شانِ عفو

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
شانِ عفو

شعب ابی طالب میں تین سالہ محصوری کے دوران قریش کی کوشش یہ رہی کہ مسلمانوں تک کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پہنچے ۔مکہ میں غلہ یمامہ سے آتا تھا۔ یمامہ کے رئیس ثمامہ بن اثال نے ایسا انتظام کیا کہ یمامہ کے غلے کا ایک دانہ بھی شعب ابی طالب تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ 

ہجرت کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ثمامہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیاگیا ۔آپ نے حکم دیا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیا جائے۔ ثمامہ نے بڑی لجاجت سے کہا:اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اگر تم مجھے قتل کروگے تو یہ غلط نہ ہوگا ۔بلاشبہ میں اسی کا مستحق ہوں ۔ اگر احسان کروگے تو ایک شکر گزار پر احسان ہوگا۔ اورفدیہ کے بدلے میری رہائی ہوسکتی ہے ،تو میں زرِ فدیہ اداکرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اورمسجد سے تشریف لے گئے۔ دوسرے دن ثمامہ نے پھر یہی بات کی لیکن آپ نے سکوت اختیار فرمایا۔تیسرے دن جب اس نے یہ بات کی توآپ نے حکم دیا،’’اسے آزاد کردو۔‘‘
ثمامہ کو اپنی اسلام دشمنی ، ظلم اورزیادتی کا اچھی طرح علم تھا۔ اسے بڑی سخت سزا کا اندیشہ تھا۔ لیکن خلاف تو قع رہائی سے اسے بڑی حیرت ہوئی اس لطف وکرم اورعفو ودرگزر سے بڑا متاثر ہوااور اسی وقت سچے دل سے کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا اورگریہ کناں ہوکر حضور علیہ الصلوۃ التسلیم کی خدمت میں عرض کیا۔
یا رسول اللہ !آج سے پہلے مجھ سے بڑھ کرآپ کا دشمن کوئی نہیں تھا، لیکن اب آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی اورمحبوب نہیں ہے۔ اسلام کو میں بدترین مذہب سمجھتا تھا لیکن آج یہ میرے نزدیک بہترین دین ہے۔ مجھے مدینہ سے سخت نفرت تھی لیکن آج اس سے زیادہ پسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی اور نہیں ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعدحضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ گئے تو قریش نے انھیں بڑا لعن طعن کیا اورطعنہ دیتے ہوئے کہا، شاید تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی، جو تونے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کا دین اختیار کرلیا ہے۔ ثمامہ نے یہ سنا تو بڑے غضب ناک ہوئے اورکہا اچھا یہ بات ہے تو سنو! خد ا کی قسم اب رسول اللہ کی اجازت کے بغیر غلہ کا ایک دانہ بھی یمامہ سے یہاںنہیں آئے گا۔ انھوں نے مکہ والوں کو غلہ کی ترسیل روک ، کچھ ہی دنوں میں وہاں غلے کا کال پڑگیا۔ قریش کی طبیعت صا ف ہوگئی،انھوں نے ایک وفد سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںبھیجااور گزارش کی کہ سب مرد وزن ،بچے بوڑھے دانے دانے کو ترس گئے ہیں، آپ مہربانی فرمائیں،اورثمامہ کوغلے کی ترسیل کھولنے کا حکم دیں۔حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست قبول فرمالی اورثمامہ کو بندش اٹھانے کا حکم دے دیا۔