میٹ بالز رائس

اجزائ: قیمہ آدھا کلو۔نمک حسبِ ذائقہ۔لال مرچ پاؤڈر حسبِ ذائقہ۔گرم مصالحہ پاؤڈر آدھا چائے کا چمچ۔لہسن ادرک پیسٹ دو چائے کے چمچ۔ہرا دھنیا حسبِ ضرورت۔پودینہ حسبِ ضرورت۔تیل ایک پیالی۔پیاز ایک عدد۔ٹماٹر دو عدد۔چاول ایک کلو۔(ہری مرچ چھ عدد (درمیان سے کٹ لگائیں۔ترکیب:قیمہ کو سِل پر ایک بار اور پیس کر اس میں نمک، لال مرچ پاؤڈر، گرم مصالحہ پاؤڈر، ایک چائے کا چمچ لہسن ادرک پیسٹ، ہرا دھنیا اور پودینہ ملا کر چھوٹے بالز بنائیں۔    سوس پین میں تیل گرم کرکے اس میں بالز ڈال کر فرائی کرکے الگ رکھ دیں۔پتیلی میں تیل گرم کریں اور پیاز کے سلائس کاٹ کر ڈال دیں۔سنہری مائل ہو جائیں تو اس میں ایک چائے کا چمچ لہسن ادرک پیسٹ ڈال کر اچھی طرح بھونیں۔اس کے بعد ٹماٹر ڈال کر بھونیں۔چاول دھو کر ڈال دیں اور اتنا پانی ڈالیں کہ چاول ڈوب جائیں۔ حسبِ ذائقہ نمک شامل کر دیں اور تیز آنچ پر پکائیں۔پانی خشک ہو جائے تو فرائی کی ہوئی میٹ بالز اور ہری مرچ ڈال دیں اور دس منٹ کے لیے دم پر رکھ دیں۔سرونگ ڈش میں نکال کر پودینہ کی چٹنی کے ساتھ سرو کریں۔مزے دار میٹ بالز رائس تیار ہیں۔
……٭٭٭٭٭٭٭……
زعفرانی ہانڈی پلاؤ
اجزائ: چکن آدھا کلو۔چاول دو کپ۔پسا ہوا لہسن آدھا چائے کا چمچ۔پسی ہوئی ادرک آدھا چائے کا چمچ۔پسی ہوئی سونف ایک چائے کا چمچ۔پسا ہوا گرم مصالحہ ایک چائے کا چمچ۔لونگ چھ عدد۔زعفران ایک چٹکی۔پیاز دو عدد۔تیل یا گھی آدھا کپ۔نمک حسب ذائقہ۔جائفل اور جاوتری حسب ذائقہ۔میوہ حسب پسند۔ترکیب: سب سے پہلے چاول صاف کرکے آدھے گھنٹے کے لیے بھگودیں۔اس کے بعد ایک دیگچی میں گھی گرم کرکے پیاز سنہری کریں۔آدھی پیاز نکال لیں، پھر اس میں چکن، لہسن، ادرک اور تمام اجزاء ڈال کر بھونیں۔بعد میں دو گلاس پانی ڈال کر پکنے کے لیے رکھ دیں۔چکن گلنے کے بعد چاول ڈالیں، پانی خشک ہونے کے بعد دَم پر رکھ دیں۔زعفران کو تھوڑے سے پانی میں بھگودیں۔سب سے آخر میں جاوتری، جائفل، زعفران اور تلی ہوئی پیاز اوپر ڈالیں۔    حسب پسند خشک میوہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔مزیدار پلاؤ تیار ہے۔
……٭٭٭٭٭٭٭……
ڈیپ فرائی چکن سینڈوچ
اجزائ:ریشہ کیا ہوا چکن ایک پیالی۔کدوکش کی ہوئی پنیر ایک پیالی۔بریڈ سلائس آٹھ عدد۔مایونیز آدھی پیالی۔مکھن حسبِ ضرورت۔ترکیب:چکن کو اچھی طرح دھو کر اس میں نمک اور کالی مرچ ڈال کر فرائی کرلیں۔پہلے بریڈ سلائس کو درمیان سے کاٹ کر رکھ لیں۔اس کے بعد چکن میں مایونیز شامل کرکے سلائس پر لگائیں اور پنیر بھی لگالیں۔پھر ایک فرائنگ پین میں مکھن ڈال کر سینڈوچز اچھی طرح فرائی کرلیں۔جب سینڈوچز فرائی ہو جائیں تو ٹشو پیپر پر نکال لیں۔گرما گرم سرو کریں۔
……٭٭٭٭٭٭٭……
بْھنی کلیجی
