زیورات کیلئے ناک اور کان چھدوانا خواتین کا محبوب مشغلہ

عنبرین فاطمہ
 دنیا بھر میں ’’ناک اور کان چھدوانا‘‘ خواتین کا محبوب مشغلہ سمجھا جاتا ہے۔ مائیں بچپن میں ہی اپنی بچیوں کے  ناک کان چھدوا کر بالیاں ،کوکے اور نتھنی پہنا دیتی ہیں۔یوںبرصغیر پاک و ہند میں بھی یہ مشغلہ خواتین کی توجہ کا ہمیشہ سے ہی مرکز رہا ہے لڑکیاں خوشی خوشی ناک اور کان چھدواتی ہیں۔گزرے وقتوں میں ایک سے زائد مرتبہ کان اور ناک دونوں اطراف سے اوڈھنیوں کے علاوہ اندرون سندھ ،تھر اور دیگر قبائل کی خواتین چھدوایا کرتی تھیں بعد ازاں یہ رواج  وقت کے ساتھ ساتھ شہری معاشرت کا بھی حصہ بنتا گیا اور اب یہ چیز فیشن کی صورت اختیار کر چکی ہے۔لڑکیاں ایک ہی کان چھ چھ بار چھدواتی ہیں اور کانوں میں مختلف قسم کی بالیاں اور ٹاپس پہن کر خوشی محسوس کرتی ہیں۔جیسے جیسے زمانہ جدت اختیار کرتا گیا ویسے ویسے ناک اور کان چھیدنے کے طریقوں میں بھی جدت آتی گئی۔ایک وقت میں نوک دار اشیاء سے ناک اور کان چھید کر اس میں جانوروں کی ہڈیوں سے بنے زیورات ڈالے جاتے تھے پھر ایک وقت آیا جب سوئی کی مدد سے ناک کان چھید کر اس میں دھاگہ ڈالا جانے لگا۔پھر مشین سے ناک اور کان چھدوانے کا دور آیا۔ناک اور کان کے چھیدنے کے انداز اور طریقہ کار پرہمیشہ سے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیںاور کہا جاتا ہے کہ ناک اور کان چھیدتے وقت صاف ستھرائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اورآج یہ چیز ہیپاٹائٹس بی ،سی اور ایچ آئی وی ایڈز پھیلنے کا موجب بن رہی ہے۔حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر ایک تحقیق ہوئی جس کے نتائج بتاتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ ناک اور کان چھدوانے میں بے احتیاطی ہے۔حجاموں کی وجہ سے بھی اس طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔حجامت میں استعمال ہونے والے تیز دھار آلات کا استعمال بھی نامناسب انداز سے کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک سے دوسرے کو بیماریاں منتقل ہوتی جاتی ہیں۔کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو خون کے ذریعے پھیلتی ہیں جیسے ہیپاٹائٹس بی،سی اور ایچ آئی وی ہے یہ بیماریاں اگر کسی کو ہوں تو اس کے خون میں جراثیم بھی آجاتے ہیں۔جب ایسے مریض کو سوئی لگائی جاتی ہے تو وہ جراثیم سوئی کے ساتھ لگ جاتے ہیں اور وہی سوئی اگر کسی دوسرے مریض کو لگا دی جائے تو اس میں جراثیم منتقل ہوجاتے ہیں۔ناک کان چھیدنے والے اس چیز کا بھی انتظار نہیں کرتے کہ سوئی سوکھ جائے یا اتنی زحمت بھی نہیں کرتے کہ سوئی کو گرم پانی سے نکال کر کسی دوسرے کے لئے استعمال کی جائے۔اسی قسم کی غفلت انسانوں کو بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔اس کے علاوہ جسم پر نقش و نگار جس کو ’’ٹیٹوز‘‘ کہتے ہیں وہ بھی بنوانا فیشن کی صورت اخیتار کر چکا ہے اس سے بھی ہیپاٹائس اور ایچ آئی ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے۔ناک اور کان چھدوانا ایک خوبصورت روایت ہے لیکن ناک اور کان چھدوانے کا بے ڈھنگا عمل اس سے لوگوں کو بدزن کر رہا ہے ۔اس خوبصورت فیشن کو ہرلڑکی اپنانا چاہتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ناک اور کان چھیدنے کے بغیر لڑکی کا سجنا سنورنا ادھورا سا لگتاہے۔اس روایت کی پیروی ضرور کریں ،ناک کان ضرور چھدوائیں لیکن اس بات کی تسلی کرلیں کہ جہاں سے آپ ناک کان چھدوا رہی ہیں وہاں صاف ستھرے آلات کا استعمال ہورہا ہے ۔بہتر حل یہ ہے کہ آپ ناک اور کان چھیدنے کے لئے بازار سے سرنج یا ضروری آلات خودخرید کر لے جائیں تاکہ آپ کو تسلی رہے کہ جن چیزوں سے آپ کے ناک کان چھیدے جارہے ہیں وہ صاف ستھرے ہیں اور ناک اور کان چھیدنے کے بعد اپنے سامنے ان آلات کوضائع کروائیں تاکہ کسی اور کیلئے استعمال نہ کئے جا سکیں۔ہم اگر ان معاملات میں تھوڑی بہت احتیاط کر لیں تو بہت ساری سنگین بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ناک اور کان چھیدوانے کے بعد مناسب احتیاط کریں کانوں یا ناک میں پہنی ہوئی چیز بالوں ،دوپٹے یا بستر میں نہ الجھنے دیں اس سے زخم بننے اور بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اگر کسی بھی وجہ سے کوئی زخم بن جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور جلد سے جلد اس کیلئے دوا کا انتظام کریں۔