دائمی ثمرات

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

٭حضرت یعلی بن شدادبیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ واقعہ سنایا،حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی اس مجلس میں موجود تھے ، انھوںنے بھی اس واقعہ کی تصدیق فرمائی میرے والد گرامی نے فرمایا:ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے ، آپ نے ہم سے استفسار فرمایا :تمہارے درمیان کوئی اجنبی یعنی دیگر اہل کتاب میں سے تو نہیں ہیں۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ نہیں ، اس پر حضور نے ارشادفرمایا:اچھا یہ دروازہ بند کردوپھر آپ نے فرمایا:اپنے ہاتھ اوپر اٹھالواورکہو لاالہ الااللہ چنانچہ ہم نے کچھ دیر( حضو رکی معیت میں) اپنے ہاتھ اٹھائے رکھے،پھر حضور نے اپنے ہاتھ نیچے کیے اورارشادفرمایا:الحمد اللہ !اے اللہ کریم تو نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا اوراس پر ایمان لانے کا حکم دیا اوراس پر تو نے جنت کا وعدہ بھی فرمایااوربے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا،پھر ارشادفرمایا:غور سے سنو!تمہیں بشارت ہو کیونکہ اللہ نے تمہاری مغفرت فرمادی ہے۔(احمد ، طبرانی،ہیثمی، بزار)
٭حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :لاالہ الا اللہ تسلیم کرنے والوں میں سے کچھ لوگ اپنی غلطیوں کی وجہ سے جہنم میں چلے جائیں گے تو لات عزی کے ماننے والے بت پرست ان سے کہیں گے کہ جب تم بھی ہمارے ساتھ جہنم کی آگ میں داخل ہوگئے ہو تو تمہیں لاالہ الااللہ کہنے کا کیا فائدہ ہوا۔اس پر اللہ رب العزت کو مسلمانوں کے حق میں جلال آجائے گااوراللہ کریم انہیں وہاں سے نکال کر نہرحیات میں ڈال دیں گے۔جس کی وجہ سے ان کے جسم جہنم کی جھلسن سے ایسے صاف ہوجائیں گے جیسا کہ چاند گرہن سے نکل کرنکھرجاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔اہل جنت انہیں (خوش طبعی سے )جہنمی کے نام سے پکاریں گے۔(طبرانی)
٭امام ابن کثیر کہتے ہیں ایک روایت میں ہے کہ چونکہ ان کے چہرے پر کچھ سیاہی ہوگی اس لیے یہ لوگ جنت میں جہنمی کے نام سے پکارے جائیں گے۔وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب غفور تو ہمارا یہ نام ختم کردے ، اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم دیں گے وہ اس نہر میں نہائیں گے تو وہ سیاہی بھی زائل ہوجائے گی اوران کا یہ نام ختم ہوجائے گا۔(تفسیر ابن کثیر)
٭حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: وہ شخص فلاح پاگیا جسے اسلام کی ہدایت مل گئی ، بقدر کفایت روزی مل گئی اور وہ پھر اس پر قناعت پسند بھی بن گیا ۔(طبرانی)