نئی پیش رفت: نہ نزلہ نہ زکام

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ویکسین بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے جو ہر قسم کے فلو، نزلہ اور زکام سے تحفظ فراہم کرے گی۔فلو کی وبا کی مختلف اقسام سامنے آتی رہتی ہیں اس لیے ہر سال اس کے لیے نئی ویکسین بنانی پڑتی ہیں۔امپیریل کالج لندن کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہر قسم کے فلو سے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین کا ’بلو پرنٹ‘ تیار کر لیا ہے۔یہ تحقیق سائنس کے جرنل کلِک ’نیچر میڈیسن‘ میں شائع ہوئی ہے۔  برڈ فلو، انسانی ناک سازگار نہیں۔فلو جسم میں موجود وائرس کی سطح سے نکلنے والی پروٹین کو تیزی سے متاثر کرتا ہے جس سے اس کی شکل بدل جاتی ہے اور مدافعتی نظام اسے پہچان نہیں سکتا۔تاہم وائرس کے اندر کا مواد فلو کی تمام اقسام میں تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے اندرونی حصے کو ہدف بنایا جائے تو ایک ایسی ویکسین تیار کی جا سکتی ہے جو ہر قسم کے فلو کا مقابلہ کر سکتی ہے۔انسان کے مدافعتی نظام کا ایک مخصوص حصہ جسے ’ٹی سیلز ‘ کہتے ہیں، کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس کے اندرونی حصے میں موجود پروٹینز کو پہچان سکتا ہے۔امپیریل کالج کی ٹیم نے اس مفروضے کو ٹیسٹ کرنے کے لیے 2009 میں پھیلنے والے سوائن فلو کا استعمال کیا۔تحقیق سے پتہ چلا کہ وائرس کے باہر کا حصہ مدافعتی نظام کے لیے ایک نیا تجربہ تھا لیکن اندرونی حصے سے اس کا دوسرے فلو وائرسوں میں پہلے بھی واسطہ پڑ چکا تھا۔تحقیق سے پتہ چلا کہ ایک مریض میں ٹی سیلز کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی اس میں فلو کی علامات اتنی ہی کم ہوں گی۔تحقیق کے سربراہ پروفیسر اجت لالوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک ویکسین کا بلو پرنٹ ہے۔ ہمیں مدافعتی نظام کے اس حصے کا پتہ ہے اور ہم نے وائرس کے اندرونی حصے میں ان اہم حصوں کی شناخت کر لی ہے۔ ان کو ویکسین میں شامل کیا جائے گا۔سچ یہ ہے کہ اس میں ابھی پانچ سال لگیں گے۔ ہمیں پتہ ہے کہ کیا کرنا ہے اور ویکسین میں کیا ہونا چاہیے اور اب ہم اسے بنا سکتے ہیں۔اس ویکسین کو بنانے میں ماضی میں تیار کردہ ویکسینز کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ استعمال کیا جائے گا، جیسا کے ایم ایم آر ویکسین، جو وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے مدافعتی نظام میں اینٹی باڈیز پیدا کرتی ہے۔دنیا میں ہر سال موسمی فلو سے ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پرانی ویکسینز کے مقابلے میں مکمل طور پر مختلف ٹی سیل ویکسین بنانا مشکل ہوگا۔ وائرس سے تحفظ کے لیے ٹی سیل کا ردعمل پیدا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ایک چیلنج ہوگا کہ اس کا اثر زیادہ دیر تک رہے۔لندن کی کوین میری یونیورسٹی کے پروفیسر جان آکسفرڈ کا کہنا ہے کہ ’ اس قسم کا ردعمل اتنا طاقتور نہیں ہو سکتا۔ اس سے فلو کی وبا کے تمام مسائل حل نہیں ہو جائیں گے لیکن یہ ویکسینز کی اقسام میں اضافہ ضرور ہوگا۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس تحقیق سے ایک موثر ویکسین بنانے تک کا سفر بہت لمبا ہوگا۔