اجزائ:تیل آدھا کپ۔پسا ہوا لہسن ایک کھانے کا چمچ۔پسی ہوئی ادرک ایک کھانے کا چمچ۔چوکور کٹی ہوئی پیاز ایک عدد۔چوکور کٹے ہوئے ٹماٹر دو عدد۔پسا گرم مصالحہ آدھا چائے کا چمچ۔سوکھی میتھی ایک چائے کا چمچ۔ زیرہ ایک چائے کا چمچ۔کلیجی آدھا کلو۔کْٹی ہوئی ہری مرچ ایک کھانے کا چمچ۔ادرک ایک چائے کا چمچ۔کٹا ہوا دھنیا ایک چائے کا چمچ۔ترکیب:سب سے پہلے کڑاہی میں تیل گرم کریں پھر اس میں لہسن، ادرک اور پیاز ڈال کر ہلکا سا بھونیں۔جب پانی خشک ہونے لگے تو ٹماٹر اور تمام مصالحے ڈال کر دو یا تین منٹ تک مصالحہ پکنے دیں۔ کلیجی کو دھو کر جالی میں رکھ دیں تاکہ اس کا پانی نکل جائے پھر تیار کیے ہوئے مصالحے میں کلیجی ڈال دیں اور اسے دوبارہ بھونیں۔جب پانی خشک ہونے لگے تو دھیمی آنچ پر ڈھکنا رکھ کر تھوڑی دیر تک پکنے دیں۔زیادہ دیر تک نہیں پکائیں ورنہ کلیجی سخت ہو جائے گی۔جب تیل اوپر آجائے تو ہری مرچ، ادرک اور ہرا دھنیا ڈال کر اْتار لیں۔مزیدار بھنی کلیجی تیار ہے۔
……٭٭٭٭٭٭٭……
خشک میوے کھانے والے طویل عمر پاتے ہیں
ایک امریکی تحقیق کے مطابق خشک میوہ جات کھانے والے افراد کی عمر بظاہر طویل ہوتی ہے۔طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر خشک میوے کھانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔امریکی محققین کے مطابق ممکن ہے کہ خشک میوے کھانے والے افراد کا طرزِ زندگی صحت مندانہ ہو لیکن خشک میوے بھی ان کی طویل العمری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تاہم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔اس تحقیق کے دوران 30 برس کے عرصے میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد کا جائزہ لیا گیا اور پتہ چلا کہ جو لوگ باقاعدگی سے خشک میوے کھاتے رہے ان کے اس عرصے میں مرنے کے امکانات کم رہے۔اعداد و شمار کے مطابق وہ لوگ جو ہفتے میں ایک مرتبہ خشک میوے کھاتے ہیں ان کے ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں مرنے کے امکانات 11 فیصد کم تھے۔ہفتے میں چار مرتبہ میوہ کھانے والوں میں یہ شرح 14 فیصد اور روزانہ ایسا کرنے والوں میں 20 فیصد رہی۔اس تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر چارلس فْش کا کہنا ہے کہ ’سب سے واضح فائدہ دل کی بیماری سے ہلاکت میں 29 فیصد کمی تھی۔ اس کے علاوہ ہم نے کینسر سے ہلاکت کے خطرے میں بھی 11 فیصد کی قابلِ ذکر کمی دیکھی۔تاہم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والی سینیئر ماہرِ خوراک وکٹوریہ ٹیلر کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے میوہ جات کھانے اور دل کی بیماری سے ہلاکت کا ’یہ ایک دلچسپ تعلق ہے۔ ہمیں اس امر کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا میوہ جات ہی دل کی حفاظت کرتے ہیں یا اس میں ان افراد کی طرزِ زندگی کا بھی عمل دخل ہے۔