بے مثال معافی

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

رمضان المبارک سن ۸ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا عزمِ صمیم کرلیا ،تیاری کے دوران اس امر کا خصوصی انتظام کیا گیاکہ اہل مکہ کو اس تیاری اور لشکر کی روانگی کی خبر نہ ہوسکے،لیکن ایک بدری صحابی حاطب ابن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ پر اپنے خاندان والوںکے بارے میں اندیشے غالب آگئے ،انھوںنے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا جس میں انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے مطلع کیاگیا،انھوںنے لکھا ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر حملہ کرنے کے لیے متوجہ ہوئے ہیںمیں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر حضور تنہابھی تم پر چڑھائی کرتے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد فرماتا اور اپنے وعدے کو پورا کرتا،بے شک اللہ تعالیٰ ہی اپنے نبی کا مددگار اور دوست ہے۔“انھوںنے ایک عورت کی خدمات حاصل کیں ،اس نے خط کو اپنی مینڈھیوں میں چھپالیا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب کو مطلع فرمادیا۔ آپ نے حضرت علی ،زبیر بن عوام اورمقداد بن اسود کو طلب فرمایا اورحکم دیا کہ فوراً روانہ ہوجاﺅ، جب تم ”روضہ خاخ “کے مقام پر پہنچو گے تو تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی ،اس کی تلاشی لینا ،اس سے ایک خط برآمد ہوگا وہ لے آﺅ۔یہ حضرات بجلی کی سرعت سے روانہ ہوئے اور اس عورت کو جالیا،اسے اونٹ سے اتارا ،اس کے سامان کی تلاشی لی لیکن خط نہ ملا،حضرت علی نے اس عورت کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا:”خدا کی قسم ! اللہ کے رسول نے ہرگز غلط بیانی نہیں کی ،تمہارے پاس یقینا وہ خط ہے ،بہتر ہے کہ وہ خط ہمارے حوالے کردو کہیں ہمیں کوئی ناگوار طریقہ اختیار نہ کرنا پڑے“عورت نے وہ خط آپ کے حوالے کردیا ۔وہ خط حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے حاطب کو طلب فرمایا ،انھوںنے عرض کیا:یارسول اللہ !بخدا اللہ اور اس کے رسول پر میرا پختہ ایمان ہے،میں ہرگز مرتد نہیں ہوا،میرا مکہ میں کوئی قریبی رشتہ دار نہ تھا جو ان حالات میں میرے اہل وعیال کی خبرگیر ی کرتا ،میںنے یہ خط لکھ کر ان پر ایک احسان کیا ہے تاکہ وہ اس احسان کے بدلے میرے اہل وعیال کا خیال رکھیں۔آپ نے ارشادفرمایا:حاطب نے تمہیں سچی بات بتادی ،حضرت عمر نے حضرت حاطب کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا :اللہ تجھے ہلاک کرے،حضور نے مدینہ کے راستوں پر پہرہ دار مقرر کردیے تھے ،تاکہ اہل مکہ کو ان تیاریوں کے بارے میں کوئی خبر نہ ملے اورتم انھیں خط لکھ کر اطلاع دے رہے ہو۔پھر انھوںنے حضور سے عرض کیا کہ مجھے اجاز ت دیں تاکہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔آپ نے فرمایا :حاطب بدری ہے اور اللہ نے اہل بدر کے تمام گناہ معاف کردیے ہیں،یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور انھوںنے عرض کیا اللّٰہُ وَرَسُو±لُہُ اَع±لَمُ۔اللہ اکبر!اگر حاطب کی غلطی معاف ہوسکتی ہے تو کوئی خطا کار ایسا نہیںجسے معاف نہ کیا جاسکے۔