نصر تِ الٰہیہ

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
نصر تِ الٰہیہ

حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے ساتھیوں نے شعب ابی طالب میں محصوری اوردشواری کے تین سال گزارے، تین سال گزرے تو قدرتِ خداوندی کاایک خوبصورت اظہار سامنے آیا۔

قریش نے قطعِ تعلقی کے جس معاہدے پر اتفاق کیاتھا،اسے بڑی حفاظت سے خانہ کعبہ کے اندر آویزاں کردیا تھا۔ تاکہ وہ لوگوں کی دسترس سے محفوظ رہے ،لیکن وہ اسے اللہ قادروقدیر کی قدرت واختیار سے محفوظ نہیں رکھ سکے ،اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس پر دیمک کو مسلط کردیا۔ جس نے ظلم وستم کی تمام دفعات کو چاٹ لیا۔لیکن جہاں جہاں اللہ کا اسم مبارک تھا، وہ صحیح اور سلامت رہا ۔اللہ رب العزت نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راز سے آگاہ فرمادیا۔ آپ جناب ابو طالب کے پاس تشریف لے گئے اورانھیں مطلع فرمایا کہ جو معاہدہ قوم نے بحفاظت کعبہ کے اندر آویزاں کیا ہے اس کی ساری دفعات کو دیمک نے چاٹ کر صاف کردیا ہے، لیکن جہاںجہاں اللہ کریم کا اسم گرامی درج ہے وہ جگہ محفوظ ہے ،جناب ابو طالب کو یہ بات سن کر بڑی حیرت ہوئی،کہ جو دستاویزیہاں سے بہت دور بڑی احتیاط سے غلافوں میں لپٹی ہوئی رکھی ہے اورجس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں آپ کو کیسے اطلاع مل گئی انھوں نے بڑے استعجاب سے پوچھا کیا یہ بات آپ کے رب نے بتائی ہے۔ حضور نے ارشاد فرمایا :بے شک! چچانے کہا قسم ہے ،آسمان پر تابندہ تاروں کی آپ کے کلام میں کبھی غلط بیانی نہیں پائی گئی۔
چنانچہ وہ قبیلہ کے چند افراد کو ہمراہ لے کر سیدھے حرم میں پہنچے ۔ قریش سمجھے کہ یہ طویل محاصرے سے تنگ آگئے ہیں اورصلح صفائی کے لئے آئے ہیں ۔جناب ابوطالب نے کہا’’اے گروہ قریش اس طویل مدت میں بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں ، جن کے بارے میں ہم تمہیں نہیں بتاسکتے ،تم اس صحیفہ کو باہرلے آئے ممکن ہے، ہمارے اورتمہارے درمیان مصالحت کی کوئی صورت سامنے آجائے۔ قریش فوراً اٹھے اورکعبہ کے اندر گئے اوراس دستاویزکو لے آئے۔اور جناب ابوطالب سے کہا اب وقت آگیا ہے کہ تم لوگ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )کی اعانت سے باز آجائو ۔جناب ابو طالب نے کہا آج میں ایک حل لے آیا ہوں۔ میرے بھتیجے نے مجھے ایک خبر دی ہے اور وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتاکہ جو دستاویز تمہارے ہاتھ میں ہے اسے دیمک نے چاٹ لیا ہے سوائے اسم ’’اللہ ‘‘ کے۔
سنو اگر اس کی یہ بات غلط ہوئی ہم اسے تمہارے حوالے کردیں گے لیکن اگر سچ ہوئی تو تمہیں اپنے طرزعمل پر نظرِثانی کرنی ہوگی۔جب اس صحیفہ کو کھولا گیا توحضور کی بات حرف بحرف صحیح نکلی ۔ لیکن وہ بدبخت کہنے لگے اے طالب ! یہ تمہارے بھتیجے کے جادو کا کرشمہ ہے۔ لیکن اللہ نے چند سعید لوگوںکو توفیق دی اورانھوں نے یہ معاہدہ چاک کردیا۔