حکمران اوراسکے نامزد عہدیدار

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
حکمران اوراسکے نامزد عہدیدار

سوید علیہ الرحمۃ کہتے ہیں ،امیر المومنین حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت بشر بن عاصم کو ہوازن کا عامل مقر ر کیا،لیکن حضرت بشر وہاں نہ گئے۔جب حضرت عمر سے ان کی ملاقات ہوئی تو آپ نے ان سے پوچھا:تم ہوازن کیوں نہیں گئے۔کیاہماری سمع وطاعت تمہارے لیے ضروری نہیں ہیں؟حضرت بشر نے کہا :کیوں نہیں!لیکن میںنے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسے مسلمانوں کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا گیا تو اسے قیامت کے دن لاکر جہنم کے پل پر کھڑاکردیا جائے گا،اگر اس نے اپنی ذمہ داری کو بطریق احسن اداکیا ہوگا تو وہ نجات پاجائے گااور اگر اس نے اپنی ذمہ داری صحیح طورپر نہ نبھائی ہوگی تووہ پل اسے لے کر ٹو ٹ جائے گااوروہ ستر برس تک جہنم میںگرتا چلاجائے گا۔حضرت عمر یہ سن کر بہت پریشان اورغمگین ہوئے اوروہاں سے چل دیے ،راستے میں ان کی ملاقات حضرت ابو ذر غفاری سے ہوئی ،انھوںنے استفسار کیا کہ کیابات ہے ؟میں آپ کوکچھ پریشان خاطر اوراداس دیکھ رہا ہوں۔حضرت عمر نے فرمایا:میں پریشان اوررنجیدہ کس لیے نہ ہوئوں جبکہ میںنے بشر بن عاصم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشادسن لیاہے۔
حدیث مبارکہ سن کر حضرت ابوذر غفاری نے کہا :کیا آپ نے اسی مضمون کی دوسری حدیث نہیں سنی ؟آپ نے فرمایا : نہیں !حضرت ابو ذر نے کہا:میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کو ذمہ دار بنائے گا اسے قیامت کے دن لا کر جہنم کے پل پر کھڑا کردیا جائے گااگر اس کا انتخاب ٹھیک تھا تو نجات پاجائے گا اوراگر اس نے کسی نااہل اوربددیانت کو عہدہ دیا تھا توپل اسے لے کر ٹو ٹ پڑے گااوروہ ستر برس تک جہنم میں گرتا چلاجائے گااوروہ جہنم سیاہ اورتاریک ہے۔ان دونوں حدیثوں میں سے کس حدیث کو سننے سے آپ کے دل کو زیادہ اندیشہ لاحق ہوا ہے۔آپ نے فرمایا:دونوں کے سننے سے ۔لیکن ذرا فرمائیے جب خلافت میں ایسا زبردست خطرہ ہے تو اسے کون قبول کرے گا ۔حضرت ابو ذر نے فرمایا:اسے وہی قبول کرے گا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس کی ناک کاٹنے اور اس کے رخساروں کو زمین پر رگڑنے کا ارادہ کرلیاہو(یعنی اسے ذلیل ورسوا کرنا مقصود ہو)۔بہر حال ہماری معلومات کے مطابق آپ کی خلافت میں خیر ہی خیر ہے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اس خلافت کا ذمہ دار اورعہدیدار کسی ایسے شخص کو بنادیں جو عدل وانصاف سے کام نہ لے تو آپ بھی اس گناہ سے بچ نہ سکیں گے۔(کنزالعمال،طبرانی،دار قطنی)