توبہ کی ضرورت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
توبہ کی ضرورت

حجتہ الاسلام امام محمد غزالی رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں :۔
واضح رہے کہ توبہ کرنا اورحق تعالیٰ سے رجوع کرنا مریدانِ حق اوربندگانِ الٰہی کا قدمِ اولین ہے، (جوراہِ حق میں اُٹھایا جاتا ہے )۔اس لیے کہ روزِ ازل سے لے کر ابدتک گناہوں سے پاک رہنا توصرف فرشتوں کا کام ہے۔ اورساری عمر غرقِ گناہ رہنا اورمخالفتِ حق پر کمر بستہ رہنا شیطان کا پیشہ ہے اور (ان دونوں کے بین بین رہتے ہوئے )گناہوں کو ترک کرکے تائب ہونا اورحق تعالیٰ سے رجوع کرنا آدم علیہ السلام اور اولادِ آدم علیہ السلام کا شیوہ ہے اورسچ تو یہ ہے کہ جس آدمی نے توبہ کرکے گزشتہ گناہوں کی تلافی وتدارک میں سعی کی، اس نے گویا (اپنے جدِّا مجد ) حضرت آدم علیہ السلام سے اپنی نسبت درست کرلی اور جس نے آخر عمر تک گناہ ومعصیت پر اصرار کیا ، اس نے گویا شیطان سے اپنا رشتہ اُستوار کیا اوراسی کو مضبوط ترکرنے میں لگارہا ۔
لیکن تمام عمر محوِ عبادت رہنا آدمی کے لیے ممکن بھی نہیں کیونکہ ناقص وبے عقل ہونا اس کی تخلیق وآفر ینش میں داخل ہے (یعنی اسے پیدا ہی اس طرح کیاگیا ہے کہ لغزش وعصیان اس سے سرزد ہوسکتے ہیں)یہ سب سے پہلے تو شہوت یعنی خواہش کو لے لیجئے کہ خالص شیطانی آلہ ہے اورانسان پر اسے مسلط کردیا گیا ، اوروہ عقل جو شہوت کی دشمن ہے اورخالص فرشتوں کا جوہر ہے ، اسے پیدا ہی بعد میں کیا جبکہ شہوت اپنا تسلط جماچکی تھی اورانسانی سینے کے قلعے پر فتح پاچکی تھی اورنفس کو بھی اس سے خاصا اُنس پیدا ہوچکا تھا، بلکہ وہ اس کا عادی اورخوگر ہوچکا تھا اورایک طرح کی محبت ان دونوں کے درمیان پیدا ہوچکی تھی پس جب عقل کا ظہور ہواتو اس کے لیے یہ لازم ٹھہراکہ توبہ اورمجاہدہ کی قوت سے اس قلعہ کو فتح کرے اورشیطان کی غلامی اورنفس کی بالادستی سے اسے نجات دلائے پس تو بہ عام آدمیوں کی ضرورت اورسالکوں کا قدمِ اول (یعنی ضرورتِ خاص )ہے اوراس کے بعد جب نورِ عقل اورروشنی شرع کے ذریعے سے بیداری حاصل ہوجائے تو غلط راہ سے صحیح راہ پر لایا جاسکے تو گویا توبہ ہی ایک ایسا اہم ترین فریضہ ہے کہ بجائے خود تمام فرائض کا سردار ہے اس لیے کہ اس کا مطلب ہی بے راہروی کو چھوڑ کر سیدھی راہ پر آجانا ہے۔یادرہے کہ توبہ کا حکم حق تعالیٰ کی طرف سے ہربندے کے لیے ہے ۔
ارشادہوا کہ ”اے مسلمانو! (تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہوگئی ہو تو)تم سب اللہ کے سامنے توبہ کروتاکہ تم فلاح پاﺅ“(سورہ نور ۳۱)یعنی نجات کے امید واروں کو نجات توبہ ہی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے۔(کیمیائے سعادت)