین اثاثہ ہیں۔
سوال: کوئی ایسی بات جو پوری ہو گئی؟
بیگم پروین سرور:  ہمیشہ کہتی تھی کہ پاکستان کو سرور جیسے نیک بندوں کی ضرورت ہے۔
سوال: چودھری  محمد سرور بطور شوہر؟
بیگم پروین سرور:   ایک مرتبہ میری بھانجی شاپنگ کر کے آئی۔ اس نے سامان دکھانا شروع کر دیا، آرائشی سامان کے علاوہ  ہیرے کا سیٹ دکھانے کے بعد مجھ سے پوچھا۔ آپ نے کوئی ڈائمنڈ نہیں لینا ؟  میں نے جواب دیا کہ سب سے بڑا ڈائمنڈ تو میرے پاس ہے (سرور کی صورت میں)  اس جواب پر میرے والد صاحب بہت خوش ہوئے۔ایک ان کی اور اچھی عادت ہے سرور گھریلو امور میں بے جا مداخلت نہیں کرتے۔